"> اسلام آباد دھماکے کے بعد معید پیرزادہ کا متنازع ٹویٹر پول ماہرین کی جانب سے سنگین جرم قرار دے دیا گیا - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

اسلام آباد دھماکے کے بعد معید پیرزادہ کا متنازع ٹویٹر پول ماہرین کی جانب سے سنگین جرم قرار دے دیا گیا

سیاسی و دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق بیرونِ ملک بیٹھ کر ایسے حساس معاملات پر قیاس آرائیوں اور پولز کے ذریعے رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش دراصل دشمن ریاستوں کے بیانیے کو تقویت دیتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب پاکستان طویل عرصے سے سرحد پار دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہو اور اس کے شواہد عالمی فورمز پر بھی پیش کیے جا چکے ہوں، تو ایسے سوالات اور پولز دشمن عناصر کے لیے بالواسطہ سہولت کاری کے مترادف سمجھے جاتے ہیں۔
اسلام آباد دھماکے کے بعد معید پیرزادہ کا متنازع ٹویٹر پول ماہرین کی جانب سے سنگین جرم قرار دے دیا گیا

ماہرین نے اس امر پر بھی زور دیا ہے کہ دہشت گردی جیسے سنگین قومی سلامتی کے معاملات کو سوشل میڈیا پولز کے ذریعے متنازع بنانا عوامی ذہنوں میں ابہام پیدا کرتا ہے اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتا ہے۔

February 7, 2026

اسلام آباد میں امام بارگاہ پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد معروف یوٹیوبر اور بیرونِ ملک مقیم صحافی معید پیرزادہ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شروع کیے گئے ایک متنازع پول نے نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ مذکورہ پول میں حملے کو بھارت اور افغانستان کی مداخلت کے بجائے 8 فروری کے متوقع احتجاج سے قبل مبینہ ’’اندرونی سیاست‘‘ سے جوڑنے کی کوشش کی گئی، جس پر سیاسی، دفاعی اور صحافتی حلقوں میں شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ پول ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت خود متعدد مواقع پر پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کے اعترافات کر چکا ہے، جبکہ پاکستانی حکام کے پاس حالیہ دہشت گرد حملوں میں بھارت اور افغانستان میں موجود عناصر کے ملوث ہونے کے شواہد بھی موجود ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پس منظر میں حملے کو اندرونی سیاسی معاملات سے جوڑنا نہ صرف حقائق سے انحراف ہے بلکہ ریاستی مؤقف کو کمزور کرنے کے مترادف بھی ہے۔

سیاسی و دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق بیرونِ ملک بیٹھ کر ایسے حساس معاملات پر قیاس آرائیوں اور پولز کے ذریعے رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش دراصل دشمن ریاستوں کے بیانیے کو تقویت دیتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب پاکستان طویل عرصے سے سرحد پار دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہو اور اس کے شواہد عالمی فورمز پر بھی پیش کیے جا چکے ہوں، تو ایسے سوالات اور پولز دشمن عناصر کے لیے بالواسطہ سہولت کاری کے مترادف سمجھے جاتے ہیں۔

ماہرین نے اس امر پر بھی زور دیا ہے کہ دہشت گردی جیسے سنگین قومی سلامتی کے معاملات کو سوشل میڈیا پولز کے ذریعے متنازع بنانا عوامی ذہنوں میں ابہام پیدا کرتا ہے اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ان کے مطابق ذمہ دار صحافت اور رائے سازی کا تقاضا ہے کہ ایسے واقعات پر ریاستی اداروں کی تحقیقات اور دستیاب شواہد کو مدنظر رکھا جائے، نہ کہ غیر مصدقہ قیاس آرائیوں کے ذریعے اندرونی انتشار کو ہوا دی جائے۔

دیکھیے: بلوچستان: آپریشن ’ردّالفتنہ-1‘ کامیابی سے مکمل، 216 دہشت گرد ہلاک

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *