انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں ایل او سی کے قریبی ضلع کپوارہ کے رہنے والے محمد یاسین گنائی اپنے دو زخمی بیٹوں اور بیمار بیوی سمیت پچھلے پانچ روز سے شمالی انڈیا کے شہر شملہ میں کرائے پر لیے ایک کمرے میں قیدیوں کی طرح رہ رہے ہیں۔
سردیوں کے دوران شمالی ریاستوں میں شال بیچنے والے یاسین کہتے ہیں کہ ’باہر جائیں گے تو ڈر لگتا ہے دوبارہ حملہ نہ ہو جائے، جو خریداد اُدھار لے چکے ہیں ان سے وہ واپس بھی نہیں لے سکتے، کام تو ٹھپ ہو کر رہ گیا، اب جان ہی بچتی ہے تو کافی ہے۔‘
28 جنوری کے روز یاسین کا 18 سالہ بیٹا تابش گنائی اپنے بڑے بھائی دانش گنائی کے ہمراہ شالوں کی گٹھڑی لے کر شملہ کی قریبی ریاست اتراکھنڈ کے دارالحکومت دہرادُون اس اُمید کے ساتھ روانہ ہوئے کہ والد کے وہاں پہنچنے پر وہ اچھی کمائی کر چکے ہوں گے۔
خود یاسین مزید مال خریدنے دوسرے شہر گئے تھے۔ دہرادُون کے وکاس نگر میں دونوں نے دوپہر تک کام کیا اور جب بھوک لگی تو ایک دُکان سے کچھ کھانے کے لیے خریدنا چاہا۔
تابش کا کہنا ہے کہ دکاندار زور سے چلّایا کہ ’تو کشمیری مسلمان ہے‘۔ اس کے بعد لوہے کی سلاخ سے دونوں پر وار کیا اور بعض دیگر افراد نے بھی مارپیٹ میں حصہ لیا۔
یاسین کا کہنا ہے کہ ’چھوٹے بیٹے کے سر میں 12 ٹانکے ہیں، اور کندھے میں شدید فریکچر ہے۔‘
’دانش کا سر بچ گیا تاہم ٹانگوں اور بازووں میں گہر ی چوٹیں آئی ہیں لیکن تابش کے سر پر مہلک چوٹ لگی اور کندھے میں فریکچر ہے۔‘
اتراکھنڈ پولیس کے آئی جی سنیل کمار مینا نے اس حملے میں ملوث دکاندار کی شناخت سنجے یادو کے طور پر ظاہر کر کے اسے ’معمولی جھگڑا‘ قرار دیا۔
مینا نے ایک بیان میں کہا کہ ’کوئی ٹارگٹ منتخب نہیں کیا گیا تھا، یہ ایک معمولی جھگڑا تھا، یہاں تو سینکڑوں کشمیری ہیں، وہ تو محفوظ ہیں۔ یہ بات غلط ہے کہ کسی کو مذہب، ذات یا علاقائی پہچان کی وجہ سے ہدف بنایا جا رہا ہے۔‘
پولیس نے یادو کو گرفتار کر کے ’امن و قانون میں خلل ڈالنے‘ کا مقدمہ درج کیا ہے۔
یاسین گنائی کہتے ہیں کہ ’بیمار ہونے کی وجہ سے میں بیوی کو بھی ساتھ لاتا ہوں۔ وہ سردیوں میں وہاں نہیں رہ سکتی۔ حملے کے وقت مچی بھگدڑ میں میرے بچوں کی تحویل سے 22 ہزار کی نقدی اور 60 ہزار سے زیادہ مالیت کی شال بھی غائب ہو گئیں۔ اب میں کیا کہوں کس نے اُڑا لیے۔‘
یاسین کے بیٹے تابش کا کہنا ہے کہ ’ہم ہاتھ میں پیسے لیے دکاندار سے بار بار چِپس اور کوک دینے کے لیے کہہ رہے تھے لیکن وہ فون پر مصروف تھا، پھر میں نے اپنے بھائی سے کشمیری میں بولتے ہوئے کہا کہ کہیں اور سے لیتے ہیں۔ جب دکاندار نے ہمیں کشمیری میں بات کرتے سنا تو اسے بہت غصہ آیا اور لوہے کی سلاخ اُٹھا کر ہم پر برس پڑا۔ دکاندار کے ساتھ ساتھ ایک آدمی اور ایک عورت نے بھی ہمیں مارا۔‘
تابش کا کہنا ہے کہ سنجے یادو غصے سے کہنے لگا ’یہ کشمیر نہیں اتراکھنڈ ہے۔‘ تابش کہتے ہیں ’دو منٹ کے لیے لگا وہ مجھے مار ہی ڈالے گا۔‘
آئی جی مینا کا کہنا ہے کہ سنجے یادو کو گرفتار کیا گیا ہے اور جن لوگوں نے اس ’گڑبڑ‘ میں حصہ لیا ان کو بھی حراست میں لیا جائے گا۔
یہ پہلا واقعہ نہیں
کشمیری تاجروں، شال فروشوں اور طلبا پر اس طرح کے حملے سنہ 2019 میں پلوامہ کے خودکش حملے کے بعد بھی ہوئے تھے۔ اس حملے میں نیم فوجی قوت سی آر پی ایف کے 40 سے زیادہ اہلکار مارے گئے تھے۔
کشمیر طلبا انجمن کے سربراہ ناصر کھویہامی کے مطابق اُس وقت شمالی ریاستوں میں ایسے 200 واقعات پیش آئے تھے۔
پچھلے سال مئی میں پہلگام حملے اور نومبر میں لال قلعہ کے باہر خودکش بم دھماکے کے بعد بھی درجنوں ایسے واقعات رونما ہوئے۔ صرف ہماچل پردیش میں 17 ایسے واقعات میں درجنوں کشمیریوں کو ہراسانی اور مار پیٹ کا سامنا رہا۔
ناصر کھویہامی بتاتے ہیں کہ بعض معاملوں میں پولیس نے کچھ افراد کو گرفتار بھی کیا اور مقدمے بھی درج کیے تاہم یہ واقعات ہر سال رونما ہوتے رہتے ہیں۔
رواں سال جنوری میں ہی اترپردیش، اتراکھنڈ، ہماچل پردیش اور ہریانہ میں کشمیریوں کو ہراساں کرنے کے کم از کم 17 واقعات پیش آئے۔
’اس سال 17 جنوری کو ہماچل کے ایک سابق فوجی سرجیت گلیریا نے ایک کشمیری شال فروش کو ہراساں کیا، اس پر ذلت آمیز فقرے کسے، گالیاں دیں، کشمیریوں کو پاکستان کا حمایتی کہا اور یہ سب فیس بک پر لائیو دکھایا۔‘
ناصر کھویہامی کے مطابق پولیس نے سابق فوجی کو تھانے طلب تو کیا تاہم کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔
تابش اور دانش پر حملے کے صرف تین روز بعد یعنی 31 جنوری کو سرجیت گلیریا نے ہماچل کے کانگڑا ضلع میں ایک اور لائیو سٹریم کیا جس میں انھوں نے محمد رمضان نامی شال فروش کو ہراساں کیا اور دھمکایا کہ وہ ریاست چھوڑ کر چلا جائے۔‘
محمد رمضان نے بتایا کہ اس کے بعد انھیں تھانے سے فون آیا اور یقین دلایا گیا کہ سرجیت کو تھانے طلب کیا جائے گا لیکن انھوں نے کوئی کیس درج نہیں کیا۔
’خطرہ تو ہے لیکن پیٹ بھی پالنا ہے‘
گذشتہ برس جب کشمیریوں کو ہراساں کرنے کے کئی واقعات رونما ہوئے تو بعض شال فروش واپس کشمیر لوٹے تھے۔ لیکن وہ اس سال سردیاں شروع ہوتے ہی دوبارہ مختلف شمالی ریاستوں میں شال بیچنے یا مزدوری کرنے کے لیے چلے گئے۔
ایسے ہی ایک شال فروش نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر شملہ سے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’پچھلے سال بہت ڈر گئے تھے اور واپس کشمیر چلے گئے لیکن سردیوں میں ہم کیا کر سکتے ہیں، زمین زراعت نہیں، نوکری نہیں۔ یہاں خطرہ تو ہے لیکن پیٹ بھی پالنا ہے۔‘
معاشی امور کے ماہر ڈاکٹر اعجاز ایوب کے مطابق تقریباً ایک لاکھ سے زیادہ کشمیری ہر سال سردیوں میں شال فروشی یا مزدوری کے لیے شمالی انڈیا کے شہروں میں روزگار کمانے جاتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ان میں زیادہ تعداد ایل او سی کے قریبی علاقوں کپوارہ اور بارہمولہ کے کشمیریوں کی ہوتی ہے۔ ان علاقوں میں زرعی سرگرمیاں نہیں کیونکہ لوگوں کے پاس زمین نہیں، ان لوگوں کے پاس صرف شال فروشی یا مزدوری کا ہنر ہے۔‘
قابل ذکر ہے کشمیر بے روزگاری کی 25 فیصد شرح کے ساتھ سبھی انڈین ریاستوں میں سرفہرست ہے۔
’ہراسانی سے کشمیری پھر خطرناک راستوں پر چلے جاتے ہیں‘
وادیِ کشمیر سے باہر رہنے والے کشمیریوں کو ہراساں کرنے کے واقعات پر وادی کے سبھی سیاسی حلقوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس رجحان کو خطرناک قرار دیا۔
کشمیر کی اسمبلی میں اپوزیشن جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے ایک بیان میں کہا کہ ’ان واقعات کا کشمیریوں کی نفسیات پر منفی اثر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پھر کشمیری نوجوان دوسرے خطرناک راستوں پر جاتے ہیں، ملک کی سیاسی قیادت کو فوری مداخلت کر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جواب دہ بنانا چاہیے تاکہ ایسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں۔‘
ہراسانی کا تازہ واقعہ پیر کے روز اترپردیش کے سہارنپور میں پیش آیا جہاں ایک عمر رسیدہ کشمیری کو بعض نامعلوم افراد نے ہسپتال کے باہر گھیر لیا، ہسپتال کی پرچیاں اور ان کا شناختی کارڈ چیک کر کے ان سے پوچھا کہ اور کون کون ہے؟
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی موجود ہے جس میں یہ شخص کہتا ہے ’بیٹا میں چار سال سے یہاں علاج کے لیے آتا ہوں، اگر آپ چاہتے ہیں کہ نہ آؤں تو چلو میں نہیں آؤں گا لیکن مجھے چھوڑ دو۔‘
اس ویڈیو کو ایکس پر شیئر کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے ردعمل میں کہا کہ ’پہلے کمسن تابش پر اتراکھنڈ میں جان لیوا حملہ اور اب ایک عمر رسیدہ کشمیر کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ان ریاستوں کی حکومتیں منصبی فرائض نبھانے کی بجائے ہجوم کے ذریعے تشدد کی خاموش پشت پناہی کر رہی ہیں کیونکہ وہ نفرت کو کامیابی کا شارٹ کٹ سمجھتے ہیں۔ قانون کی حکمرانی کو خوف کی حکمرانی سے بدل دیا گیا۔‘
یاسین گنائی کے دو بیٹوں پر ہوئے حملے کے ردعمل میں وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے ایکس پر لکھا کہ ’جب ملک کے دوسرے حصوں میں کشمیریوں کو جان کے لالے پڑے ہوں اور وہ اپنی زندگیوں کو خطرے میں محسوس کریں تو یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ جموں وکشمیر انڈیا کا اٹوٹ انگ ہے۔‘
عبداللہ کی پارٹی نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے ایک بیان میں کہا کہ ’جب تک بی جے پی اپنے رہنماؤں کو قابو نہیں کرتی یہی سب ہوتا رہے گا۔ جب ان کے رہنما نسل کشی جیسے بیان دیتے ہیں تو اور کیا توقع کی جا سکتی ہے۔‘
جموں کشمیر سٹوڈنٹس یونین، کشمیر سے باہر انڈین ریاستوں میں رہنے والے طلبا اور تاجر یا دوسرے ممالک میں زیرِ تعلیم کشمیریوں کی سیفٹی ٹریکنگ کرتی ہے۔ یونین کے سربراہ ناصر کھویہامی نے ہراسانی کے واقعات سے متعلق انڈین وزیر داخلہ امیت شاہ اور اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو تفصیلی خطوط بھی لکھے۔
کشمیر سے باہر کشمیریوں کو ہراساں کرنے میں بی جے پی اور آر ایس ایس کے حامی گروپ خاص طور پر بجرنگ دل پیش پیش رہتے ہیں تاہم کشمیر میں بی جے پی ترجمان ایڈوکیٹ ساجد یوسف شاہ نے ایک بیان میں ان واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
ان کا کہنا ہے ’کشمیری ویسے ہی وطن دوست ہیں جیسے کوئی بھی انڈیا کا شہری۔ نفرتیں پھیلانے کی یہ کارروائیاں ناقابل قبول ہیں، قصورواروں کے خلاف سخت ترین کارروائی ہونی چاہیے تاکہ یہ سب دوبارہ نہ ہو۔‘
ناصر کھویہامی کا کہنا ہے کہ انڈیا کے کسی شہر یا کشمیر میں جب کوئی بڑا حملہ ہوتا ہے، تو اس طرح کے واقعات ہو جاتے ہیں ’لیکن اکثر واقعات میں کشمیریوں کو محض کشمیری ہونے پر بغیرکسی اشتعال کے ہراساں کیا جاتا ہے۔‘
نوٹ: یہ نیوز اسٹوری ریاض مسرور کی ہے اور بی بی سی اردو پر شائع ہوئی۔ کاپی رائٹ حقوق ریاض مسرور اور بی بی سی اردو محفوظ رکھتے ہیں۔