"> بلوچستان میں امن و امان بحال، دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں جاری رکھنے کا فیصلہ - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

بلوچستان میں امن و امان بحال، دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں جاری رکھنے کا فیصلہ

سکیورٹی حکام کے مطابق بلوچستان بھر میں امن و امان بحال کر دیا گیا ہے، جبکہ دہشت گردی اور بدامنی میں ملوث عناصر کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنایا جا رہا ہے
سکیورٹی حکام کے مطابق بلوچستان بھر میں امن و امان بحال کر دیا گیا ہے، جبکہ دہشت گردی اور بدامنی میں ملوث عناصر کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنایا جا رہا ہے

February 9, 2026

سکیورٹی حکام کے مطابق شہر میں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر قابو میں لے لی گئی ہے، تاہم دہشت گردی اور بدامنی میں ملوث عناصر کے خلاف کاروائیاں مسلسل جاری رہیں گی۔ حکام نے واضح کیا کہ ریاست کسی بھی صورت میں عوام کو مسلح گروہوں یا قانون شکن عناصر کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑے گی۔

رپورٹ کے مطابق جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) اور انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور (آئی جی ایف سی) نے کوئٹہ شہر کا دورہ کیا، جہاں انہیں سکیورٹی صورتحال، جاری آپریشنز اور شہری تحفظ کے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔ اس موقع پر سکیورٹی حکام کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کاروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی اور قانون کے مطابق ذمہ دار عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔

حکام کے مطابق حالیہ واقعات کے بعد حساس تنصیبات، مالیاتی اداروں اور عوامی مقامات کی سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق ملک دشمن عناصر اور بیرونی حمایت یافتہ گروہوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور صورتحال کو مکمل طور پر معمول پر لانے کے لیے جامع اقدامات جاری ہیں۔

سکیورٹی حکام نے شہریوں کو یقین دہانی کرائی کہ ریاستی ادارے عوام کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر متحرک ہیں اور ہر صورت میں امن و استحکام کو برقرار رکھا جائے گا۔

دیکھیے: افغانستان میں امن، خطے میں خوشحالی: پاکستان ۔ قازقستان کا تاریخی اعلامیہ

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *