"> نوشکی میں دہشت گردی کی وحشیانہ کارروائی: سندھ سے تعلق رکھنے والے 5 مزدوروں کی لاشیں برآمد - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

نوشکی میں دہشت گردی کی وحشیانہ کارروائی: سندھ سے تعلق رکھنے والے 5 مزدوروں کی لاشیں برآمد

عوامی ردِعمل میں نوشکی کے شہریوں نے دہشت گردی کے خلاف دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ ایسے عناصر کے ساتھ نہیں کھڑے جو بے گناہ پاکستانیوں کا خون بہائیں۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کا سب سے بڑا نقصان عام عوام کو اٹھانا پڑتا ہے، چاہے وہ بلوچستان کے ہوں یا سندھ کے۔
نوشکی میں دہشت گردی کی وحشیانہ کارروائی: سندھ سے تعلق رکھنے والے 5 مزدوروں کی لاشیں برآمد

جاں بحق ہونے والوں میں ارشاد احمد ولد یار محمد (خیرپور)، غلام عباس ولد محمد مراد (گھوٹکی)، شہزاد ولد فیض محمد (گھوٹکی)، سجاد ولد فیض محمد (گھوٹکی) اور کامران ولد اللہ دیوایا (گھوٹکی) شامل ہیں۔

February 7, 2026

نوشکی میں دہشت گردی کے ایک دلخراش واقعے میں سندھ سے تعلق رکھنے والے پانچ مزدوروں کی لاشیں کلیئرنس آپریشن کے دوران برآمد ہوئیں، جس نے ایک بار پھر بلوچستان میں دہشت گردوں کے اصل ایجنڈے کو عیاں کر دیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 7 فروری 2026 کو نوشکی کے نواحی علاقے میں ملنے والی لاشیں اُن محنت کش افراد کی ہیں جو روزگار کی تلاش میں بلوچستان آئے تھے۔

جاں بحق ہونے والوں میں ارشاد احمد ولد یار محمد (خیرپور)، غلام عباس ولد محمد مراد (گھوٹکی)، شہزاد ولد فیض محمد (گھوٹکی)، سجاد ولد فیض محمد (گھوٹکی) اور کامران ولد اللہ دیوایا (گھوٹکی) شامل ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ان مزدوروں کو شناخت کے بعد، نسلی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ایک منظم نسلی تطہیر اور پاکستان میں لسانی و نسلی فساد بھڑکانے کی کوشش ہے۔

سیکیورٹی اور تجزیاتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر نام نہاد بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کا دعویٰ وسائل کے استحصال کے خلاف مزاحمت ہے، تو پھر غریب اور بے گناہ مزدوروں کو قتل کرنے کا کیا جواز ہے؟ یہ واقعہ اس دعوے کو مکمل طور پر جھوٹا ثابت کرتا ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کا ہدف ترقی یا حقوق نہیں بلکہ خوف، انتشار اور خانہ جنگی کو فروغ دینا ہے۔

عوامی ردِعمل میں نوشکی کے شہریوں نے دہشت گردی کے خلاف دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ ایسے عناصر کے ساتھ نہیں کھڑے جو بے گناہ پاکستانیوں کا خون بہائیں۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کا سب سے بڑا نقصان عام عوام کو اٹھانا پڑتا ہے، چاہے وہ بلوچستان کے ہوں یا سندھ کے۔

ماہرین کے مطابق یہ واقعہ بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے ایجنڈے کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد پاکستان میں نسلی تقسیم کو ہوا دینا اور اندرونی استحکام کو کمزور کرنا ہے۔ شناختی کارڈ کی بنیاد پر قتل اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ یہ دہشت گردی نہیں بلکہ سوچا سمجھا نسلی قتل عام ہے۔

ریاستی اداروں نے واضح کیا ہے کہ اس بزدلانہ کارروائی میں ملوث عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ عوام اور سیکیورٹی فورسز کا مشترکہ عزم ہے کہ دہشت گردی، نسلی نفرت اور پاکستان دشمن سازشوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔ نوشکی کے عوام کا دہشت گردی کے خلاف کھڑا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچستان اور پاکستان کے عوام دشمن کے ایجنڈے کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

دیکھیے: بلوچستان: آپریشن ’ردّالفتنہ-1‘ کامیابی سے مکمل، 216 دہشت گرد ہلاک

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *