پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 8 فروری 2026 کو ملک گیر شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی کال پر سوشل میڈیا میں ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جہاں صارفین نے پارٹی قیادت پر دوہرے معیار کے الزامات عائد کیے ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے پیغامات کے مطابق علیمہ خان نے پارٹی کارکنان کو ہدایت کی کہ وہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لیے بازاروں میں بھرپور مہم چلائیں، تاہم اسی پیغام کے ساتھ منسوب ایک اور پیغام میں ان کے صاحبزادے شہریز کے لیے لاہور میں اہلِ خانہ کے ساتھ بسنت منانے کی اجازت کا ذکر بھی سامنے آیا ہے۔ اس تضاد پر صارفین کی بڑی تعداد نے سخت تنقید کی ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ایک طرف پارٹی قیادت غریب اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کو کاروبار بند کر کے سڑکوں پر آنے کی ترغیب دے رہی ہے، جس کے نتیجے میں ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ سکتے ہیں، جبکہ دوسری طرف قیادت کے اپنے اہلِ خانہ معمول کے مطابق تقریبات اور تفریح میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔
تبصروں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر شٹر ڈاؤن واقعی عوامی مفاد اور کسی اصولی مؤقف کے لیے ہے تو پھر اس کے اثرات اور قربانی سب کے لیے یکساں کیوں نہیں؟ ناقدین کے مطابق اس طرزِ عمل سے نہ صرف سیاسی بیانیے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ کارکنوں اور عام شہریوں میں بددلی بھی پیدا ہوتی ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے متضاد پیغامات سیاسی جماعتوں کے لیے عوامی اعتماد کو نقصان پہنچاتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب معاشی حالات کے باعث یومیہ اجرت پر کام کرنے والا طبقہ پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے۔
تاحال پی ٹی آئی یا علیمہ خان کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آ سکی، تاہم سوشل میڈیا پر یہ بحث بدستور جاری ہے اور 8 فروری کی کال کے تناظر میں سیاسی بیانیے اور عملی رویے کے فرق کو نمایاں کر رہی ہے۔