"> روس کا افغان تاجک سرحدی صورتحال سخت تشویش کا اظہار
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

روس کا افغان تاجک سرحد پر کشیدگی اور مسلح جھڑپوں پر اظہارِ تشویش

روس کی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوئیگو نے افغانستان اور تاجکستان کی سرحد پر مسلح جھڑپوں اور دراندازی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سی ایس ٹی او کے تحت سرحدی استحکام کے پروگرام کی تصدیق کر دی ہے
روس کی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوئیگو نے افغانستان اور تاجکستان کی سرحد پر مسلح جھڑپوں اور دراندازی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سی ایس ٹی او کے تحت سرحدی استحکام کے پروگرام کی تصدیق کر دی ہے

روسی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوئیگو نے افغانستان اور تاجکستان سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مسلح جھڑپوں پر تشویش کا اظہار کر دیا

February 13, 2026

روس کی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوئیگو نے افغانستان اور تاجکستان کی سرحدی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس خطے میں سکیورٹی کے حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ روسی خبر رساں ایجنسی انٹرفیکس سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ سرحد پر غیر قانونی دراندازی کی بار بار کوششیں کی جا رہی ہیں، جن کے نتیجے میں بعض مقامات پر مسلح جھڑپیں بھی رونما ہوئی ہیں۔

روس کا سیکیورٹی پلان

سرگئی شوئیگو کے مطابق دہشت گردی کا تدارک اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کاروائی سی ایس ٹی او کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان اور تاجکستان کی سرحد کو محفوظ بنانے اور اسے مزید مستحکم کرنے کے لیے تنظیم کا ایک خصوصی پروگرام اس وقت بھرپور طریقے سے جاری ہے۔

روس کا وسطی ایشیا سیکیورٹی پر اجلاس کا اعلان

روسی عہدیدار نے مزید بتایا کہ خطے کو درپیش سکیورٹی چیلنجز، بالخصوص افغانستان اور وسطی ایشیا کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے رواں سال کے آخر میں ایک اہم مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں سی ایس ٹی او، سی آئی ایس اور شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے نمائندے شرکت کریں گے تاکہ مشترکہ حکمت عملی وضع کی جا سکے۔

واضح رہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران پاکستان اور تاجکستان کی سرحدات پر دہشت گردانہ حملوں اور غیر قانونی دراندازی کے واقعات میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی ہے۔ ان پرتشدد کاروائیوں کے نتیجے میں متعدد سکیورٹی اہلکار اور عام شہری جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔ روس ان بڑھتے ہوئے خطرات کو خطے کے مجموعی امن کے لیے سنگین چیلنج قرار دے رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ ماسکو کی جانب سے ان سرحدوں کی نگرانی سخت کرنے اور اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر دفاعی حصار مضبوط بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔

دیکھیے: تخار میں طالبان پر حملہ، کمانڈر سمیت 3 پشتون اہلکار ہلاک

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *