جاوید ہاشمی کی جانب سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو نے ملک کے سیاسی اور دفاعی حلقوں میں شدید اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ مذکورہ ویڈیو میں جاوید ہاشمی نے بانیٔ پی ٹی آئی اور عسکری قیادت کے مابین مبینہ رابطوں اور پیغامات کے تبادلے کے حوالے سے سنسنی خیز دعوے کیے ہیں، جنہیں دفاعی ماہرین نے من گھڑت اور قومی سلامتی کے منافی قرار دیا ہے۔
بانیٔ پی ٹی آئی سے متعلق جاوید ہاشمی کے دعوے
موصوف نے دعویٰ کیا ہے کہ اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی جانب سے آرمی چیف کو ‘جان چھڑانے’ اور ‘ضمانت’ سے متعلق پیغامات بھیجے جا رہے ہیں۔ انہوں نے حالیہ آئینی ترامیم کو بھی ان مبینہ مذاکرات کے تناظر میں بے معنی قرار دینے کی کوشش کی۔ تاہم سکیورٹی حلقوں اور سیاسی تجزیہ کاروں نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں جاوید ہاشمی کی ذہنی تھکن اور سیاسی تنہائی کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔
جاوید ہاشمی کے خلاف کڑے ایکشن کا مطالبہ
پاکستانی عوام کا کا کہنا ہے کہ جاوید ہاشمی کے ان بیانات کو ان کی ضعیف العمری، شدید ذہنی تناؤ اور ہیجانی کیفیت کا نتیجہ سمجھا جانا چاہیے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جاوید ہاشمی ماضی میں بھی اس طرح کے متنازع بیانات کے ذریعے سیاسی منظر نامے میں اپنی اہمیت بحال کرنے کی ناکام کوششیں کرتے رہے ہیں۔ قومی سلامتی کے اداروں اور جیل میں مقیم قیادت کے بارے میں اس طرح کی غیر ذمہ دارانہ گفتگو سے وہ نہ صرف اپنی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ عوام میں ہیجان پیدا کرنے کا باعث بھی بن رہے ہیں۔
سکیورٹی حلقوں نے جاوید ہاشمی کی اس ہرزہ سرائی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ریاستی اداروں کے سربراہان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کرنے پر جاوید ہاشمی کے خلاف کڑا ایکشن لیا جائے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آزادیِ اظہار کی آڑ میں فوج اور اس کی قیادت کو نشانہ بنانا ایک سوچی سمجھی مہم کا حصہ ہو سکتا ہے، جس کا مقصد ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ عوامی حلقوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ایسے بیانات کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ حقائق منظرِ عام پر آ سکیں۔
دیکھیے: شاندانہ گلزار کا متنازع بیان: مسلح جدوجہد کی دھمکی سے نئی بحث چھڑ گئی