ایران کے صوبہ ہرمزگان میں تازہ امریکی فضائی حملوں کے نتیجے میں مزید 3 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ ایران نے امریکہ اور اتحادی افواج کے اہداف کے خلاف متعدد جوابی کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ہرمزگان کے ڈپٹی گورنر نے تصدیق کی کہ تازہ امریکی فضائی حملوں میں 3 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہوئے۔ اس سے ایک روز قبل بھی اسی صوبے میں امریکی حملوں میں 8 شہری شہید ہوئے تھے، جن میں 4 خواتین اور 2 معذور بھائیوں سمیت 4 مرد شامل تھے۔
جوابی کارروائی
کویتی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے گزشتہ صبح اپنی فضائی حدود میں دشمن کے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو روکا۔ فوج کے بیان کے مطابق ایرانی حملوں میں بجلی گھر اور ڈی سیلینیشن پلانٹ سمیت اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ڈرون حملوں کے نتیجے میں چند اہلکار زخمی ہوئے، تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں اردن میں قائم ایک امریکی فوجی اڈے کو میزائلوں کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد امریکی فوجی زخمی ہوئے تاہم کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں۔ روسی میڈیا کے مطابق حملے سے قبل امریکی اہلکاروں کا انخلا نہیں کرایا گیا تھا اور جانی نقصان کے خدشات پہلے ہی ظاہر کیے جا چکے تھے۔
پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ بوشہر کے فضائی علاقے میں ایک امریکی ایم کیو-9 ڈرون کو جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے مار گرایا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب نے مزید دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز سے غیر قانونی طور پر گزرنے کی کوشش کرنے والے 4 آئل ٹینکرز کو میزائل اور ڈرون کے مشترکہ آپریشن کے ذریعے روک دیا گیا۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں دو تیل بردار جہاز بارودی سرنگوں سے گزرنے کے دوران دھماکوں کا شکار ہو کر تباہ ہو گئے۔
دیکھیے: جب فریقین ایک ہی کردار پر سوال اٹھائیں، مگر قیمت مسلم دنیا چکائے