فوج میں صوبائی نمائندگی سے متعلق جاری بحث کے دوران میجر جنرل (ر) زاہد محمود نے اعداد و شمار کے ساتھ وضاحت پیش کرتے ہوئے محمود اچکزئی کے بیان کو حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی آبادی اور مسلح افواج میں صوبائی نمائندگی عمومی طور پر آبادی کے تناسب کے قریب ہے۔
ان کے مطابق پنجاب کی مجموعی قومی آبادی میں شرح تقریباً 51 سے 52 فیصد ہے اور فوج میں نمائندگی بھی اسی تناسب کے قریب پائی جاتی ہے۔ سندھ کی آبادی 20 سے 21 فیصد کے درمیان بتائی جاتی ہے جبکہ فوج میں اس کی نمائندگی تقریباً 17 فیصد کے قریب ہے۔ اسی طرح بلوچستان کی پاکستان میں مجموعی آبادی تقریباً 5 سے 6 فیصد ہے اور فوج میں اس صوبے کی نمائندگی بھی تقریباً پانچ فیصد کے قریب بتائی جاتی ہے۔
میجر جنرل (ر) زاہد محمود نے مزید کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج کی قیادت مختلف صوبوں سے تعلق رکھنے والے افسران کرتے رہے ہیں۔ سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل محمد موسیٰ خان جن کا تعلق بلوچستان کے ہزارہ برادری سے تھا، سمیت سندھ، بلوچستان اور دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ افسران اہم عسکری ذمہ داریاں انجام دیتے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس وضاحت کے بعد فوج میں صوبائی نمائندگی سے متعلق پائے جانے والے بعض تاثر کی نفی ہوتی ہے اور اعداد و شمار اس معاملے کو حقائق کی بنیاد پر دیکھنے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔