مولانا فضل الرحمان نے حال ہی میں راولپنڈی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سرحدیں مکمل طور پر محفوظ نہیں ہیں اور اس وجہ سے دہشت گرد سرحد پار کر کے ملک میں داخل ہو جاتے ہیں۔ ان کے اس بیان کے بعد کئی اہم نکات اور سوالات سامنے آئے ہیں، جنہیں حقائق کی روشنی میں زیر غور لایا جا سکتا ہے۔
تجارت بمقابلہ دراندازی
مولانا فضل الرحمان کی گفتگو میں ایک بنیادی مغالطہ یہ ہے کہ قانونی تجارت اور غیر قانونی دراندازی کو ایک ہی زمرے میں رکھا گیا۔ قانونی تجارت کسٹمز، دستاویزات، اسکیننگ اور چیک پوسٹس سے گزرتی ہے، جبکہ دہشت گرد انہی نظامی راستوں سے بچتے ہوئے دشوار گزار راستوں اور رات کے وقت نقل و حرکت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
سرحدی بندش اور دہشت گردی
یہ کہنا کہ “جب تجارت نہیں گزر سکتی تو دہشت گرد کیسے آتے ہیں” زمینی حقائق سے آنکھیں موندنے کے مترادف ہے۔ دنیا کی کوئی سرحد، بالخصوص پہاڑی اور طویل سرحد، مکمل طور پر بند نہیں ہو سکتی۔ اصل سوال یہ ہے کہ دراندازی کو کس طرح کم سے کم کیا جائے اور نیٹ ورک کو کس طرح توڑا جائے، نہ کہ صرف سرحد کی سختی کو بنیاد بنا کر تنقید کی جائے۔
بارڈر مینجمنٹ اور پاکستان کی کوششیں
ریاست نے سرحدی خطرات کو کم کرنے کے لیے باڑ لگائی، چوکیاں بڑھائیں اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے۔ تاہم یہ حقیقت بھی موجود ہے کہ پاکستان افغان سرزمین میں جا کر قانون نافذ نہیں کر سکتا۔ سرحدی خطرہ مشترکہ ہے اور اس کی ذمہ داری بھی دو طرفہ ہے۔
دہشت گردی کی پیچیدگیاں
دہشت گردی صرف سرحد پار کرنے تک محدود نہیں؛ اس کے پیچھے پناہ گاہیں، مالی معاونت، سہولت کار اور دونوں طرف کے نیٹ ورک موجود ہیں۔ اس نکتے پر سوال یہ اٹھتا ہے کہ دہشت گردی کے مسئلے کا حل صرف سرحد کی سختی سے ممکن نہیں۔
افغانستان کے ساتھ تاریخی تعلقات
افغانستان کے ساتھ بداعتمادی کا پس منظر آج کا نہیں بلکہ 1947 سے موجود ہے، جس نے تعلقات میں پیچیدگیاں پیدا کیں۔ اس کے باوجود پاکستان نے بارہا تعاون، تجارت اور امن کی بات کی اور عملی سہولت بھی فراہم کی۔
پاکستان کی افغان پالیسی اور تنقید
یہ کہنا کہ “پاکستان کی افغان پالیسی 78 سال میں ناکام رہی” غیر منصفانہ ہے۔ افغانستان میں 40 سالہ جنگ، بیرونی مداخلت، داخلی دھڑے بندی اور ریاستی کمزوریاں حقیقی مسائل ہیں جن کی ذمہ داری افغان حکومت پر ہے، نہ کہ پاکستان پر۔
دیکھیے: طالبان وزارتِ دفاع کے دعوے مسترد، افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی ثابت