لاہور کونسل آف کمپلینٹس نے جیو ٹی وی نشریات بحالی کیس میں مذہبی علامات کے استعمال کا معاملہ شرعی رائے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوا دیا ہے۔

July 6, 2026

چیرمین واپڈا نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کی یکطرفہ معطلی اور مغربی دریاؤں پر تعمیراتی سرگرمیاں پاکستان کے آبی، غذائی اور معاشی تحفظ کے لیے سنگین تزویراتی خطرہ ہیں۔

July 6, 2026

ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کی پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں نے ناروا رویے کے خلاف احتجاج کیا، جبکہ بعد ازاں سوشل میڈیا پر احتجاجی صحافیوں پر بلیک میلنگ اور غیر قانونی دھندوں کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔

July 6, 2026

سوشل میڈیا پر صحافی اسد طور کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر کے مبینہ تشدد کی شیئر کردہ وائرل ویڈیو حالیہ نہیں بلکہ 2020 کے کورونا لاک ڈاؤن کے دور کی ہے، جسے موجودہ انتظامیہ سے جوڑنا گمراہ کن ہے۔

July 6, 2026

خوست میں طالبان کمانڈروں کی جانب سے خواتین کی مبینہ بے حرمتی اور فوجی عدالت کی طرف سے متاثرہ خاندان کو دھمکیوں نے افغان نظامِ انصاف کو بے نقاب کر دیا ہے۔

July 5, 2026

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں پاکستانی وفد کی شرکت کو ماہرین نے اسلام آباد کی متوازن خارجہ پالیسی اور علاقائی استحکام کی کوششوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔

July 4, 2026

ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی اپیل: ‘ریاست اب دہشت گردوں کے ہمدردوں کو معاف نہیں کرے گی’

حالیہ دنوں میں بلوچستان اور دیگر علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں ماہرین اس مقدمے کو محض ایک عدالتی کارروائی نہیں بلکہ دہشت گردی کے ہمدردوں کے خلاف ریاستی عزم کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست نے واضح فیصلہ کر لیا ہے کہ دہشت گردی یا اس کی فکری، اخلاقی یا بیانیاتی حمایت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
- ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی اپیل: 'ریاست اب دہشت گردوں کے ہمدردوں کو معاف نہیں کرے گی'

قانونی ماہرین کے مطابق فوجداری مقدمات میں اپیل دائر کرنے کی مدت ایک ماہ ہوتی ہے، اس لیے اپیل کا دائر ہونا غیر متوقع نہیں تھا۔ تاہم، ریاستی و سلامتی کے حلقوں کا کہنا ہے کہ اس اپیل کے گرد جو شور مچایا جا رہا ہے، وہ محض ایمان مزاری یا ہادی چٹھہ کے دفاع تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک وسیع تر ایجنڈا کارفرما ہے۔

February 7, 2026

اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی جانب سے فوجداری اپیلیں دائر کر دی گئی ہیں، جن میں سزا معطل کرنے اور اپیل کے حتمی فیصلے تک فوری رہائی کی استدعا کی گئی ہے۔ یہ اپیلیں مجموعی طور پر 12 وکلاء کے ذریعے دائر کی گئیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق فوجداری مقدمات میں اپیل دائر کرنے کی مدت ایک ماہ ہوتی ہے، اس لیے اپیل کا دائر ہونا غیر متوقع نہیں تھا۔ تاہم، ریاستی و سلامتی کے حلقوں کا کہنا ہے کہ اس اپیل کے گرد جو شور مچایا جا رہا ہے، وہ محض ایمان مزاری یا ہادی چٹھہ کے دفاع تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک وسیع تر ایجنڈا کارفرما ہے۔

مبصرین کے مطابق اس کیس میں دلچسپی رکھنے والے مخصوص حلقوں کا اصل مقصد PECA جیسے قوانین کو کمزور کرنا ہے، تاکہ افراتفری، انتشار اور ریاست مخالف بیانیے پھیلانے والے عناصر کو آزادی مل سکے، چاہے اس کی قیمت اندرونی سلامتی ہی کیوں نہ ہو۔ ان حلقوں کی کوشش ہے کہ آزادیٔ اظہار کے نام پر ایسے افراد کو تحفظ دیا جائے جو عملاً انتشار اور عدم استحکام کو ہوا دیتے ہیں۔

قانونی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے خلاف مقدمے میں شواہد واضح، ٹھوس اور دستاویزی ہیں، جس کے باعث اپیل کی بنیاد قانونی نکات کے بجائے زیادہ تر بیانیے اور ہمدردی پر رکھی گئی ہے۔ ماہرین اسے ایک باقاعدہ قانونی اپیل کے بجائے ’’رحم کی اپیل‘‘ قرار دے رہے ہیں، کیونکہ سزا کے خلاف ٹھوس قانونی سقم سامنے نہیں لائے جا سکے۔

ریاستی مؤقف رکھنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان کا ریکارڈ اور ماضی کے بیانات ان کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہیں، جسے عوام کے سامنے یاد دلانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق یہ افراد خود کو آزادیٔ رائے کا علمبردار ظاہر کرتے ہیں، مگر عملی طور پر ایسے بیانیوں کو تقویت دیتے رہے ہیں جو ریاست، اداروں اور سلامتی کے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں بلوچستان اور دیگر علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں ماہرین اس مقدمے کو محض ایک عدالتی کارروائی نہیں بلکہ دہشت گردی کے ہمدردوں کے خلاف ریاستی عزم کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست نے واضح فیصلہ کر لیا ہے کہ دہشت گردی یا اس کی فکری، اخلاقی یا بیانیاتی حمایت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

سکیورٹی اور قانونی حلقوں کے مطابق پاکستانیوں کی جان و مال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، اور داخلی سلامتی کے معاملے میں ’’زیرو ٹالرنس‘‘ کی پالیسی ہی قومی مفاد کا تقاضا ہے۔ ایسے میں عدالتوں میں دائر اپیلیں قانونی عمل کا حصہ ضرور ہیں، مگر انہیں ریاستی سلامتی کے خلاف دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی کوششوں کو بے نقاب کرنا بھی ضروری سمجھا جا رہا ہے۔

دیکھیے: بلوچستان: آپریشن ’ردّالفتنہ-1‘ کامیابی سے مکمل، 216 دہشت گرد ہلاک

متعلقہ مضامین

لاہور کونسل آف کمپلینٹس نے جیو ٹی وی نشریات بحالی کیس میں مذہبی علامات کے استعمال کا معاملہ شرعی رائے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوا دیا ہے۔

July 6, 2026

چیرمین واپڈا نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کی یکطرفہ معطلی اور مغربی دریاؤں پر تعمیراتی سرگرمیاں پاکستان کے آبی، غذائی اور معاشی تحفظ کے لیے سنگین تزویراتی خطرہ ہیں۔

July 6, 2026

ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کی پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں نے ناروا رویے کے خلاف احتجاج کیا، جبکہ بعد ازاں سوشل میڈیا پر احتجاجی صحافیوں پر بلیک میلنگ اور غیر قانونی دھندوں کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔

July 6, 2026

سوشل میڈیا پر صحافی اسد طور کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر کے مبینہ تشدد کی شیئر کردہ وائرل ویڈیو حالیہ نہیں بلکہ 2020 کے کورونا لاک ڈاؤن کے دور کی ہے، جسے موجودہ انتظامیہ سے جوڑنا گمراہ کن ہے۔

July 6, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *