سولہ فروری کو باجوڑ چیک پوسٹ پر ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حملے میں ملوث دہشت گرد کی شناخت افغان شہری کے طور پر کر لی گئی ہے، جو افغان طالبان کی اسپیشل فورسز کا سرگرم رکن تھا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق خودکش بمبار کی شناخت سید احمد (عرف قاری عبداللہ/ابو زر) ولد سید عبد القدوس کے نام سے ہوئی ہے، جس کا تعلق افغانستان کے صوبہ بلخ سے تھا۔ تحقیقات سے یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ قاری عبداللہ افغان طالبان کی اسپیشل فورسز کا حصہ رہا اور افغانستان میں مختلف سرکاری فرائض بھی انجام دے چکا تھا۔ غیر پشتون بمبار نے باجوڑ کے علاقے مالانگی میں سکیورٹی چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں 11 سکیورٹی اہلکار اور 2 شہری جاں بحق ہوئے تھے۔
Breaking News: The suicide bomber who attacked a security check post in Bajaur on Feb 16 has been identified as an Afghan national, Syed Ahmad alias Qari Abdullah/Abu Zar, son of Syed Abdul Qudoos, from Afghanistan's Balkh province. Qari Abdullah was part of the Afghan Taliban's… pic.twitter.com/2G30QmAgUy
— Mahaz (@MahazOfficial1) February 19, 2026
اطلاعات کے مطابق افغانستان میں مقیم اس کے خاندان، جس میں اس کے چچا سید عبد الحمید اور کزن سید عبد الباسط شامل ہیں، کے ہاں آج تعزیتی تقریب بھی منعقد کی گئی۔ یہ انکشاف افغان طالبان کے ان دعوؤں کی نفی کرتا ہے جن میں کہا جاتا رہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔ مبصرین کے مطابق، افغان سرکاری فورسز کے رکن کا براہِ راست حملے میں ملوث ہونا ایک سنگین معاملہ ہے جو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں مزید تناؤ کا باعث بن سکتا ہے۔
دیکھیے: باجوڑ میں مقامی سیاسی رہنما نجیب اللہ بم دھماکے میں جاں بحق، داعش نے ذمہ داری قبول کر لی