ازبکستان کے صدر شوکت مرزیا یوف کے دورۂ پاکستان کے بعد دونوں ممالک نے اپنے تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے اور جامع شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور صدر شوکت مرزیا یوف نے اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک کوآپریشن کونسل کے پہلے اجلاس کی مشترکہ صدارت کرتے ہوئے دو طرفہ تعاون کے تمام شعبوں میں پیشرفت پر اتفاق کیا۔ انہوں نے 2029 تک باہمی تجارت کو 2 ارب ڈالر تک بڑھانے اور ازبکستان۔ افغانستان۔ پاکستان ریلوے منصوبے کی بروقت تکمیل کے عزم کی تجدید کی۔
اعلامیے میں اقتصادی اور تجارتی شراکت کو نئی توانائی دینے، صنعتی اور تعلیمی اشتراک کو وسعت دینے، نیز ثقافتی، سیاحتی اور میڈیا تعاون کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی سلامتی کے تحفظ، دہشت گردی، انتہا پسندی اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ اقدامات کے لیے بھرپور عزم کا اظہار کیا۔
افغانستان میں پائیدار امن کو خطے کی استحکام اور UAP منصوبے کی کامیابی کے لیے لازمی قرار دیتے ہوئے، دونوں ممالک نے افغان حکومت سے دہشت گرد تنظیموں کے خاتمے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔
#Pakistan & #Uzbekistan called on the #Taliban to take immediate, concrete actions to dismantle & eliminate all terrorist organizations based in Afghanistan & to prevent terrorist groups from using Afghan territory to commit terrorism against any other country, according to a… pic.twitter.com/IS0GGCpWRt
— Ayaz Gul (@AyazGul64) February 6, 2026
پاکستان اور ازبکستان نے افغان طالبان سے اپیل کی ہے کہ وہ افغانستان میں موجود تمام دہشت گرد تنظیموں کو فوری اور مؤثر اقدامات کے ذریعے ختم کریں اور افغان سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکیں۔
صدر شوکت مرزیا یوف نے پاکستانی قیادت اور عوام کی پرتپاک میزبانی پر تشکر کا اظہار کیا اور وزیراعظم شہباز شریف کو ازبکستان کے دورے کی دعوت دی، جسے وزیراعظم نے قبول کر لیا۔
یہ دورہ اس وقت ہوا ہے جب ایک روز قبل قازقستان کے صدر بھی اسلام آباد کے سرکاری دورے پر تھے، جو پاکستان کی وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ گہرے تعلقات استوار کرنے کی حکمت عملی میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔