جمال الدین والی میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ قیادت ذمہ داری اور حوصلے کا نام ہے، اور مشکل وقت میں ثابت قدم رہنا ہی اصل امتحان ہوتا ہے۔ انہوں نے بالواسطہ سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “کوئی لیڈر کبھی کہتا ہے میری آنکھ میں دور ہے، کبھی کہتا ہے یہاں دودھ نہیں۔ میں نے جیل کاٹی ہے، آج کے لیڈر ڈیڑھ سال بھی جیل میں نہیں رہتے اور شور مچانا شروع کر دیتے ہیں۔”
صدر زرداری نے اپنے طویل اسیری کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 14 سال جیل میں گزارے لیکن کبھی حوصلہ نہیں ہارا۔ ان کا کہنا تھا کہ “جیلوں میں عبادت کرنی چاہیے، وہاں دعا قبول ہوتی ہے۔ میں نے کہا تھا کہ دو سال بعد جیل خود پوچھتی ہے، مگر آج کے لیڈروں میں وہ ہمت نہیں۔”
انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں ہتھیار اٹھانے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ “جمہوریت میں کہیں نہیں لکھا کہ ہتھیار اٹھا لیں۔ جنگ میں نقصان آپ کا ہی ہوتا ہے، کیونکہ آپ کا بھانجا یا بھتیجا مارا جاتا ہے۔” صدر مملکت نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی جدوجہد آئینی اور جمہوری دائرے میں رہ کر ہونی چاہیے۔
خطاب کے دوران صدر زرداری نے آئندہ سیاسی حکمتِ عملی پر بھی بات کی اور کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی پورے ملک میں کامیابی حاصل کرے گی اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے گی۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ “پورا پاکستان جیتیں گے اور ملک کو بنائیں گے، وزیر اعظم بلاول ہوں گے۔” ان کا اشارہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی جانب تھا، جنہیں انہوں نے مستقبل کی قیادت کے طور پر پیش کیا۔
تقریب کے اختتام پر صدر مملکت نے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ اتحاد، تدبر اور جمہوری تسلسل سے ہی ممکن ہے، اور پاکستان پیپلز پارٹی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔