خیبر پختونخوا کے محکمہ تعلیم نے صوبے کی تمام سرکاری جامعات کے لیے ایک نیا اور ضابطۂ اخلاق جاری کیا ہے، جس کے تحت مرد اساتذہ کے اپنے دفاتر میں طالبات سے براہِ دفتر اور تنہائی میں ملاقات کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد تعلیمی اداروں میں طالبات کے لیے ایک محفوظ، شفاف اور باوقار ماحول کو یقینی بنانا ہے۔ محکمہ اعلیٰ تعلیم نے تمام جامعات کے وائس چانسلرز کو باقاعدہ مراسلہ ارسال کر دیا ہے جس میں ان ہدایات پر فوری عملدرآمد کی تاکید کی گئی ہے۔
خیبر پختونخوا میں خواتین فیکلٹی ممبران
جاری کردہ مراسلے کے مطابق خیبر پختونخوا کی ہر سرکاری یونیورسٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ہر شعبے میں کم از کم ایک خاتون فیکلٹی ممبر کو بطور فوکل پرسن نامزد کریں۔ یہ نامزد کردہ خواتین اساتذہ طالبات کے تعلیمی مسائل، ذاتی شکایات اور دیگر معاملات کو سننے کی ذمہ دار ہوں گی۔ محکمہ اعلیٰ تعلیم کا موقف ہے کہ طالبات اپنے مسائل مرد اساتذہ کے بجائے ان نامزد خاتون فیکلٹی ممبران کے سامنے پیش کریں، جو بعد ازاں ان شکایات کے ازالے کے لیے متعلقہ حکام اور انتظامیہ سے رابطہ کریں گی، تاکہ کسی بھی قسم کی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔
ہراسانی کے خلاف آگاہی مہم
محکمہ اعلیٰ تعلیم نے محض پابندی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ جامعات کو تعلیمی سال کے دوران ہر تین ماہ میں کم از کم ایک بار آگاہی سیمینار منعقد کرنے کا بھی پابند کیا ہے۔ ان سیمینارز کا مقصد طالبات کو ہراسانی کے خلاف موجود قوانین، ان کے بنیادی حقوق اور تحفظ کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کرنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بہت سی طالبات اپنے حقوق اور قانونی تحفظ سے لاعلم ہوتی ہیں، اس لیے یہ سیمینارز انہیں بااختیار بنانے اور تعلیمی اداروں میں ان کا اعتماد بحال کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔
محفوظ تعلیمی ماحول کا قیام
صوبائی حکومت کے اس فیصلے کو تعلیمی حلقوں میں ملا جلا ردِعمل مل رہا ہے، تاہم محکمہ اعلیٰ تعلیم نے واضح کیا ہے کہ ان اقدامات کا واحد مقصد طالبات کا تحفظ اور تعلیمی نظام کی ساکھ کو بہتر بنانا ہے۔ مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ جامعات میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے ایسے اقدامات وقت کی ضرورت ہیں تاکہ کسی بھی سطح پر اختیارات کے غلط استعمال یا ہراسانی کی شکایات کا سدباب کیا جا سکے۔ انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائے۔
دیکھیے: فوج میں صوبائی نمائندگی سے متعلق اعداد و شمار سامنے آ گئے، محمود اچکزئی کا مؤقف مسترد