دارالحکومت میں پہلی جنگِ عظیم کی یادگار کے مقام کی تبدیلی پر سرکاری ادارے اور معروف اخبار آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے ‘ڈان نیوز’ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی رپورٹ “حقیقت سے دور” تھی اور یادگار کی منتقلی کو غلط طور پر “مسماری” بنا کر پیش کیا گیا۔
سی ڈی اے کے ترجمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا “ہمارا احتجاج ہے کہ صرف سنسنی پیدا کرنے کے لیے ایک منظم اور محفوظ طریقے سے کیے گئے کام کو تباہی جیسے الفاظ سے تعبیر کیا گیا۔ ہر پتھر، ہر تختی کو محفوظ کیا گیا ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ اخبار نے تصدیق کی زحمت کیے بغیر یہ خبر چلا دی۔
واضح رہے کہ فیصل ایونیو پر موجود اس تاریخی یادگار کو اس کی اصل حالت میں نئی جگہ پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اس پورے عمل میں تاریخی نوادرات کے ماہرین اور متعلقہ محکمے شامل رہے۔
ادھر، صحافتی حلقوں میں اس معاملے پر بحث جاری ہے۔ کچھ میڈیا مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ڈان نیوز نے رپورٹنگ سے پہلے سی ڈی اے سے تصدیق کر لی ہوتی تو یہ غلط فہمی نہ پھیلتی۔ ایک سینئر صحافی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، “یہ ہم سب کے لیے سبق ہے۔ تاریخی عمارتوں کے معاملات انتہائی حساس ہوتے ہیں۔ ہر لفظ تول کر لکھنا چاہیے۔”
عام شہریوں کا ردعمل مختلف ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اخبار کو اپنی غلطی تسلیم کرنی چاہیے، جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ سرکاری اداروں کو بھی عوام کو پہلے ہی اس منتقلی کے بارے میں مکمل آگاہی دینی چاہیے تھی۔
سی ڈی اے نے اپنے بیان میں ڈان نیوز سے خبر درست کرنے، وضاحت پیش کرنے اور عوام سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈان نیوز اس معاملے پر کیا ردعمل دیتا ہے۔ میڈیا کے لیے یہ معاملہ ایک ٹیسٹ کیس بن گیا ہے کہ تاریخی ورثے سے متعلق خبروں میں کس حد احتیاط برتی جاتی ہے۔