تحریک انصاف اس وقت دو سوچوں کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔ یہ جماعت نظریے کے ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں سے درست فیصلے کی منزل بہت دور ہے۔ ہر شخص جو تحریک انصاف کا کسی دور میں حامی رہا ہے اب اس کی پالیسیوں کے ابہام کا شاکی ہے۔ کوئی بھی قدم درست سمت میں نہیں پڑ رہا۔
ایک تحریک انصاف کے اندر کئی تحاریک انصاف جنم لے چکی ہیں مگر ا س کا اعتراف کوئی نہیں کر رہا۔ کسی پالیسی میں ربط نہیں اور کوئی نعرہ قابل عمل نہیں۔ کوئی تحریک کامیاب نہیں اور کوئی لائحہ عمل پائیدار نہیں۔ تحریک انصاف اس مقام پر اچانک نہیں پہنچی۔ اس مقام تک پہنچنے میں اسے بہت وقت لگا ہے۔ بڑی عمارت کو گرتے گرتے، بڑے جہاز کو ڈوبتے ڈوبتے وقت لگتا ہے لیکن اب وقت آ چکا ہے۔
تحریک انصاف کو ایک یک نکاتی فیصلہ درکار ہے۔ ابہام سے نکلنے کی ضرورت ہے۔ ان کے سامنے صرف ایک سوال ہے کہ اس کے قائدین آخر کیا چاہتے ہیں؟ بانی تحریک انصاف عمران خان کی رہائی یا پھر کارکنوں کی ہمدردی، ولولہ اور جوش۔ کہنے والے کہیں گے کہ یہ دونوں ایک ہی باتیں ہیں مگر ایسا نہیں ہے۔ بات کو سمجھنے کے لیے ذرا ماضی میں جھانکنا پڑے گا۔
عمران خان جب وزیر اعظم تھے، ان کی شہرت دم توڑ رہی تھی۔ ان کے نعرے بے معنی ہو رہے تھے۔ بیڈ گورننس کا چرچا تھا۔ مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی تھی۔ ہمیشہ سے مشہور خان کی شہرت میں تیزی سے کمی آ رہی تھی۔ تحریک عدم اعتماد آئی تو خان کو خیال آیا کہ اس موقع سے کس طرح فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ اپنی ناکامی کو کس طرح کامیابی میں بدلا جا سکتا ہے۔ بیڈ گورننس کو پس پشت ڈال کر کس طرح ہمدردی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اسی سوچ کے تحت پہلے امریکی سازش کا نعرہ لگا پھر فوج کے خلاف غلغلہ بلند ہوا۔ کبھی غلامی کی زنجیریں توڑنے کی بات ہوئی اور کبھی حقیقی آزادی کی آواز لگائی گئی۔
عمران خان کو اچھی طرح پتا تھا کہ اینٹی امریکا نعرہ مقبول نعرہ ہے۔ اس نعرے کو لگانے سے ان کی وزارت عظمیٰ تو واپس نہیں آئے گی لیکن عوام میں ان کی گرتی ہوئی مقبولیت کو سہارا ملے گا۔ نتیجتاً وہی عمران خان جس سے لوگ تنگ آنا شروع ہو گئے، اب لوگوں کو اسی خان سے ہمدردی پیدا ہوئی، شہرت کو پھر عروج ملا، ناکامی اور بیڈ گورننس کو لوگ بھولنے لگے۔ اور ان مقبول نعروں کا نتیجہ دو ہزار چوبیس کے انتخابات کے نتیجے میں بھی نکلا۔ خان کو خوب ووٹ پڑا ۔ لوگ خوب بے وقوف بنے۔
شہرت والے بیانیے کی چاٹ اسی وقت سے خان کی سیاست کا محور بن گئی۔ عمران خان کی جماعت نے ہر وہ کام کیا جس سے ان کی رہائی دشوار ہوتی چلی گئی اور شہرت بڑھتی گئی۔ کبھی امریکا کی غلامی سے نجات کا نعرہ لگایا،کبھی فوج کے خلاف جھوٹ بولا، کبھی تقریروں کو اسلامک ٹچ دینے کی کوشش کی گئی، کبھی ایاک نعبدو ایاک نستعین کا سیاسی استعمال کیا گیا۔ ان سب باتوں کی وجہ سے شہرت کو تو دوام مل گیا مگر عمران خان کی رہائی کوسوں دور ہو گئی۔
حیرت اس بات پر ہے کہ اس دوران کرپشن کے خلاف ایک بھی نعرہ نہیں لگا۔ اس کی وجہ صاف ظاہر تھی کہ عمران خان خود کرپشن میں ملوث پائے گئے۔ ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کیس اور توشہ خانہ فراڈ نے عمران خان کو انہی سیاست دانوں کی صف میں کھڑا کر دیا جن کے خلاف انہوں نے اپنی سیاست کی ہے۔ جس بنیاد پر عمران خان لوگوں کو گالی دیتے تھے اسی بنیاد پر عمران خان کو اب گالی پڑنا شروع ہو گئی۔ یہی وجہ تھی کہ اب شہرت کو برقرار رکھنے کے لیے، ورکرز کو گرم جوش رکھنے کے لیے، کارکنوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے مختلف حیلے اختیار کیے گئے۔
عمران خان کی ٹانگ پر گولی لگنے سے آنکھ ضائع ہونے تک سب باتیں جھوٹ ثابت ہوئیں۔ امریکا کی سازش سے لیکر محسن نقوی کی سازش تک سب باتیں بہتان ثابت ہوئیں، یہ الگ بات ہے کہ ان کے بدلے خان کو ہمدردی حاصل ہوتی رہی۔ لوگ شعور کے نام پر بے وقوف بنتے رہے۔ ورکر دھرنے کرتے رہے، پولیس سے ماریں کھاتے رہے۔ ہمدردی حاصل کرنے کے لیے کارکنوں کو بھینٹ چڑھایا جاتا رہا۔
اب جو صورت حال پید اہو چکی ہے۔ اس میں واضح ہو گیا ہے کہ تحریک انصاف کے کچھ لوگوں کو عمران خان کی رہائی سے غرض نہیں بلکہ لوگوں کی ہمدردی بٹورنے کی خواہش ہے۔ پارٹی کے یہی لوگ ہیں جو جب بھی عمران خان کی رہائی کی بات ہونے لگتی ہے تو رخنے ڈالنے لگتے ہیں۔ جب بھی مفاہمت کی بات ہونے لگتی ہے لڑائی جھگڑے کرنے لگتے ہیں۔ جب بھی مذاکرات کی بات ہونے لگتی ہے جلاؤ گھیراؤ کی سیاست کرنے لگتے ہیں۔ جب بھی ڈائیلاگ کی بات ہونے لگتی ہے، اسی وقت عمران خان کا ٹوئیٹر ریاست پاکستان کے خلاف سر گرم ہو جاتا ہے۔
کتنے افسوس کی بات ہے کہ عمران خان کی اپنی بہن مذاکرات کے حق میں نہیں ہیں۔ ہاں اگر یہ بات ہو کہ عمران خان کی آنکھ ضائع ہو گئی تو وہ پوری ہمدردی حاصل کریں گی۔ صاف ظاہر ہے وہ عمران خان کی رہائی نہیں چاہتیں بلکہ اس کے بدلے ہمدردی چاہتی ہیں۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے جیل میں جانے سے اب وارث تحریک انصاف کا کوئی کارکن نہیں بہنیں بنتی ہیں۔ ان کی چوہدراہٹ اس وقت تک ہے جب تک یہ دونوں جیل میں ہیں۔ اگر عمران خان اور بشریٰ بی بی جیل سے باہر آتے ہیں تو ان بہنوں کو کوئی نہیں پوچھے گا۔ علیمہ خان کی پریس کانفرنس کوئی نہیں سنے گا۔ اور یہ بات علیمہ خان بہت اچھے طریقے سے جانتی ہیں ۔ اسی لیے جب بھی عمران خان کی رہائی کی بات ہونے لگے، تو پھڈا یہ بہنیں ہی ڈالتی ہیں۔ جب بھی مفاہمت کی بات ہونے لگتی ہے تو خیبر پختونخوا کے کارکنوں کے ذریعے موٹر وے علیمہ خان کے حکم پر بند ہوتی ہے۔
سیاست بہت ظالم چیز ہوتی ہے۔ طاقت اور اقتدار کے اس کھیل میں بھائی بہن سیاسی حریف بن جاتے ہیں۔ قیدی کی رہائی میں رکاوٹ اس کے گھر سے ڈالی جاتی ہے کیونکہ قیدی کے مسلسل قید رہنے کی صورت میں وراثت بہنوں کے نام ہو گی۔ یہ بات لکھ لیجیے کہ رہائی اور شہرت کی اس جنگ میں بہن کا ووٹ شہرت کے حق میں لگتا ہے کیونکہ اس شہرت کی وارث مستقبل میں علیمہ خان کو بننا ہے۔
نوٹ: یہ آرٹیکل عمار مسعود نے وی نیوز کیلئے لکھا۔ کاپی رائٹ حقوق وی نیوز اور عمار مسعود محفوظ رکھتے ہیں۔