"> جرمن سفیر سے غزہ پر تلخ سوال نے عالمی انسانی حقوق کے علمبرداروں کے دوہرے معیار بے نقاب کر دیے - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

جرمن سفیر سے غزہ پر تلخ سوال نے عالمی انسانی حقوق کے علمبرداروں کے دوہرے معیار بے نقاب کر دیے

کانفرنس میں علی عبداللہ نے جرمن سفیر سے سوال کیا، جس سے یہ واضح ہوا کہ اظہارِ رائے بعض اوقات محدود اور دوہرے معیار کے تحت لاگو کیا جاتا ہے، جبکہ عالمی انسانی حقوق کے مسائل پر سوالات کو دبایا جاتا ہے
کانفرنس میں علی عبداللہ نے جرمن سفیر سے سوال کیا، جس سے یہ واضح ہوا کہ اظہارِ رائے بعض اوقات محدود اور دوہرے معیار کے تحت لاگو کیا جاتا ہے، جبکہ عالمی انسانی حقوق کے مسائل پر سوالات کو دبایا جاتا ہے

لاہور میں اسماء جہانگیر کانفرنس میں پروگریسو اسٹوڈنٹس نے جرمن سفیر سے سوال کر کے اظہارِ رائے کے علمبرداروں کے دوہرے معیار کو بے نقاب کیا

February 10, 2026

لاہور میں اسماء جہانگیر کانفرنس کے دوران پروگریسو اسٹوڈنٹس کلیکٹیو کے صدر علی عبداللہ نے جرمن سفیر سے سوال کیا کہ وہ معذوری کے موضوع پر بات تو کر رہی ہیں لیکن ان کی حکومت غزہ میں بچوں کو معذور کرنے کے عمل کی مالی معاونت فراہم کر رہی ہے۔ اس سوال کے ذریعے واضح کیا گیا کہ اظہارِ رائے اور انسانی حقوق پر بات کرنے میں عالمی سطح پر بھی دوہرے معیار موجود ہیں۔

کانفرنس کے شرکاء اور سوشل میڈیا صارفین نے کہا کہ آزادیٔ اظہار صرف پاکستان کے اداروں اور حکومت کے خلاف محدود نہیں رہنی چاہیے، بلکہ عالمی انسانی حقوق اور انسانی مسائل پر بھی کھل کر بحث ہونی چاہیے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں عام طور پر اظہارِ رائے کی آزادی حکومت یا ریاستی اداروں پر تنقید تک محدود رکھی جاتی ہے، لیکن جب غیر ملکی یا سفارتکار سے سوال کیا جائے تو بعض حلقے اسے دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔

علی عبداللہ کے اس سوال کے علاوہ دیگر کلپس بھی پیش کیے گئے، جن میں فلسطین اور غزہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، معذوری اور عالمی انسانی مسائل پر بات کرنے کی ضرورت اجاگر کی گئی۔ یہ کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے اور عوام و دانشور طبقے میں بحث کا مرکز بن گئے، جس سے دوہرے معیار کھل کر سامنے آئے۔

کانفرنس کی انتظامیہ نے بھی واضح کیا کہ تمام شرکاء کو آزادانہ طور پر سوال کرنے کی اجازت ہے اور اظہارِ رائے کو روکنا یا محدود کرنا کانفرنس کے اصول کے خلاف ہے۔ یہ واقعہ اس بات کا آئینہ دار ہے کہ اکثر لوگ داخلی مسائل پر کھل کر بات کرتے ہیں، مگر عالمی انسانی حقوق کے معاملات پر خاموش رہنے یا دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔

دیکھیے: ازبک صدر شوکت مرزایوف دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *