چیرمین واپڈا نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کی یکطرفہ معطلی اور مغربی دریاؤں پر تعمیراتی سرگرمیاں پاکستان کے آبی، غذائی اور معاشی تحفظ کے لیے سنگین تزویراتی خطرہ ہیں۔

July 6, 2026

خوست میں طالبان کمانڈروں کی جانب سے خواتین کی مبینہ بے حرمتی اور فوجی عدالت کی طرف سے متاثرہ خاندان کو دھمکیوں نے افغان نظامِ انصاف کو بے نقاب کر دیا ہے۔

July 5, 2026

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں پاکستانی وفد کی شرکت کو ماہرین نے اسلام آباد کی متوازن خارجہ پالیسی اور علاقائی استحکام کی کوششوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔

July 4, 2026

افغانستان میں طالبان کی پابندیوں کے بعد لڑکیوں کے لیے آن لائن تعلیم ہی واحد راستہ تھی، مگر غربت اور انٹرنیٹ کی کمی بڑی رکاوٹ بن گئی ہیں۔

July 3, 2026

بلوچستان کے ضلع ژوب میں کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس گہری کھائی میں گرنے سے 40 مسافر جاں بحق ہو گئے۔

July 3, 2026

امریکہ نے افغانستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر پاکستان کے فضائی حملوں کو شہریوں اور سرزمین کے دفاع کا جائز حق قرار دے دیا۔

July 3, 2026

8 فروری کو پورے ملک کیلئے پہیہ جام ہڑتال کا اعلان مگر علیمہ خان کے اپنے بیٹے بسنت کی خوشیاں منائیں گے؛ سوشل میڈیا صارفین کی شدید تنقید

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ایک طرف پارٹی قیادت غریب اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کو کاروبار بند کر کے سڑکوں پر آنے کی ترغیب دے رہی ہے، جس کے نتیجے میں ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ سکتے ہیں، جبکہ دوسری طرف قیادت کے اپنے اہلِ خانہ معمول کے مطابق تقریبات اور تفریح میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔
8 فروری کو پورے ملک کیلئے پہیہ جام ہڑتال کا اعلان مگر علیمہ خان کے اپنے بیٹے بسنت کی خوشیاں منائیں گے؛ سوشل میڈیا صارفین کی شدید تنقید

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے متضاد پیغامات سیاسی جماعتوں کے لیے عوامی اعتماد کو نقصان پہنچاتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب معاشی حالات کے باعث یومیہ اجرت پر کام کرنے والا طبقہ پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے۔

February 8, 2026

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 8 فروری 2026 کو ملک گیر شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی کال پر سوشل میڈیا میں ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جہاں صارفین نے پارٹی قیادت پر دوہرے معیار کے الزامات عائد کیے ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے پیغامات کے مطابق علیمہ خان نے پارٹی کارکنان کو ہدایت کی کہ وہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لیے بازاروں میں بھرپور مہم چلائیں، تاہم اسی پیغام کے ساتھ منسوب ایک اور پیغام میں ان کے صاحبزادے شہریز کے لیے لاہور میں اہلِ خانہ کے ساتھ بسنت منانے کی اجازت کا ذکر بھی سامنے آیا ہے۔ اس تضاد پر صارفین کی بڑی تعداد نے سخت تنقید کی ہے۔

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ایک طرف پارٹی قیادت غریب اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کو کاروبار بند کر کے سڑکوں پر آنے کی ترغیب دے رہی ہے، جس کے نتیجے میں ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ سکتے ہیں، جبکہ دوسری طرف قیادت کے اپنے اہلِ خانہ معمول کے مطابق تقریبات اور تفریح میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔

تبصروں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر شٹر ڈاؤن واقعی عوامی مفاد اور کسی اصولی مؤقف کے لیے ہے تو پھر اس کے اثرات اور قربانی سب کے لیے یکساں کیوں نہیں؟ ناقدین کے مطابق اس طرزِ عمل سے نہ صرف سیاسی بیانیے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ کارکنوں اور عام شہریوں میں بددلی بھی پیدا ہوتی ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے متضاد پیغامات سیاسی جماعتوں کے لیے عوامی اعتماد کو نقصان پہنچاتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب معاشی حالات کے باعث یومیہ اجرت پر کام کرنے والا طبقہ پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے۔

تاحال پی ٹی آئی یا علیمہ خان کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آ سکی، تاہم سوشل میڈیا پر یہ بحث بدستور جاری ہے اور 8 فروری کی کال کے تناظر میں سیاسی بیانیے اور عملی رویے کے فرق کو نمایاں کر رہی ہے۔

دیکھیے: بلوچستان: آپریشن ’ردّالفتنہ-1‘ کامیابی سے مکمل، 216 دہشت گرد ہلاک

متعلقہ مضامین

چیرمین واپڈا نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کی یکطرفہ معطلی اور مغربی دریاؤں پر تعمیراتی سرگرمیاں پاکستان کے آبی، غذائی اور معاشی تحفظ کے لیے سنگین تزویراتی خطرہ ہیں۔

July 6, 2026

خوست میں طالبان کمانڈروں کی جانب سے خواتین کی مبینہ بے حرمتی اور فوجی عدالت کی طرف سے متاثرہ خاندان کو دھمکیوں نے افغان نظامِ انصاف کو بے نقاب کر دیا ہے۔

July 5, 2026

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں پاکستانی وفد کی شرکت کو ماہرین نے اسلام آباد کی متوازن خارجہ پالیسی اور علاقائی استحکام کی کوششوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔

July 4, 2026

افغانستان میں طالبان کی پابندیوں کے بعد لڑکیوں کے لیے آن لائن تعلیم ہی واحد راستہ تھی، مگر غربت اور انٹرنیٹ کی کمی بڑی رکاوٹ بن گئی ہیں۔

July 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *