وفاقی آئینی عدالت میں غلط بیانی کے ذریعے مہلت حاصل کرنے اور اسی روز دوسری عدالت میں پیش ہونے پر معروف وکیل بیرسٹر سعد رسول کو شدید تنقید کا سامنا ہے، جس کے بعد ان کے خلاف پیشہ ورانہ بددیانتی پر سخت کاروائی کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بیرسٹر سعد رسول نے وفاقی آئینی عدالت میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران مصروفیت کا بہانہ بنا کر التواء کی درخواست دائر کی اور عدالت سے مہلت حاصل کی۔ تاہم اسی روز وہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں سہراب برکت کی درخواستِ ضمانت کے مقدمے میں پیش ہوئے، جس نے ان کے ‘عدالت کو گمراہ کرنے’ کے عمل کو سرعام بے نقاب کر دیا۔ قانونی حلقوں میں اس رویے کو سچائی کا تمسخر اور وکالت کے پیشے کے تقدس کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک سینئر وکیل کی جانب سے عدالت میں جھوٹ بول کر مہلت لینا اور پھر اسی وقت کسی دوسری عدالتی کارروائی میں شریک ہونا عدلیہ کے وقار کے ساتھ گھناؤنا مذاق ہے۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ نظامِ انصاف کی تذلیل اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کی پامالی پر بیرسٹر سعد رسول کے خلاف فوری تادیبی کارروائی کی جائے اور ان کا وکالت کا لائسنس معطل کیا جائے۔ مبصرین کے مطابق ایسے اقدامات وکلاء کے پیشہ ورانہ تقدس کو ٹھیس پہنچانے کا سبب بنتے ہیں۔
دیکھیے: باجوڑ میں مقامی سیاسی رہنما نجیب اللہ بم دھماکے میں جاں بحق، داعش نے ذمہ داری قبول کر لی