سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ایک طرف پارٹی قیادت غریب اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کو کاروبار بند کر کے سڑکوں پر آنے کی ترغیب دے رہی ہے، جس کے نتیجے میں ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ سکتے ہیں، جبکہ دوسری طرف قیادت کے اپنے اہلِ خانہ معمول کے مطابق تقریبات اور تفریح میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔

February 8, 2026

وفاق المدارس کے قائدین نے اس بات پر زور دیا کہ اس خونریز اور ظالمانہ کارروائی میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے مکمل نیٹ ورک کا سراغ لگا کر انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور نشانِ عبرت بنایا جائے، تاکہ آئندہ ایسے بزدلانہ واقعات کی حوصلہ شکنی ہو۔

February 8, 2026

عوامی ردِعمل میں نوشکی کے شہریوں نے دہشت گردی کے خلاف دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ ایسے عناصر کے ساتھ نہیں کھڑے جو بے گناہ پاکستانیوں کا خون بہائیں۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کا سب سے بڑا نقصان عام عوام کو اٹھانا پڑتا ہے، چاہے وہ بلوچستان کے ہوں یا سندھ کے۔

February 7, 2026

بعد ازاں قومی پیغامِ امن کمیٹی کے وفد نے ترلائی کا بھی دورہ کیا، جہاں علما اور مشائخ نے خودکش دھماکے میں شہید ہونے والوں کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی، ان کے لیے دعائے مغفرت اور درجات کی بلندی کی دعا کی۔ وفد نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم ان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔

February 7, 2026

سکیورٹی نظام عموماً غیر معمولی یا گھبرائے ہوئے رویے پر ردِعمل ظاہر کرتا ہے۔ خودکش حملہ آور اسی نفسیاتی حقیقت سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس کے لیے واحد مقصد آخری ہدف کا حصول ہوتا ہے۔ اس مقصد کے سامنے ہر خطرہ، ہر رکاوٹ اور ہر ممکنہ انجام ثانوی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔

February 7, 2026

بلوچستان حکومت نے واضح کیا ہے کہ صوبے میں سکیورٹی کا یہ ماڈل صرف عسکری کارروائی تک محدود نہیں بلکہ قانون، ادارہ جاتی اصلاحات، ڈیجیٹل شفافیت اور انتہا پسندی کے تدارک پر مبنی ایک جامع حکمت عملی ہے، جو دیرپا امن اور استحکام کی بنیاد بنے گی۔

February 7, 2026

8 فروری کو پورے ملک کیلئے پہیہ جام ہڑتال کا اعلان مگر علیمہ خان کے اپنے بیٹے بسنت کی خوشیاں منائیں گے؛ سوشل میڈیا صارفین کی شدید تنقید

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ایک طرف پارٹی قیادت غریب اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کو کاروبار بند کر کے سڑکوں پر آنے کی ترغیب دے رہی ہے، جس کے نتیجے میں ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ سکتے ہیں، جبکہ دوسری طرف قیادت کے اپنے اہلِ خانہ معمول کے مطابق تقریبات اور تفریح میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔
8 فروری کو پورے ملک کیلئے پہیہ جام ہڑتال کا اعلان مگر علیمہ خان کے اپنے بیٹے بسنت کی خوشیاں منائیں گے؛ سوشل میڈیا صارفین کی شدید تنقید

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے متضاد پیغامات سیاسی جماعتوں کے لیے عوامی اعتماد کو نقصان پہنچاتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب معاشی حالات کے باعث یومیہ اجرت پر کام کرنے والا طبقہ پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے۔

February 8, 2026

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 8 فروری 2026 کو ملک گیر شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی کال پر سوشل میڈیا میں ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جہاں صارفین نے پارٹی قیادت پر دوہرے معیار کے الزامات عائد کیے ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے پیغامات کے مطابق علیمہ خان نے پارٹی کارکنان کو ہدایت کی کہ وہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لیے بازاروں میں بھرپور مہم چلائیں، تاہم اسی پیغام کے ساتھ منسوب ایک اور پیغام میں ان کے صاحبزادے شہریز کے لیے لاہور میں اہلِ خانہ کے ساتھ بسنت منانے کی اجازت کا ذکر بھی سامنے آیا ہے۔ اس تضاد پر صارفین کی بڑی تعداد نے سخت تنقید کی ہے۔

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ایک طرف پارٹی قیادت غریب اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کو کاروبار بند کر کے سڑکوں پر آنے کی ترغیب دے رہی ہے، جس کے نتیجے میں ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ سکتے ہیں، جبکہ دوسری طرف قیادت کے اپنے اہلِ خانہ معمول کے مطابق تقریبات اور تفریح میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔

تبصروں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر شٹر ڈاؤن واقعی عوامی مفاد اور کسی اصولی مؤقف کے لیے ہے تو پھر اس کے اثرات اور قربانی سب کے لیے یکساں کیوں نہیں؟ ناقدین کے مطابق اس طرزِ عمل سے نہ صرف سیاسی بیانیے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ کارکنوں اور عام شہریوں میں بددلی بھی پیدا ہوتی ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے متضاد پیغامات سیاسی جماعتوں کے لیے عوامی اعتماد کو نقصان پہنچاتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب معاشی حالات کے باعث یومیہ اجرت پر کام کرنے والا طبقہ پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے۔

تاحال پی ٹی آئی یا علیمہ خان کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آ سکی، تاہم سوشل میڈیا پر یہ بحث بدستور جاری ہے اور 8 فروری کی کال کے تناظر میں سیاسی بیانیے اور عملی رویے کے فرق کو نمایاں کر رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

وفاق المدارس کے قائدین نے اس بات پر زور دیا کہ اس خونریز اور ظالمانہ کارروائی میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے مکمل نیٹ ورک کا سراغ لگا کر انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور نشانِ عبرت بنایا جائے، تاکہ آئندہ ایسے بزدلانہ واقعات کی حوصلہ شکنی ہو۔

February 8, 2026

عوامی ردِعمل میں نوشکی کے شہریوں نے دہشت گردی کے خلاف دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ ایسے عناصر کے ساتھ نہیں کھڑے جو بے گناہ پاکستانیوں کا خون بہائیں۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کا سب سے بڑا نقصان عام عوام کو اٹھانا پڑتا ہے، چاہے وہ بلوچستان کے ہوں یا سندھ کے۔

February 7, 2026

بعد ازاں قومی پیغامِ امن کمیٹی کے وفد نے ترلائی کا بھی دورہ کیا، جہاں علما اور مشائخ نے خودکش دھماکے میں شہید ہونے والوں کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی، ان کے لیے دعائے مغفرت اور درجات کی بلندی کی دعا کی۔ وفد نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم ان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔

February 7, 2026

سکیورٹی نظام عموماً غیر معمولی یا گھبرائے ہوئے رویے پر ردِعمل ظاہر کرتا ہے۔ خودکش حملہ آور اسی نفسیاتی حقیقت سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس کے لیے واحد مقصد آخری ہدف کا حصول ہوتا ہے۔ اس مقصد کے سامنے ہر خطرہ، ہر رکاوٹ اور ہر ممکنہ انجام ثانوی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔

February 7, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *