"> عمران خان کو ماہرِ امراض چشم اور بیٹوں سے رابطے کی سہولت دی جائے، سپریم کورٹ - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

عمران خان کو ماہرِ امراض چشم اور بیٹوں سے رابطے کی سہولت دی جائے، سپریم کورٹ

عمران خان کو ماہرِ امراض چشم تک رسائی اور بیٹوں سے ٹیلیفونک رابطے کی سہولت فراہم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے حکومت کو 16 فروری کی مہلت دی ہے
سپریم کورٹ کا عمران خان کو ڈاکٹر تک رسائی، بیٹوں سے ٹیلیفونک رابطے کی اجازت دے دی

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ ریاست کی کسٹڈی میں موجود قیدیوں کی صحت پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ عمران خان کو ماہر ڈاکٹرز اور بیٹوں سے بات کرنے کی اجازت مل گئی

February 12, 2026

عمران خان کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے فوری طور پر آنکھوں کے ماہر ڈاکٹرز تک رسائی فراہم کرنے اور جیل سے اپنے بیٹوں کے ساتھ ٹیلیفونک رابطے کی اجازت دے دی ہے۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کے دوران واضح کیا کہ ان کی صحت کا معاملہ انتہائی اہم ہے اور اس پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ یہ تمام اقدامات 16 فروری سے قبل مکمل کیے جائیں۔

عمران خان اور عدالتی ریمارکس

سماعت کے دوران جیل حکام کی جانب سے عمران خان کی صحت سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی، جس میں بتایا گیا کہ بانیٔ پی ٹی آئی نے موجودہ طبی سہولیات کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے ماہرِ امراض چشم (آئی اسپیشلسٹ) سے معائنے کی درخواست کی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عمران خان اس وقت ریاست کی تحویل میں ہیں اور تمام قیدیوں کو یکساں طبی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ انہیں دیگر قیدیوں کے مقابلے میں غیر معمولی پروٹوکول دیا جائے، لیکن انسانی حقوق کے ناطے صحت کے معاملے پر مداخلت ضروری ہے۔

بیٹوں سے رابطہ
عدالت نے عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان سے ٹیلیفونک رابطے کے حوالے سے بھی اہم احکامات جاری کیے۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل انور منصور سے مخاطب ہو کر کہا کہ “حکومت اچھے موڈ میں نظر آتی ہے”، لہٰذا قیدی کو اس کے بچوں سے بات کرنے کی سہولت ملنی چاہیے۔ اٹارنی جنرل نے ریاست کا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ماہر ڈاکٹرز تک رسائی دینے کے لیے تیار ہے اور اگر کوئی قیدی فراہم کردہ سہولیات سے مطمئن نہیں ہے تو ریاست اس کی بہتری کے لیے اقدامات کرے گی۔ عدالت نے حکومت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ قیدیوں کے حقوق کا تحفظ ریاست کا فرض ہے۔

دیکھیے: شاندانہ گلزار کا متنازع بیان: مسلح جدوجہد کی دھمکی سے نئی بحث چھڑ گئی

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *