"> افغانستان میں طاقت کا عدم توازن
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

افغانستان میں طاقت کا عدم توازن: افغانستان کی سیاسی آزمائش

یہ مسئلہ صرف نسلی تناسب کا نہیں بلکہ ریاستی شمولیت اور سیاسی جواز کا ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں دہائیوں سے جنگ، بیرونی مداخلت اور داخلی تقسیم رہی ہو، وہاں طاقت کا ارتکاز مزید بے چینی کو جنم دے سکتا ہے۔ خاص طور پر ہزارہ برادری، جو مذہبی اقلیت بھی ہے، خود کو دوہری محرومی کا شکار محسوس کرتی ہے۔
افغانستان میں طاقت کا عدم توازن: افغانستان کی سیاسی آزمائش

افغانستان کو اگر پائیدار امن اور عالمی قبولیت درکار ہے تو اسے جامع سیاسی ڈھانچے کی طرف بڑھنا ہوگا۔ طاقت کی منصفانہ تقسیم، مقامی خودمختاری، اور مختلف نسلی و مذہبی گروہوں کی حقیقی شمولیت ہی داخلی استحکام کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔

February 13, 2026

افغانستان ایک کثیر النسلی، کثیرالثقافتی اور تاریخی طور پر پیچیدہ معاشرہ ہے۔ پشتون، تاجک، ہزارہ، ازبک، ترکمان، بلوچ اور دیگر قومیتیں صدیوں سے اس سرزمین کا حصہ رہی ہیں۔ عمومی تخمینوں کے مطابق پشتون آبادی کا تقریباً 40 تا 45 فیصد ہیں، جبکہ باقی آبادی مختلف نسلی گروہوں پر مشتمل ہے۔ مگر آج کے افغانستان میں طاقت کا توازن اس تنوع کی عکاسی نہیں کرتا۔ اقتدار کے ایوانوں میں ایک نمایاں عدم توازن دکھائی دیتا ہے جو مستقبل کے استحکام کے لیے سوالیہ نشان بن چکا ہے۔

طالبان کی موجودہ قیادت اور عبوری حکومتی ڈھانچے پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اعلیٰ فیصلہ سازی کے بیشتر مناصب ایک ہی نسلی پس منظر رکھنے والی شخصیات کے پاس ہیں۔ رہبری شوریٰ اور کلیدی وزارتوں بشمول داخلہ، دفاع، مالیات اور انصاف میں محدود تنوع پایا جاتا ہے۔ کابینہ میں چند غیر پشتون شخصیات کی شمولیت ضرور ہے، مگر ناقدین کے مطابق انہیں زیادہ تر ثانوی یا علامتی ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ ہزارہ برادری کی عدم نمائندگی اور خواتین کی مکمل غیر موجودگی نے اس بحث کو مزید شدت دی ہے۔

یہ مسئلہ صرف نسلی تناسب کا نہیں بلکہ ریاستی شمولیت اور سیاسی جواز کا ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں دہائیوں سے جنگ، بیرونی مداخلت اور داخلی تقسیم رہی ہو، وہاں طاقت کا ارتکاز مزید بے چینی کو جنم دے سکتا ہے۔ خاص طور پر ہزارہ برادری، جو مذہبی اقلیت بھی ہے، خود کو دوہری محرومی کا شکار محسوس کرتی ہے۔ تاجک اور ازبک حلقوں میں بھی محدود کردار اور کمزور اختیار پر تحفظات پائے جاتے ہیں۔ اگر سیاسی نظام میں حقیقی شراکت کا احساس نہ ہو تو قومی یکجہتی ایک نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات، جو 2020 کے دوحہ معاہدہ پر منتج ہوئے۔ اس معاہدے نے امریکی انخلا کی راہ ہموار کی اور بالآخر 2021 میں کابل میں سابقہ جمہوری حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ ناقدین کا خیال ہے کہ اس عمل نے طاقت کا توازن یکطرفہ کر دیا، جبکہ حامیوں کے مطابق یہ ایک طویل جنگ کے خاتمے کی ناگزیر قیمت تھی۔ حقیقت شاید ان دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے، مگر نتیجہ یہ نکلا کہ آج اقتدار کا ڈھانچہ محدود نمائندگی کا حامل ہے۔

تاہم یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ مسئلہ صرف نسلی غلبے کا نہیں بلکہ حکمرانی کے انداز کا ہے۔ جب قبائلی روایت، سخت مذہبی تعبیر اور سیاسی طاقت یکجا ہو جائیں تو ریاست کا ڈھانچہ زیادہ مرکزی اور کم جواب دہ ہو جاتا ہے۔ خواتین کی تعلیم و روزگار پر پابندیاں اور اختلافِ رائے کے لیے محدود گنجائش اسی طرزِ حکمرانی کی علامت ہیں۔ اس کا اثر صرف کسی ایک قومیت پر نہیں بلکہ پورے معاشرے پر پڑتا ہے۔

افغانستان کو اگر پائیدار امن اور عالمی قبولیت درکار ہے تو اسے جامع سیاسی ڈھانچے کی طرف بڑھنا ہوگا۔ طاقت کی منصفانہ تقسیم، مقامی خودمختاری، اور مختلف نسلی و مذہبی گروہوں کی حقیقی شمولیت ہی داخلی استحکام کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ بصورت دیگر، تاریخ ایک بار پھر خود کو دہرا سکتی ہے اور ایک غیر متوازن اقتدار کا ڈھانچہ دیرپا نہیں ہوتا۔ افغانستان کی بقا کا راستہ شمولیت میں ہے، اخراج میں نہیں۔

دیکھیے: روس کا افغان تاجک سرحدی صورتحال سخت تشویش کا اظہار

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *