امریکی کمیشن نے آر ایس ایس پر پابندیوں کی سفارش کر دی، بھارت نے سفارشات کو توہین آمیز قرار دے کر مسترد کر دیا۔

August 22, 2026

کابل میں طالبان حکومت کی وزارتِ انصاف میں وزیرِ انصاف عبدالحکیم حقانی کے بھتیجوں اور قریبی افراد کا مالیاتی و انتظامی امور پر کنٹرول اور کرپشن کا نیٹ ورک بے نقاب ہو گیا ہے۔

August 22, 2026

دیر کی تحصیل دوبندون میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں فتنۃ الخوارج کے 3 دہشت گرد ہلاک، اسلحہ برآمد۔

August 22, 2026

سی ٹی ڈی پنجاب نے 9 شہروں میں کارروائیاں کر کے 18 دہشت گرد گرفتار کر لیے، بھاری اسلحہ اور بارودی مواد برآمد۔

August 22, 2026

بھارتی صحافی راجو پارولیکر نے بی جے پی حکومت میں ترقیاتی منصوبوں اور ٹھیکوں میں بھاری کمیشن کی نذر ہونے والے فنڈز کو بے نقاب کر دیا۔

August 22, 2026

چناب بیاس لنک ٹنل کیس کی سماعت 16 ستمبر کو ہو گی، حکومت سے عالمی فورمز پر رجوع کا مطالبہ۔

August 22, 2026

اسلام آباد دھماکے کے بعد معید پیرزادہ کا متنازع ٹویٹر پول ماہرین کی جانب سے سنگین جرم قرار دے دیا گیا

سیاسی و دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق بیرونِ ملک بیٹھ کر ایسے حساس معاملات پر قیاس آرائیوں اور پولز کے ذریعے رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش دراصل دشمن ریاستوں کے بیانیے کو تقویت دیتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب پاکستان طویل عرصے سے سرحد پار دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہو اور اس کے شواہد عالمی فورمز پر بھی پیش کیے جا چکے ہوں، تو ایسے سوالات اور پولز دشمن عناصر کے لیے بالواسطہ سہولت کاری کے مترادف سمجھے جاتے ہیں۔
اسلام آباد دھماکے کے بعد معید پیرزادہ کا متنازع ٹویٹر پول ماہرین کی جانب سے سنگین جرم قرار دے دیا گیا

ماہرین نے اس امر پر بھی زور دیا ہے کہ دہشت گردی جیسے سنگین قومی سلامتی کے معاملات کو سوشل میڈیا پولز کے ذریعے متنازع بنانا عوامی ذہنوں میں ابہام پیدا کرتا ہے اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتا ہے۔

February 7, 2026

اسلام آباد میں امام بارگاہ پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد معروف یوٹیوبر اور بیرونِ ملک مقیم صحافی معید پیرزادہ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شروع کیے گئے ایک متنازع پول نے نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ مذکورہ پول میں حملے کو بھارت اور افغانستان کی مداخلت کے بجائے 8 فروری کے متوقع احتجاج سے قبل مبینہ ’’اندرونی سیاست‘‘ سے جوڑنے کی کوشش کی گئی، جس پر سیاسی، دفاعی اور صحافتی حلقوں میں شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ پول ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت خود متعدد مواقع پر پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کے اعترافات کر چکا ہے، جبکہ پاکستانی حکام کے پاس حالیہ دہشت گرد حملوں میں بھارت اور افغانستان میں موجود عناصر کے ملوث ہونے کے شواہد بھی موجود ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پس منظر میں حملے کو اندرونی سیاسی معاملات سے جوڑنا نہ صرف حقائق سے انحراف ہے بلکہ ریاستی مؤقف کو کمزور کرنے کے مترادف بھی ہے۔

سیاسی و دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق بیرونِ ملک بیٹھ کر ایسے حساس معاملات پر قیاس آرائیوں اور پولز کے ذریعے رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش دراصل دشمن ریاستوں کے بیانیے کو تقویت دیتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب پاکستان طویل عرصے سے سرحد پار دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہو اور اس کے شواہد عالمی فورمز پر بھی پیش کیے جا چکے ہوں، تو ایسے سوالات اور پولز دشمن عناصر کے لیے بالواسطہ سہولت کاری کے مترادف سمجھے جاتے ہیں۔

ماہرین نے اس امر پر بھی زور دیا ہے کہ دہشت گردی جیسے سنگین قومی سلامتی کے معاملات کو سوشل میڈیا پولز کے ذریعے متنازع بنانا عوامی ذہنوں میں ابہام پیدا کرتا ہے اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ان کے مطابق ذمہ دار صحافت اور رائے سازی کا تقاضا ہے کہ ایسے واقعات پر ریاستی اداروں کی تحقیقات اور دستیاب شواہد کو مدنظر رکھا جائے، نہ کہ غیر مصدقہ قیاس آرائیوں کے ذریعے اندرونی انتشار کو ہوا دی جائے۔

دیکھیے: بلوچستان: آپریشن ’ردّالفتنہ-1‘ کامیابی سے مکمل، 216 دہشت گرد ہلاک

متعلقہ مضامین

امریکی کمیشن نے آر ایس ایس پر پابندیوں کی سفارش کر دی، بھارت نے سفارشات کو توہین آمیز قرار دے کر مسترد کر دیا۔

August 22, 2026

کابل میں طالبان حکومت کی وزارتِ انصاف میں وزیرِ انصاف عبدالحکیم حقانی کے بھتیجوں اور قریبی افراد کا مالیاتی و انتظامی امور پر کنٹرول اور کرپشن کا نیٹ ورک بے نقاب ہو گیا ہے۔

August 22, 2026

دیر کی تحصیل دوبندون میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں فتنۃ الخوارج کے 3 دہشت گرد ہلاک، اسلحہ برآمد۔

August 22, 2026

سی ٹی ڈی پنجاب نے 9 شہروں میں کارروائیاں کر کے 18 دہشت گرد گرفتار کر لیے، بھاری اسلحہ اور بارودی مواد برآمد۔

August 22, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *