"> فساد فی الارض: فتنہ الخوارج کا نظریہ اور منافقت بے نقاب
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

فتنہ الخوارج کا نظریہ اسلام اور انسانیت کے خلاف بدترین ’فساد فی الارض‘ قرار

فتنہ الخوارج کی منافقت بے نقاب؛ منشیات، بھتہ خوری اور اغواء برائے تاوان میں ملوث گروہ کا نظریہ اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دے دیا گیا
فتنہ الخوارج کی منافقت بے نقاب؛ منشیات، بھتہ خوری اور اغواء برائے تاوان میں ملوث گروہ کا نظریہ اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دے دیا گیا

ممتاز علماء نے فتنہ الخوارج کے اقدامات کو فساد فی الارض قرار دے دیا ہے۔ خودکش حملے اور بے گناہوں کا قتل اسلام میں سخت ممنوع اور حرام ہے

February 12, 2026

پاکستان کے تمام مسالک سے تعلق رکھنے والے ممتاز جید علمائے کرام نے ایک متفقہ اعلامیے میں مسلح تشدد، خودکش حملوں اور عام شہریوں کی ہلاکت کو ‘فساد فی الارض’ قرار دیتے ہوئے اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ علمائے کرام کے مطابق مذہب کے نام پر بے گناہ انسانوں کا خون بہانا اور عوامی زندگی کو مفلوج کرنا اسلام میں قطعی طور پر ممنوع اور حرام ہے۔ اس حوالے سے جاری کردہ فتاویٰ میں واضح کیا گیا ہے کہ ریاست کے خلاف مسلح بغاوت کرنے والے عناصر دراصل اسلامی تعلیمات کی تحریف کے مرتکب ہو رہے ہیں، جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

اسلامی تعلیمات کی تحریف اور شرعی حیثیت
دینی حلقوں کا کہنا ہے کہ فتنہ الخوارج کے اقدامات جن میں بے گناہوں کا قتلِ عام اور خودکش دھماکے شامل ہیں، اسلامی شریعت سے براہِ راست متصادم ہیں۔ ان شر پسند عناصر کا نظریہ کسی بھی طور پر دینی یا شرعی جواز نہیں رکھتا۔ علمائے کرام نے واضح کیا کہ اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے، جبکہ فتنہ الخوارج کے پیروکار اپنے مخصوص اور انتہاء پسندانہ ایجنڈے کو پورا کرنے کے لیے قرآن و سنت کے احکامات کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں۔ یہ گروہ شعوری طور پر دین کی غلط تعبیر کر رہا ہے جو کہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک بڑا فتنہ ہے۔

قیادت کا منافقانہ کردار اور جرائم
تجزیاتی رپورٹس اور حالیہ شواہد سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ فتنہ الخوارج کی قیادت کھلی منافقت کا مظہر ہے۔ یہ گروہ ایک طرف جہاد کا دعویٰ کرتا ہے تو دوسری طرف بدعنوانی، منشیات کی اسمگلنگ، بھتہ خوری اور تاوان کے لیے معصوم شہریوں کے اغوا جیسے سنگین جرائم میں ملوث ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ کافروں سے لڑنے کے بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود، فتنہ الخوارج نے کبھی بھارت یا اسرائیل جیسے دشمنوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی، جو مسلسل مسلمانوں کے قتلِ عام میں ملوث ہیں۔ ان کا سارا زور صرف کلمہ گو مسلمانوں اور پاکستانی ریاست کو نقصان پہنچانے پر مرکوز ہے۔

نوجوانوں کا استحصال اور سماجی اثرات
مذہبی اسکالرز نے خبردار کیا ہے کہ فتنہ الخوارج اپنے مذموم مقاصد کے لیے سادہ لوح نوجوانوں کا ذہنی استحصال کر رہا ہے۔ انہیں جنت کے جھوٹے خواب دکھا کر خودکش حملوں کے لیے تیار کیا جاتا ہے، جو کہ انسانیت کے خلاف بدترین جرم ہے۔ ماہرین کے مطابق، وقت آگیا ہے کہ اس ‘فساد فی الارض’ کے خلاف معاشرے کا ہر طبقہ متحد ہو جائے۔ حکومت اور سیکیورٹی اداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ فتنہ الخوارج کے سہولت کاروں اور ان کے نظریاتی حامیوں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا تاکہ ملک میں پائیدار امن و استحکام قائم ہو سکے۔

دیکھیے: کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کی تاریخی اور مذہبی ساکھ بے نقاب

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *