"> وفاقی آئینی عدالت میں غلط بیانی: بیرسٹر سعد رسول کے خلاف کاروائی کی استدعا
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

عدالت سے غلط بیانی: بیرسٹر سعد رسول کا وکالت کا لائسنس معطل کرنے کا مطالبہ

بیرسٹر سعد رسول پر وفاقی آئینی عدالت کو گمراہ کر کے مہلت لینے اور اسی روز سپریم کورٹ میں پیش ہونے پر پیشہ ورانہ بددیانتی کا الزام، لائسنس معطلی کا مطالبہ
بیرسٹر سعد رسول پر وفاقی آئینی عدالت کو گمراہ کر کے مہلت لینے اور اسی روز سپریم کورٹ میں پیش ہونے پر پیشہ ورانہ بددیانتی کا الزام، لائسنس معطلی کا مطالبہ

بیرسٹر سعد رسول کی جانب سے عدالت میں غلط بیانی اور متوازی کاروائی میں شرکت پر تنازع کھڑا ہو گیا۔ نظامِ انصاف کی تذلیل پر سخت تادیبی کارروائی کا مطالبہ

February 19, 2026

وفاقی آئینی عدالت میں غلط بیانی کے ذریعے مہلت حاصل کرنے اور اسی روز دوسری عدالت میں پیش ہونے پر معروف وکیل بیرسٹر سعد رسول کو شدید تنقید کا سامنا ہے، جس کے بعد ان کے خلاف پیشہ ورانہ بددیانتی پر سخت کاروائی کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بیرسٹر سعد رسول نے وفاقی آئینی عدالت میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران مصروفیت کا بہانہ بنا کر التواء کی درخواست دائر کی اور عدالت سے مہلت حاصل کی۔ تاہم اسی روز وہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں سہراب برکت کی درخواستِ ضمانت کے مقدمے میں پیش ہوئے، جس نے ان کے ‘عدالت کو گمراہ کرنے’ کے عمل کو سرعام بے نقاب کر دیا۔ قانونی حلقوں میں اس رویے کو سچائی کا تمسخر اور وکالت کے پیشے کے تقدس کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک سینئر وکیل کی جانب سے عدالت میں جھوٹ بول کر مہلت لینا اور پھر اسی وقت کسی دوسری عدالتی کارروائی میں شریک ہونا عدلیہ کے وقار کے ساتھ گھناؤنا مذاق ہے۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ نظامِ انصاف کی تذلیل اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کی پامالی پر بیرسٹر سعد رسول کے خلاف فوری تادیبی کارروائی کی جائے اور ان کا وکالت کا لائسنس معطل کیا جائے۔ مبصرین کے مطابق ایسے اقدامات وکلاء کے پیشہ ورانہ تقدس کو ٹھیس پہنچانے کا سبب بنتے ہیں۔

دیکھیے: باجوڑ میں مقامی سیاسی رہنما نجیب اللہ بم دھماکے میں جاں بحق، داعش نے ذمہ داری قبول کر لی

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *