"> افغانستان: عالمی دہشت گردی کا مرکز اور بین الاقوامی اداروں کی تشویشناک رپورٹس - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

افغانستان: عالمی دہشت گردی کا مرکز اور بین الاقوامی اداروں کی تشویشناک رپورٹس

افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور طالبان کے سخت گیر نظامِ حکومت نے ملک کو غیر ملکیوں اور مقامی شہریوں کے لیے غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ عالمی اداروں نے سیکورٹی خطرات اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے
افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور طالبان کے سخت گیر نظامِ حکومت نے ملک کو غیر ملکیوں اور مقامی شہریوں کے لیے غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ عالمی اداروں نے سیکورٹی خطرات اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے

افغانستان میں بڑھتی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی پامالی پر عالمی تشویش؛ امریکی محکمہ خارجہ نے سفری پابندیوں کا اعلان کر دیا

February 12, 2026

افغانستان میں طالبان کی زیرِ قیادت قائم نظامِ حکومت اور سیکورٹی کی ابتر صورتحال نے عالمی سطح پر شدید تحفظات کو جنم دیا ہے۔ امریکی محکمۂ خارجہ نے اپنی حالیہ ایڈوائزری میں افغانستان کو ‘لیول 4’ کے زمرے میں شامل کرتے ہوئے اسے سفر کے لیے انتہائی پُر خطر اور غیر محفوظ ملک قرار دے دیا ہے۔ اس فیصلے کی بنیاد وہاں موجود سنگین سیکورٹی خطرات اور غیر ملکیوں کو قانونی و سفارتی تحفظ کی عدم موجودگی بتائی گئی ہے۔

افغانستان دہشت گردی کا مرکز

اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی 37 ویں اور 16 ویں رپورٹس کے مطابق افغانستان میں دہشت گردوں کی موجودگی بدستور برقرار ہے اور تقریباً 20 سے زائد شدت پسند گروہ طالبان کی سرپرستی میں آزادانہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان گروہوں میں القاعدہ، داعش، تحریک طالبان پاکستان اور ای ٹی آئی ایم شامل ہیں۔ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت افغانستان میں 13 ہزار سے زائد غیر ملکی دہشت گرد جنگجو موجود ہیں جو سرحد پار دہشت گردی اور عالمی نیٹ ورکس کو تقویت دے رہے ہیں۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ ان گروہوں کو سنائپر سسٹمز، نائٹ ویژن آلات اور ڈرون ٹیکنالوجی جیسے جدید ترین ہتھیاروں تک رسائی حاصل ہو چکی ہے، جس سے ان کی ہلاکت خیزی میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے افغانستان کو لیول 4 یعنی “سفر نہ کریں” کی سفری ہدایت میں شامل رکھا ہے، جس کی وجہ سکیورٹی خدشات اور محدود قونصلر معاونت بتائی گئی ہے۔

انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے حوالے سے امریکی کمیشن (USCIRF) نے افغانستان کو ‘خصوصی تشویش والے ممالک’ کی فہرست میں شامل کرنے کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ طالبان کا نظامِ عدل مذہبی اقلیتوں، بالخصوص حنفی مسلک کے علاوہ مسلم آبادی، ہندوؤں، سکھوں اور عیسائیوں کے لیے شدید امتیازی سلوک کا باعث بن رہا ہے۔ افغانستان میں رائج نیا فوجداری ڈھانچہ بنیادی انسانی حقوق اور قانونی تقاضوں کو پسِ پشت ڈال کر سرعام کوڑے مارنے، سنگسار کرنے اور سرعام پھانسی جیسی سزاؤں پر مبنی ہے، جو کہ معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانے کا سبب بن رہا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان اس وقت ‘صنفی اپارتھائیڈ’ کی لپیٹ میں ہے، جہاں خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم، ملازمت اور عوامی زندگی سے مکمل طور پر بے دخل کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں ملک بھر میں 23 ہزار سے زائد مدرسوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جو کہ غیر جانبدار تعلیمی اداروں کے بجائے مخصوص نظریاتی فیکٹریاں بن چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تعلیمی ڈھانچہ نئی نسل میں انتہا پسندی کی آبیاری کر رہا ہے، جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

دیکھیے: ترلائی واقعے کے تانے بانے افغانستان سے ملنے کا انکشاف، بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ بے نقاب

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *