افغانستان کے صوبے بدخشاں میں ایک مقامی طالبان کمانڈر کی جانب سے اسماعیلی برادری سے تعلق رکھنے والے شہری پر وحشیانہ تشدد کے واقعے نے ملک میں آباد مذہبی اقلیتوں کے حقوق اور ان کی سلامتی سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح ایک نہتے شہری کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کے بعد افغانستان میں نسلی اور مذہبی دراڑیں مزید گہری ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس واقعے نے طالبان حکومت کے ان دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے جن میں وہ تمام شہریوں کے تحفظ کی یقین دہانی کرواتے رہے ہیں۔
انسانی حقوق کی پامالی اور عالمی رپورٹس
عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی حالیہ رپورٹس پہلے ہی خبردار کر چکی ہیں کہ افغانستان میں طالبان کے سخت گیر قوانین کے نفاذ کے بعد سے مذہبی اقلیتوں، بالخصوص شیعہ، اسماعیلی، ہندو اور سکھ برادری کو منظم طریقے سے دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق اقلیتوں کو نہ صرف مذہبی آزادی سے محروم کیا جا رہا ہے بلکہ انہیں جبری طور پر مخصوص نظریات قبول کرنے پر بھی مجبور کیا جاتا ہے۔ بدخشاں کا حالیہ واقعہ اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے، جس سے عالمی برادری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور طالبان پر انسانی حقوق کی پاسداری کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔
معاشرتی عدم استحکام اور ماہرین کی رائے
سیاسی و سماجی ماہرین کے مطابق، انسانی حقوق کی ایسی سنگین پامالیاں افغانستان کے داخلی امن کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔ اس طرح کے واقعات معاشرے میں عدم استحکام پیدا کرتے ہیں اور مختلف نسلی گروہوں کے درمیان نفرت کو فروغ دیتے ہیں۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اگر طالبان انتظامیہ نے اپنے کمانڈروں کی انفرادی کارروائیوں کو لگام نہ دی اور اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی، تو عالمی سطح پر افغانستان کی تنہائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ اسماعیلی اور دیگر برادریوں پر تشدد کے واقعات عالمی امداد اور سفارتی تسلیم کے عمل میں بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
مستقبل کے تناظر میں افغانستان کی صورتحال
افغانستان میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات نے مقامی آبادی میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ کابل میں موجود قیادت کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کو خانہ جنگی یا وسیع تر نسلی فسادات سے بچایا جا سکے۔ عالمی برادری مسلسل مطالبہ کر رہی ہے کہ افغانستان میں ایک ہمہ گیر حکومت قائم کی جائے جہاں تمام مذاہب اور مسالک کے لوگوں کو برابر کے شہری حقوق حاصل ہوں، بصورتِ دیگر افغانستان کے لیے عالمی برادری کا اعتماد بحال کرنا ناممکن ہو جائے گا۔