"> شاندانہ گلزار کا متنازع بیان: مسلح جدوجہد کی دھمکی سے نئی بحث چھڑ گئی - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

شاندانہ گلزار کا متنازع بیان: مسلح جدوجہد کی دھمکی سے نئی بحث چھڑ گئی

شاندانہ گلزار کے متنازع بیانات اور صالح ظفر کے ساتھ حالیہ تلخی نے سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا؛ مبصرین کی جانب سے ریاست کو للکارنے، ‘بندوق اٹھانے’ کی دھمکیوں اور سنسنی خیزی پھیلانے پر سخت ردِعمل
شاندانہ گلزار کے متنازع بیانات اور صالح ظفر کے ساتھ حالیہ تلخی نے سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا؛ مبصرین کی جانب سے ریاست کو للکارنے، 'بندوق اٹھانے' کی دھمکیوں اور سنسنی خیزی پھیلانے پر سخت ردِعمل

شاندانہ گلزار کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے بندوق اٹھانے کی دھمکی؛ قانونی ماہرین نے اسے ریاست کے خلاف بغاوت قرار دے دیا

February 11, 2026

تحریک انصاف کی رہنما شاندانہ گلزار ایک بار پھر اپنے متنازع بیانات اور سنسنی خیز دعوؤں کے باعث شدید تنقید کی زد میں ہیں، جہاں سیاسی مبصرین انہیں سیاست دان کے بجائے ایک ‘افسانہ نگار’ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کا سیاسی سفر حقائق کے بجائے بین الاقوامی سازشوں اور بے بنیاد مفروضوں کے گرد گھومتا ہے، جس میں ماضی کے ‘زہر دینے کے دعوے’ سے لے کر ‘عمان ایئر بیس’ کی کہانیاں محض عوامی توجہ اور ریٹنگ حاصل کرنے کا ذریعہ ثابت ہوئی ہیں۔

حال ہی میں ایک نجی ٹی وی پروگرام میں عید میلادالنبی ﷺ جیسے مقدس موقع کو متنازع بنانے اور وادیٔ تیراہ کے حساس فوجی آپریشن کو امریکی ایئر بیس سے جوڑنے کی کوششوں نے قومی سلامتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جس سے یہ تاثر تقویت پا رہا ہے کہ سیاسی شہرت کی خاطر قومی مفادات کو سبوتاژ کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ بات صرف افسانہ نگاری تک محدود نہیں رہی بلکہ اب یہ ریاست کو براہِ راست للکارنے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ 8 فروری کے انتخابات کے تناظر میں ان کا یہ جذباتی بیان کہ “اگر عمران خان رہا نہ ہوا تو بندوق اٹھاؤں گی”، سیاسی اخلاقیات کی تمام حدیں عبور کر چکا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق بانیٔ پی ٹی آئی کو سزائیں ملک کی عدلیہ نے دی ہیں، جو ریاست کا ایک اہم ستون ہے۔ کسی سیاسی رہنماء کی رہائی کے لیے مسلح جدوجہد یا بندوق اٹھانے کی دھمکی کھلی ریاست کے خلاف بغاوت کے زمرے میں آتی ہے۔

تازہ ترین صورتحال اس وقت مزید گھمبیر ہو گئی جب سینئر صحافی صالح ظفر کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران پوچھے گئے ایک سوال پر شاندانہ گلزار آپے سے باہر ہو گئیں اور مبینہ طور پر غلیظ زبان کا استعمال کیا۔ اس واقعے کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ چہ میگوئیاں شروع ہو گئی ہیں کہ “دال میں کچھ کالا ہے”۔ باخبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ شاندانہ گلزار کی اس غیر معمولی برہمی کے پیچھے کوئی گہرا راز چھپا ہے، اور شاید کوئی ‘فون کال لیک’ ہونے کو بے تاب ہے جو ان کے سیاسی مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ “فلم ابھی باقی ہے” اور آنے والے دن اس حوالے سے مزید سنسنی خیز انکشافات کے حامل ہو سکتے ہیں۔

دیکھیے: عمران خان: انسانی حقوق کے نام پر سیاسی لابیز اور مبینہ بیانیہ سازی

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *