سوشل میڈیا پر افغان طالبان سے وابستہ پراپیگنڈا اکاؤنٹس کی جانب سے حماس سے منسوب ایک ویڈیو تیزی سے وائرل کی جا رہی ہے، جسے تحقیقات کے بعد مکمل طور پر جعلی اور من گھڑت پایا گیا ہے۔ ویڈیو میں دانستہ طور پر فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے بجائے پاکستان دشمن دہشت گرد گروپ ‘تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی ٹی)’ کے نشانات اور علامات استعمال کی گئی ہیں، جو اس منظم دھوکے اور جعلسازی کو واضح کرتی ہے۔
بنیادی حقائق
ویڈیو میں موجود بصری شواہد اور علامات پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہ ‘تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھتی ہیں، نہ کہ فلسطینی مزاحمتی تحریک ‘حماس’ سے۔ یاد رہے کہ حماس اپنے باضابطہ اور مصدقہ چینلز کے ذریعے ہی اپنے بیانات جاری کرتی ہے اور کبھی بھی طالبان یا ان سے وابستہ غیر مصدقہ اکاؤنٹس کا استعمال نہیں کرتی۔ افغان طالبان کے پراپیگنڈا مشینری نے حماس کی آڑ میں اپنے دہشت گردانہ ایجنڈے کو جائز دکھانے اور عوامی جذبات کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔
پاکستان کا واضح مؤقف
پاکستان کی وزارت خارجہ کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ‘بورڈ آف پیس’ کے حالیہ اجلاس میں شرکت کا مقصد صرف اور صرف غزہ میں فلسطینی شہریوں کے قتل کو روکنے کے لیے بین الاقوامی اقدامات کی حمایت کرنا تھا۔ یہ شرکت کسی فوجی یا سیکیورٹی معاہدے کا حصہ بننے کے لیے نہیں تھی۔
پاکستانی حکام کے مطابق فلسطین کے تنازعے کے حوالے سے پاکستان کا اصولی اور تاریخی مؤقف تبدیل نہیں ہوا، جو 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر دو ریاستی حل کے حق میں ہے، جس میں مشرقی یروشلم کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کیا جائے۔ انہوں نے جعلی پروپیگنڈے کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کبھی بھی حماس کی غیر مسلح سازی کے کسی بھی عمل کا حصہ نہیں بنے گا۔
*لکه څنګه چې تاسو خبر یاست!*
— فضل الله مدنی (@fazalullah_m313) February 9, 2026
چې دپاکستان مرتد فوج د حماس مقابلې لپاره خپل فوځ ليږلي وو..
دغه ورور د حماس مجاهدينو ورونو ته د اطمنان پيغام ورکوي .
وايي چې کووم مرتد فوج ستاسو مقابلې ته درغلي دا به اللّٰه تعالی ستاسو په لاس د جهنم کندې ته خطا کوي pic.twitter.com/WbQLJpgipe
طالبان کی منافقت بے نقاب
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ افغان طالبان کی پراپیگنڈا حکمت عملی کی بے ضابطگیوں کو یکسر بے نقاب کرتا ہے۔ ان کی جانب سے امریکہ کے خلاف سخت بیانات کے باوجود امریکی امداد پر انحصار، اور دوسری طرف اسرائیل کے اتحادی بھارت کے ساتھ بڑھتی ہوئی قربت، ان کے نام نہاد “فلسطین نواز” بیانیے کے شدید تضاد کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ واقعہ طالبان سے وابستہ پراپیگنڈا چینلز کی اس روش کی ایک اور مثال ہے جہاں وہ تحریف، جعلسازی اور غلط معلومات پھیلا کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم، حقائق کی جانچ اور تصدیق کے بعد ان کے ایسے تمام بیانات اور مواد بے بنیاد ثابت ہوتے ہیں۔ پاکستان فلسطین کے عوام کے ساتھ اپنی یک طرفہ اور پرخلوص حمایت جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ دہشت گرد گروہوں کی طرف سے پھیلائے جانے والے جعلی پروپیگنڈے کو مسترد کرتا ہے۔