اکستان تحریک انصاف کی جانب سے 8 فروری کو دی گئی ملک گیر احتجاجی کال بری طرح ناکام ہو گئی، کیونکہ ملک کے مختلف حصوں میں نہ کوئی بڑا اجتماع دیکھنے میں آیا اور نہ ہی روزمرہ زندگی متاثر ہوئی۔ مختلف شہروں اور کاروباری مراکز میں معمولاتِ زندگی پوری طرح بحال رہے اور عوام نے احتجاجی اپیل کو یکسر مسترد کر دیا۔
خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں صورتحال مکمل طور پر معمول کے مطابق رہی۔ ہری پور، ایبٹ آباد، باڑہ بازار، مردان، صوابی، کوہاٹ، لنڈی کوتل، ڈیرہ اسماعیل خان اور حتیٰ کہ پشاور میں بھی کاروباری سرگرمیاں جاری رہیں۔ بازار کھلے رہے، ٹرانسپورٹ رواں دواں رہی اور کسی بڑے احتجاج یا شٹر ڈاؤن کا کوئی اثر نظر نہیں آیا۔
باڑہ بازار میں ایک بھی دکان بند نہ ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تاجر برادری نے سیاسی احتجاج کو رد کر دیا۔ لنڈی کوتل کے تاجروں نے بھی کھل کر سیاسی ڈرامے سے لاتعلقی کا اظہار کیا، جبکہ گدوّن انڈسٹریل اسٹیٹ میں صنعتی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں اور احتجاجی کال کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق نہ شٹر ڈاؤن ہوا اور نہ ہی پہیہ جام، جو اس بات کی علامت ہے کہ عوام اب ایسے احتجاجی نعروں سے اکتا چکے ہیں جو ان کے روزگار اور معمولاتِ زندگی کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ عوامی سطح پر اس کال کا نہ آنا اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ عوام سیاسی عدم استحکام کے بجائے معاشی بہتری اور امن و استحکام کو ترجیح دے رہے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ 8 فروری کی احتجاجی کال کی ناکامی نے واضح کر دیا ہے کہ محض سوشل میڈیا بیانیے اور جذباتی نعروں سے عوام کو سڑکوں پر نہیں لایا جا سکتا۔ موجودہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام نے عملی طور پر اس احتجاج کو مسترد کر کے معمولاتِ زندگی کو ترجیح دی ہے۔