نوشکی میں دہشت گردی کے ایک دلخراش واقعے میں سندھ سے تعلق رکھنے والے پانچ مزدوروں کی لاشیں کلیئرنس آپریشن کے دوران برآمد ہوئیں، جس نے ایک بار پھر بلوچستان میں دہشت گردوں کے اصل ایجنڈے کو عیاں کر دیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 7 فروری 2026 کو نوشکی کے نواحی علاقے میں ملنے والی لاشیں اُن محنت کش افراد کی ہیں جو روزگار کی تلاش میں بلوچستان آئے تھے۔
جاں بحق ہونے والوں میں ارشاد احمد ولد یار محمد (خیرپور)، غلام عباس ولد محمد مراد (گھوٹکی)، شہزاد ولد فیض محمد (گھوٹکی)، سجاد ولد فیض محمد (گھوٹکی) اور کامران ولد اللہ دیوایا (گھوٹکی) شامل ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ان مزدوروں کو شناخت کے بعد، نسلی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ایک منظم نسلی تطہیر اور پاکستان میں لسانی و نسلی فساد بھڑکانے کی کوشش ہے۔
سیکیورٹی اور تجزیاتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر نام نہاد بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کا دعویٰ وسائل کے استحصال کے خلاف مزاحمت ہے، تو پھر غریب اور بے گناہ مزدوروں کو قتل کرنے کا کیا جواز ہے؟ یہ واقعہ اس دعوے کو مکمل طور پر جھوٹا ثابت کرتا ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کا ہدف ترقی یا حقوق نہیں بلکہ خوف، انتشار اور خانہ جنگی کو فروغ دینا ہے۔
عوامی ردِعمل میں نوشکی کے شہریوں نے دہشت گردی کے خلاف دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ ایسے عناصر کے ساتھ نہیں کھڑے جو بے گناہ پاکستانیوں کا خون بہائیں۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کا سب سے بڑا نقصان عام عوام کو اٹھانا پڑتا ہے، چاہے وہ بلوچستان کے ہوں یا سندھ کے۔

ماہرین کے مطابق یہ واقعہ بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے ایجنڈے کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد پاکستان میں نسلی تقسیم کو ہوا دینا اور اندرونی استحکام کو کمزور کرنا ہے۔ شناختی کارڈ کی بنیاد پر قتل اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ یہ دہشت گردی نہیں بلکہ سوچا سمجھا نسلی قتل عام ہے۔
ریاستی اداروں نے واضح کیا ہے کہ اس بزدلانہ کارروائی میں ملوث عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ عوام اور سیکیورٹی فورسز کا مشترکہ عزم ہے کہ دہشت گردی، نسلی نفرت اور پاکستان دشمن سازشوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔ نوشکی کے عوام کا دہشت گردی کے خلاف کھڑا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچستان اور پاکستان کے عوام دشمن کے ایجنڈے کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔