بھارتی وزارتِ دفاع کے ڈائریکٹوریٹ آف پبلک ریلیشنز (ڈی پی آر) کے حوالے سے سنسنی خیز تفصیلات سامنے آئی ہیں، جس کے مطابق یہ ادارہ بھارت کی ‘پروپیگنڈا مشینری’ کے طور پر کام کر رہا ہے۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد ملکی اور عالمی سطح پر بھارتی افواج کے حق میں بیانیے کو تشکیل دینا اور مخصوص انفارمیشن وارفیئر کے ذریعے مخالف بیانیے کی نگرانی اور اسے ناکام بنانا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس نیٹ ورک میں 10,000 سے زائد میڈیا پروفیشنلز، ڈیجیٹل ماہرین اور انٹیلیجنس تجزیہ کار شامل ہیں جو 25 علاقائی دفاتر کے ذریعے کام کرتے ہیں۔
بھارت اس وسیع نیٹ ورک، سوشل میڈیا مہمات، بین الاقوامی اثر و رسوخ اور پڑوسی ممالک جیسے افغانستان، نیپال اور مالدیپ میں مثبت تاثر کے لیے سالانہ 2,634 کروڑ بھارتی روپے (تقریباً 8,161 کروڑ پاکستانی روپے) خرچ کر رہا ہے۔ اس بجٹ کا ایک بڑا حصہ ڈیجیٹل پروپیگنڈے، انفلوئنسرز کی خدمات حاصل کرنے، اور اسٹریٹجک میسجنگ کے لیے مختص کیا گیا ہے، جبکہ آئی ڈی ایس اے جیسے دفاعی تھنک ٹینکس اس پورے نظام کو پالیسی سپورٹ فراہم کر رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ خطیر سرمایہ کاری محض میڈیا مینجمنٹ نہیں بلکہ عالمی سطح پر حقائق کو مسخ کرکے پیش کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔
بھارتی وزارت دفاع کا ڈائریکٹوریٹ آف پبلک ریلیشنز (ڈی پی آر) ملک کے دفاعی مواصلات اور اسٹریٹجک پروپیگنڈے کا مرکزی محور ہے۔ یہ ادارہ مقامی اور بین الاقوامی سطح پر بھارتی مسلح افواج اور دفاعی پالیسی کے حق میں مؤثر بیانیہ تشکیل دینے اور اسے فروغ دینے کے لیے مکمل طور پر سرگرم ہے۔ ڈی پی آر کی سرگرمیاں صرف خبروں کی تشہیر تک محدود نہیں، بلکہ اس میں بھارت کے عسکری اقدامات، جغرافیائی سیاسی مقاصد اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ایک مربوط اور منظم پیغام رسانی کا نظام شامل ہے۔
علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ڈی پی آر کا دائرہ کار جنوبی ایشیا اور اس سے باہر تک پھیلا ہوا ہے۔ ادارہ افغانستان، نیپال، سری لنکا، بنگلہ دیش اور مالدیپ جیسے ممالک میں مخصوص میڈیا آؤٹ ریچ اور ثقافتی ڈپلومیسی کے پروگرام چلاتا ہے تاکہ بھارت کا مثبت تاثر قائم رہے۔ ادارے کی تنظیمی ساخت میں ایک مرکزی ہیڈکوارٹر کے ساتھ ساتھ 25 سے زیادہ علاقائی دفاتر شامل ہیں، جو ہر فوجی شاخ (بری، بحری، فضائی) کے لیے الگ یونٹس کے ذریعے مربوط کام کرتے ہیں۔ اس پورے نیٹ ورک میں ہزاروں اہلکار، صحافی، تکنیکی ماہرین اور ڈیجیٹل کنٹینٹ تخلیق کار شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ڈی پی آر کے سالانہ بجٹ کا تخمینہ اربوں روپے ہے، جو بنیادی طور پر چار اہم شعبوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: مواصلاتی مہمات، افرادی قوت کے اخراجات، میڈیا پروڈکشن اور ہنگامی فنڈز۔ یہ فنڈز مختلف پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اشتہارات، دستاویزی فلموں کی تیاری، بین الاقوامی کانفرنسوں اور سیمینارز کے انعقاد، نیز تھنک ٹینکس کو مالی معاونت فراہم کرنے پر خرچ کیے جاتے ہیں۔
دفاعی تھنک ٹینکس، جیسے انسٹی ٹیوٹ فار ڈیفنس اسٹڈیز اینڈ انیلیسز (آئی ڈی ایس اے)، ڈی پی آر کو پالیسی و تحقیق سے متعلق علمی مواد فراہم کرتے ہیں تاکہ اس کی مواصلاتی مہمات زیادہ مؤثر اور مستند ثابت ہوں۔ مجموعی طور پر ڈی پی آر اور تھنک ٹینکس کے لیے مختص یہ فنڈز بھارت کے دفاعی بیانیے اور علم کے ماحولیاتی نظام کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جس کا مقصد عالمی سطح پر بھارت کو ایک طاقتور اور مستحکم ملک کے طور پر پیش کرنا ہے۔
علاقائی و بین الاقوامی اثرات
ڈی پی آر کے وسیع پروپیگنڈہ نیٹ ورک اور بھاری فنڈنگ کے متعدد فوری اور طویل المدتی اثرات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ علاقائی سطح پر ادارے نے پاکستان سمیت ہمسایہ ممالک کے خلاف منفی بیانیے کو منظم طور پر فروغ دے کر باہمی تعلقات میں کشیدگی پیدا کی ہے۔ افغانستان اور نیپال جیسے ممالک میں بھارتی میڈیا مہمات مقامی سیاست اور عوامی رائے پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتی ہیں، جس سے ان ممالک میں بھارت کے خلاف بداعتمادی میں اضافہ ہوا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر ڈی پی آر کی کوششوں نے بھارت کو ایک “جمہوری دفاعی طاقت” کے طور پر پیش کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے، لیکن ساتھ ہی اس نے خطے میں معلوماتی جنگ کو بھی تیز کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں جعلی خبروں، ڈیپ فیک ویڈیوز اور من گھڑت واقعات کی تشہیر میں خطرناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے جنوبی ایشیا میں میڈیا کی قابل اعتمادی متاثر ہوئی ہے۔
داخلی و معاشی نتائج
داخلی سطح پر ڈی پی آر کے پروپیگنڈے نے بھارتی عوام میں قوم پرستی کی ایک خاص قسم کی فضا قائم کی ہے، جس میں تنقیدی آوازوں کو دبانے اور فوجی اقدامات کی بلا تحقیق حمایت کی ثقافت کو فروغ ملا ہے۔ اس کے نتیجے میں بھارت میں صحافت کی آزادی اور میڈیا کی خودمختاری پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
معاشی طور پر اربوں روپے کے اس بجٹ نے دفاعی میڈیا کمپلیکس کو جنم دیا ہے جس میں درجنوں نجی کمپنیاں، میڈیا ہاؤسز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز شامل ہیں، جو سرکاری فنڈز پر انحصار کرتے ہیں۔ اس نے بھارتی میڈیا میں ایک غیر متنوع اور یک طرفہ بیانیے کو مستحکم کیا ہے۔
طویل المدتی نتائج
طویل المدتی نتائج کے طور پر ڈی پی آر کی سرگرمیاں خطے میں مستقل معلوماتی جنگ کا باعث بن رہی ہیں، جس نے علاقائی امن اور باہمی مفاہمت کے امکانات کو کم کیا ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف بھارت کے بیرونی تعلقات کو تشکیل دے رہا ہے بلکہ ملک کے داخلی سیاسی اور ثقافتی منظر نامے پر بھی گہرا اثر ڈال رہا ہے، جس سے جمہوری اقدار اور شفافیت کے تحفظ کے حوالے سے سنجیدہ سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔
دیکھیے: افغانستان میں امن، خطے میں خوشحالی: پاکستان ۔ قازقستان کا تاریخی اعلامیہ