اسلام آباد میں حالیہ خودکش حملے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک سوال بار بار دہرایا جا رہا ہے: “اگر حملہ آور خودکش تھا تو وہ اپنے ساتھ شناختی کارڈ کیوں رکھے ہوئے تھا؟” بظاہر یہ سوال معصوم لگتا ہے، مگر درحقیقت یہ پاکستان میں خودکش دہشت گردی کی نفسیات، نظریاتی ساخت اور عملی طریقۂ کار سے گہری ناواقفیت کی عکاسی کرتا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ بعض صحافی حضرات اور سیاسی وابستگی رکھنے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اس سوال کو ابہام، شکوک اور سازشی بیانیے کو ہوا دینے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایک عام مجرم اور خودکش بمبار میں بنیادی اور ناقابلِ تردید فرق ہوتا ہے۔ ایک چور، ڈکیت یا قاتل جرم کے بعد فرار اور بقا کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔ وہ گرفتاری سے ڈرتا ہے، اپنی شناخت چھپاتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اس کا نام کبھی منظرِ عام پر نہ آئے۔ اس کے برعکس خودکش حملہ آور گھر سے نکلتے وقت ہی یہ فیصلہ کر چکا ہوتا ہے کہ وہ زندہ واپس نہیں آئے گا۔ اس ذہنی کیفیت میں شناخت چھپانا اس کے لیے نہ صرف غیر ضروری بلکہ بے معنی ہو جاتا ہے۔
خودکش دہشت گردی کو عام جرائم کے پیمانے پر پرکھنا ایک بنیادی تجزیاتی غلطی ہے۔ خودکش بمبار کسی وقتی جذباتی کیفیت میں یہ قدم نہیں اٹھاتا بلکہ ایک طویل نظریاتی اور نفسیاتی عمل سے گزارا جاتا ہے۔ تربیت کے دوران اس کی شدید برین واشنگ کی جاتی ہے، جہاں شناخت ظاہر ہونا شرمندگی نہیں بلکہ اعزاز بنا دیا جاتا ہے۔ اسے یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ اس کا نام لیا جائے گا، اس کی تصویر پھیلائی جائے گی اور اسے ’’قربانی دینے والا‘‘ یا ’’ہیرو‘‘ کہا جائے گا۔
دہشت گرد تنظیمیں جان بوجھ کر خودکش حملہ آور کے ذہن میں یہ تصور بٹھاتی ہیں کہ وہ عام انسانوں سے مختلف اور برتر ہے، ایک ایسے عظیم مقصد کے لیے منتخب کیا گیا ہے جہاں جان دینا شکست نہیں بلکہ کامیابی ہے۔ یہی سوچ اسے شناخت کے معاملے میں بے خوف بناتی ہے۔ وہ یہ نہیں سوچتا کہ اس کا نام سامنے آئے گا یا نہیں، بلکہ وہ چاہتا ہے کہ اس کا ذکر ہو، تاکہ اس کی کارروائی دوسروں کے لیے ترغیب بنے۔
اسی لیے کسی خودکش بمبار سے شناختی کارڈ یا ذاتی دستاویزات کا مل جانا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ دسمبر 2010 میں سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد حملہ آور تیمور عبدالوہاب کے نام پر بین الاقوامی ڈرائیونگ لائسنس اور شناختی کارڈ برآمد ہوئے تھے۔ اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ یہ رجحان نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں دیکھا گیا ہے۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ خودکش حملہ آور کا رویہ بظاہر عام شہریوں جیسا ہوتا ہے۔ چونکہ اس کے ذہن میں بھاگنے، بچنے یا فرار کا کوئی منصوبہ نہیں ہوتا، اس لیے وہ گھبراہٹ کا شکار نہیں ہوتا۔ وہ پرسکون رہتا ہے، جلد بازی نہیں کرتا اور یہی ظاہری سکون اسے مشکوک نظر آنے سے بچا لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ شناختی کارڈ، ذاتی اشیاء اور روزمرہ استعمال کا سامان اپنے ساتھ رکھ کر عام شہریوں کی طرح نقل و حرکت کرتا ہے۔
سکیورٹی نظام عموماً غیر معمولی یا گھبرائے ہوئے رویے پر ردِعمل ظاہر کرتا ہے۔ خودکش حملہ آور اسی نفسیاتی حقیقت سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس کے لیے واحد مقصد آخری ہدف کا حصول ہوتا ہے۔ اس مقصد کے سامنے ہر خطرہ، ہر رکاوٹ اور ہر ممکنہ انجام ثانوی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔
بدقسمتی سے جب خودکش دہشت گردی کو عام جرائم کی منطق سے سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے تو نہ صرف تجزیہ کمزور پڑ جاتا ہے بلکہ مسئلے کی سنگینی بھی دھندلا جاتی ہے۔ اس خلا کو پھر سازشی بیانیے بھر دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس نوعیت کے سوالات اور شکوک اکثر ایک سیاسی جماعت سے وابستہ بیرونِ ملک بیٹھے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے جنم لیتے ہیں، جو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی ہر کارروائی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
پاکستان اس وقت دہشت گردی کے ایک سنجیدہ مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ایسے میں ہمیں سازشی بیانیوں سے نکل کر دہشت گردی کو اس کے حقیقی نفسیاتی، نظریاتی اور عملی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اجتماعی شعور، ریاستی اداروں پر اعتماد اور قومی یکجہتی ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے ہم اس ناسور کے خلاف مؤثر طور پر لڑ سکتے ہیں۔ دہشت گردی کو سیاسی بحث کا ایندھن بنانے کے بجائے، اسے ایک قومی سلامتی کے مسئلے کے طور پر سمجھنا اور اس کے خلاف متحد ہونا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔