لاہور میں اسماء جہانگیر کانفرنس کے دوران پروگریسو اسٹوڈنٹس کلیکٹیو کے صدر علی عبداللہ نے جرمن سفیر سے سوال کیا کہ وہ معذوری کے موضوع پر بات تو کر رہی ہیں لیکن ان کی حکومت غزہ میں بچوں کو معذور کرنے کے عمل کی مالی معاونت فراہم کر رہی ہے۔ اس سوال کے ذریعے واضح کیا گیا کہ اظہارِ رائے اور انسانی حقوق پر بات کرنے میں عالمی سطح پر بھی دوہرے معیار موجود ہیں۔
کانفرنس کے شرکاء اور سوشل میڈیا صارفین نے کہا کہ آزادیٔ اظہار صرف پاکستان کے اداروں اور حکومت کے خلاف محدود نہیں رہنی چاہیے، بلکہ عالمی انسانی حقوق اور انسانی مسائل پر بھی کھل کر بحث ہونی چاہیے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں عام طور پر اظہارِ رائے کی آزادی حکومت یا ریاستی اداروں پر تنقید تک محدود رکھی جاتی ہے، لیکن جب غیر ملکی یا سفارتکار سے سوال کیا جائے تو بعض حلقے اسے دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔
علی عبداللہ کے اس سوال کے علاوہ دیگر کلپس بھی پیش کیے گئے، جن میں فلسطین اور غزہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، معذوری اور عالمی انسانی مسائل پر بات کرنے کی ضرورت اجاگر کی گئی۔ یہ کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے اور عوام و دانشور طبقے میں بحث کا مرکز بن گئے، جس سے دوہرے معیار کھل کر سامنے آئے۔
President PSC @AliAbdullahK_ questioned the German Ambassador at the Asma Jahangir Conference on her audacity to speak on disability while her government is funding the disabling of children in G@za#AJConf #Lahore pic.twitter.com/1t0sQ3TZ96
— Progressive Students’ Collective (@PSCollective_) February 8, 2026
کانفرنس کی انتظامیہ نے بھی واضح کیا کہ تمام شرکاء کو آزادانہ طور پر سوال کرنے کی اجازت ہے اور اظہارِ رائے کو روکنا یا محدود کرنا کانفرنس کے اصول کے خلاف ہے۔ یہ واقعہ اس بات کا آئینہ دار ہے کہ اکثر لوگ داخلی مسائل پر کھل کر بات کرتے ہیں، مگر عالمی انسانی حقوق کے معاملات پر خاموش رہنے یا دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔