"> سی ڈی اے کی وضاحت: ڈان نیوز کا دعویٰ بےبنیاد اور حقیقت کے برعکس نکلا - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

سی ڈی اے کی وضاحت: ڈان نیوز کا دعویٰ بےبنیاد اور حقیقت کے برعکس نکلا

سی ڈی اے کے مطابق ڈان نیوز نے تاریخی یادگار کی منتقلی کے حوالے سے غلط رپورٹنگ کی ہے، جس سے عوام کو گمراہ کیا گیا
سی ڈی اے کے مطابق ڈان نیوز نے تاریخی یادگار کی منتقلی کے حوالے سے غلط رپورٹنگ کی ہے، جس سے عوام کو گمراہ کیا گیا

اسلام آباد میں پہلی جنگ عظیم کی یادگار کی منتقلی پر سی ڈی اے اور ڈان نیوز میں تنازعہ۔ سرکاری ادارے نے اخبار کی رپورٹنگ کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اصلاح کا مطالبہ کیا

February 6, 2026

دارالحکومت میں پہلی جنگِ عظیم کی یادگار کے مقام کی تبدیلی پر سرکاری ادارے اور معروف اخبار آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے ‘ڈان نیوز’ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی رپورٹ “حقیقت سے دور” تھی اور یادگار کی منتقلی کو غلط طور پر “مسماری” بنا کر پیش کیا گیا۔

سی ڈی اے کے ترجمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا “ہمارا احتجاج ہے کہ صرف سنسنی پیدا کرنے کے لیے ایک منظم اور محفوظ طریقے سے کیے گئے کام کو تباہی جیسے الفاظ سے تعبیر کیا گیا۔ ہر پتھر، ہر تختی کو محفوظ کیا گیا ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ اخبار نے تصدیق کی زحمت کیے بغیر یہ خبر چلا دی۔

واضح رہے کہ فیصل ایونیو پر موجود اس تاریخی یادگار کو اس کی اصل حالت میں نئی جگہ پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اس پورے عمل میں تاریخی نوادرات کے ماہرین اور متعلقہ محکمے شامل رہے۔

ادھر، صحافتی حلقوں میں اس معاملے پر بحث جاری ہے۔ کچھ میڈیا مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ڈان نیوز نے رپورٹنگ سے پہلے سی ڈی اے سے تصدیق کر لی ہوتی تو یہ غلط فہمی نہ پھیلتی۔ ایک سینئر صحافی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، “یہ ہم سب کے لیے سبق ہے۔ تاریخی عمارتوں کے معاملات انتہائی حساس ہوتے ہیں۔ ہر لفظ تول کر لکھنا چاہیے۔”

عام شہریوں کا ردعمل مختلف ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اخبار کو اپنی غلطی تسلیم کرنی چاہیے، جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ سرکاری اداروں کو بھی عوام کو پہلے ہی اس منتقلی کے بارے میں مکمل آگاہی دینی چاہیے تھی۔

سی ڈی اے نے اپنے بیان میں ڈان نیوز سے خبر درست کرنے، وضاحت پیش کرنے اور عوام سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈان نیوز اس معاملے پر کیا ردعمل دیتا ہے۔ میڈیا کے لیے یہ معاملہ ایک ٹیسٹ کیس بن گیا ہے کہ تاریخی ورثے سے متعلق خبروں میں کس حد احتیاط برتی جاتی ہے۔

دیکھیے: افغانستان میں امن، خطے میں خوشحالی: پاکستان ۔ قازقستان کا تاریخی اعلامیہ

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *