"> ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی اپیل: 'ریاست اب دہشت گردوں کے ہمدردوں کو معاف نہیں کرے گی' - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی اپیل: ‘ریاست اب دہشت گردوں کے ہمدردوں کو معاف نہیں کرے گی’

حالیہ دنوں میں بلوچستان اور دیگر علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں ماہرین اس مقدمے کو محض ایک عدالتی کارروائی نہیں بلکہ دہشت گردی کے ہمدردوں کے خلاف ریاستی عزم کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست نے واضح فیصلہ کر لیا ہے کہ دہشت گردی یا اس کی فکری، اخلاقی یا بیانیاتی حمایت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
- ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی اپیل: 'ریاست اب دہشت گردوں کے ہمدردوں کو معاف نہیں کرے گی'

قانونی ماہرین کے مطابق فوجداری مقدمات میں اپیل دائر کرنے کی مدت ایک ماہ ہوتی ہے، اس لیے اپیل کا دائر ہونا غیر متوقع نہیں تھا۔ تاہم، ریاستی و سلامتی کے حلقوں کا کہنا ہے کہ اس اپیل کے گرد جو شور مچایا جا رہا ہے، وہ محض ایمان مزاری یا ہادی چٹھہ کے دفاع تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک وسیع تر ایجنڈا کارفرما ہے۔

February 7, 2026

اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی جانب سے فوجداری اپیلیں دائر کر دی گئی ہیں، جن میں سزا معطل کرنے اور اپیل کے حتمی فیصلے تک فوری رہائی کی استدعا کی گئی ہے۔ یہ اپیلیں مجموعی طور پر 12 وکلاء کے ذریعے دائر کی گئیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق فوجداری مقدمات میں اپیل دائر کرنے کی مدت ایک ماہ ہوتی ہے، اس لیے اپیل کا دائر ہونا غیر متوقع نہیں تھا۔ تاہم، ریاستی و سلامتی کے حلقوں کا کہنا ہے کہ اس اپیل کے گرد جو شور مچایا جا رہا ہے، وہ محض ایمان مزاری یا ہادی چٹھہ کے دفاع تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک وسیع تر ایجنڈا کارفرما ہے۔

مبصرین کے مطابق اس کیس میں دلچسپی رکھنے والے مخصوص حلقوں کا اصل مقصد PECA جیسے قوانین کو کمزور کرنا ہے، تاکہ افراتفری، انتشار اور ریاست مخالف بیانیے پھیلانے والے عناصر کو آزادی مل سکے، چاہے اس کی قیمت اندرونی سلامتی ہی کیوں نہ ہو۔ ان حلقوں کی کوشش ہے کہ آزادیٔ اظہار کے نام پر ایسے افراد کو تحفظ دیا جائے جو عملاً انتشار اور عدم استحکام کو ہوا دیتے ہیں۔

قانونی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے خلاف مقدمے میں شواہد واضح، ٹھوس اور دستاویزی ہیں، جس کے باعث اپیل کی بنیاد قانونی نکات کے بجائے زیادہ تر بیانیے اور ہمدردی پر رکھی گئی ہے۔ ماہرین اسے ایک باقاعدہ قانونی اپیل کے بجائے ’’رحم کی اپیل‘‘ قرار دے رہے ہیں، کیونکہ سزا کے خلاف ٹھوس قانونی سقم سامنے نہیں لائے جا سکے۔

ریاستی مؤقف رکھنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان کا ریکارڈ اور ماضی کے بیانات ان کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہیں، جسے عوام کے سامنے یاد دلانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق یہ افراد خود کو آزادیٔ رائے کا علمبردار ظاہر کرتے ہیں، مگر عملی طور پر ایسے بیانیوں کو تقویت دیتے رہے ہیں جو ریاست، اداروں اور سلامتی کے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں بلوچستان اور دیگر علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں ماہرین اس مقدمے کو محض ایک عدالتی کارروائی نہیں بلکہ دہشت گردی کے ہمدردوں کے خلاف ریاستی عزم کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست نے واضح فیصلہ کر لیا ہے کہ دہشت گردی یا اس کی فکری، اخلاقی یا بیانیاتی حمایت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

سکیورٹی اور قانونی حلقوں کے مطابق پاکستانیوں کی جان و مال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، اور داخلی سلامتی کے معاملے میں ’’زیرو ٹالرنس‘‘ کی پالیسی ہی قومی مفاد کا تقاضا ہے۔ ایسے میں عدالتوں میں دائر اپیلیں قانونی عمل کا حصہ ضرور ہیں، مگر انہیں ریاستی سلامتی کے خلاف دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی کوششوں کو بے نقاب کرنا بھی ضروری سمجھا جا رہا ہے۔

دیکھیے: بلوچستان: آپریشن ’ردّالفتنہ-1‘ کامیابی سے مکمل، 216 دہشت گرد ہلاک

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *