حمارت اسلامی افغانستان کے لئے چیلنج صرف اپنے اسلحے کے ذخائر کی بچت ہی نہیں بلکہ ان کی معیشت کا بھی بڑا انحصار پاکستان پر رہا ہے۔ خوراک اور ادویات سمیت ہر اہم چیز یہ پاکستان سے سمگل کرواتے رہے۔

March 7, 2026

پاکستان کے خلاف لڑائی میں سابق افغان فورسز کو دوبارہ شامل کرلیا گیا ہے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ طالبان پاکستان کے خلاف شدید مشکلات کا شکار رہے

March 7, 2026

آپ افغانستان کا ایران سے موازنہ نہیں کر سکتے۔ افغانستان میں لوگوں کو بے رحمی سے دبایا جاتا ہے۔

March 7, 2026

وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان اس وقت غیر معمولی حالات سے گزر رہا ہے اور پڑوسی خطوں میں پیدا ہونے والی صورتحال کے اثرات براہ راست پاکستان سمیت پورے خطے پر پڑ رہے ہیں۔

March 7, 2026

پاکستان ہاکی ٹیم نے کوالیفائر میچ میں جاپان کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 3 کے مقابلے میں 4 گول سے شکست دے کر ہاکی ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کر لیا

March 6, 2026

خوست کے ضلع علی شیر میں پاکستانی فوجی چوکی پر قبضے اور چار اہلکاروں کی شہادت کا دعویٰ غیر مصدقہ اور بے بنیاد قرار

March 6, 2026

ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی اپیل: ‘ریاست اب دہشت گردوں کے ہمدردوں کو معاف نہیں کرے گی’

حالیہ دنوں میں بلوچستان اور دیگر علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں ماہرین اس مقدمے کو محض ایک عدالتی کارروائی نہیں بلکہ دہشت گردی کے ہمدردوں کے خلاف ریاستی عزم کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست نے واضح فیصلہ کر لیا ہے کہ دہشت گردی یا اس کی فکری، اخلاقی یا بیانیاتی حمایت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
- ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی اپیل: 'ریاست اب دہشت گردوں کے ہمدردوں کو معاف نہیں کرے گی'

قانونی ماہرین کے مطابق فوجداری مقدمات میں اپیل دائر کرنے کی مدت ایک ماہ ہوتی ہے، اس لیے اپیل کا دائر ہونا غیر متوقع نہیں تھا۔ تاہم، ریاستی و سلامتی کے حلقوں کا کہنا ہے کہ اس اپیل کے گرد جو شور مچایا جا رہا ہے، وہ محض ایمان مزاری یا ہادی چٹھہ کے دفاع تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک وسیع تر ایجنڈا کارفرما ہے۔

February 7, 2026

اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی جانب سے فوجداری اپیلیں دائر کر دی گئی ہیں، جن میں سزا معطل کرنے اور اپیل کے حتمی فیصلے تک فوری رہائی کی استدعا کی گئی ہے۔ یہ اپیلیں مجموعی طور پر 12 وکلاء کے ذریعے دائر کی گئیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق فوجداری مقدمات میں اپیل دائر کرنے کی مدت ایک ماہ ہوتی ہے، اس لیے اپیل کا دائر ہونا غیر متوقع نہیں تھا۔ تاہم، ریاستی و سلامتی کے حلقوں کا کہنا ہے کہ اس اپیل کے گرد جو شور مچایا جا رہا ہے، وہ محض ایمان مزاری یا ہادی چٹھہ کے دفاع تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک وسیع تر ایجنڈا کارفرما ہے۔

مبصرین کے مطابق اس کیس میں دلچسپی رکھنے والے مخصوص حلقوں کا اصل مقصد PECA جیسے قوانین کو کمزور کرنا ہے، تاکہ افراتفری، انتشار اور ریاست مخالف بیانیے پھیلانے والے عناصر کو آزادی مل سکے، چاہے اس کی قیمت اندرونی سلامتی ہی کیوں نہ ہو۔ ان حلقوں کی کوشش ہے کہ آزادیٔ اظہار کے نام پر ایسے افراد کو تحفظ دیا جائے جو عملاً انتشار اور عدم استحکام کو ہوا دیتے ہیں۔

قانونی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے خلاف مقدمے میں شواہد واضح، ٹھوس اور دستاویزی ہیں، جس کے باعث اپیل کی بنیاد قانونی نکات کے بجائے زیادہ تر بیانیے اور ہمدردی پر رکھی گئی ہے۔ ماہرین اسے ایک باقاعدہ قانونی اپیل کے بجائے ’’رحم کی اپیل‘‘ قرار دے رہے ہیں، کیونکہ سزا کے خلاف ٹھوس قانونی سقم سامنے نہیں لائے جا سکے۔

ریاستی مؤقف رکھنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان کا ریکارڈ اور ماضی کے بیانات ان کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہیں، جسے عوام کے سامنے یاد دلانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق یہ افراد خود کو آزادیٔ رائے کا علمبردار ظاہر کرتے ہیں، مگر عملی طور پر ایسے بیانیوں کو تقویت دیتے رہے ہیں جو ریاست، اداروں اور سلامتی کے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں بلوچستان اور دیگر علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں ماہرین اس مقدمے کو محض ایک عدالتی کارروائی نہیں بلکہ دہشت گردی کے ہمدردوں کے خلاف ریاستی عزم کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست نے واضح فیصلہ کر لیا ہے کہ دہشت گردی یا اس کی فکری، اخلاقی یا بیانیاتی حمایت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

سکیورٹی اور قانونی حلقوں کے مطابق پاکستانیوں کی جان و مال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، اور داخلی سلامتی کے معاملے میں ’’زیرو ٹالرنس‘‘ کی پالیسی ہی قومی مفاد کا تقاضا ہے۔ ایسے میں عدالتوں میں دائر اپیلیں قانونی عمل کا حصہ ضرور ہیں، مگر انہیں ریاستی سلامتی کے خلاف دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی کوششوں کو بے نقاب کرنا بھی ضروری سمجھا جا رہا ہے۔

دیکھیے: بلوچستان: آپریشن ’ردّالفتنہ-1‘ کامیابی سے مکمل، 216 دہشت گرد ہلاک

متعلقہ مضامین

حمارت اسلامی افغانستان کے لئے چیلنج صرف اپنے اسلحے کے ذخائر کی بچت ہی نہیں بلکہ ان کی معیشت کا بھی بڑا انحصار پاکستان پر رہا ہے۔ خوراک اور ادویات سمیت ہر اہم چیز یہ پاکستان سے سمگل کرواتے رہے۔

March 7, 2026

پاکستان کے خلاف لڑائی میں سابق افغان فورسز کو دوبارہ شامل کرلیا گیا ہے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ طالبان پاکستان کے خلاف شدید مشکلات کا شکار رہے

March 7, 2026

آپ افغانستان کا ایران سے موازنہ نہیں کر سکتے۔ افغانستان میں لوگوں کو بے رحمی سے دبایا جاتا ہے۔

March 7, 2026

وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان اس وقت غیر معمولی حالات سے گزر رہا ہے اور پڑوسی خطوں میں پیدا ہونے والی صورتحال کے اثرات براہ راست پاکستان سمیت پورے خطے پر پڑ رہے ہیں۔

March 7, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *