"> بھائی کی فکر یا سیاسی تخت؟ علیمہ خان کے بیانیے پر پارٹی صفوں میں دراڑیں - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

بھائی کی فکر یا سیاسی تخت؟ علیمہ خان کے بیانیے پر پارٹی صفوں میں دراڑیں

پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی حلقوں میں علیمہ خان کے سیاسی عزائم زیرِ بحث؛ ناقدین کا دعویٰ ہے کہ وہ عمران خان کی صورتحال کو پارٹی قیادت تک رسائی کے لیے بطور ڈھال استعمال کر رہی ہیں
پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی حلقوں میں علیمہ خان کے سیاسی عزائم پر بحث تیز؛ ناقدین کا دعویٰ ہے کہ وہ عمران خان کی صورتحال کو پارٹی قیادت تک رسائی کے لیے بطور ڈھال استعمال کر رہی ہیں

پاکستان تحریک انصاف میں خاندانی سیاست کا نیا موڑ؛ علیمہ خان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور سیاسی عزائم پر پارٹی صفوں میں تشویش اور شدید مزاحمت۔ سید طلعت حسین سمیت معروف تجزیہ کاروں کے انکشافات

February 21, 2026

پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی حلقوں میں ان دنوں ایک نیا ہیجان برپا ہے، جس کا مرکز عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے مبینہ سیاسی عزائم ہیں۔ معروف صحافی سید طلعت حسین اور دیگر سیاسی مبصرین کے مطابق علیمہ خان کی پارٹی کنٹرول سنبھالنے کی خواہش اب واضح طور پر نمایاں ہو رہی ہے، جس نے تحریک انصاف میں جماعتی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

ہمدردی کا بیانیہ؟
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ علیمہ خان اپنے بھائی عمران خان کی صحت اور جیل کی صورتحال کو ایک ایسے بیانیے کے طور پر استعمال کر رہی ہیں جو بظاہر ہمدردی پر مبنی ہے لیکن درحقیقت یہ ‘تخت’ تک پہنچنے کا ایک راستہ معلوم ہوتا ہے۔ ناقدین کے مطابق ان کا ‘تڑپتے دل’ والا مٔوقف سیاسی مقاصد کے لیے ایک ڈھال کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ پارٹی کے دیرینہ کارکنوں اور سینئر قیادت کو پسِ پشت ڈال کر اپنا اثر و رسوخ قائم کیا جا سکے۔

جماعتی صفوں میں اختلافات
رپورٹ کے مطابق علیمہ خان کے اس طرزِ عمل نے پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں اور کارکنوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ پارٹی کے اندر یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا ان کے پاس سیاسی تجربہ، انتخابی جواز یا نچلی سطح پر عوامی حمایت موجود ہے؟ متعدد رہنماؤں کا خیال ہے کہ اگر قیادت کو صرف خاندانی وابستگی کی بنیاد پر محدود کرنے کی کوشش کی گئی، تو یہ تحریک انصاف کے اندر موجود جمہوری روایت کو نقصان پہنچائے گی اور پارٹی کے اندرونی دھڑے بندیوں کو مزید گہرا کر دے گی۔

سماجی میڈیا پر عوامی ردِعمل
سوشل میڈیا پر بھی صارفین پی ٹی آئی کے مستقبل اور پارٹی میں خاندانی سیاست کے بڑھتے ہوئے اثرات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ عمران خان کی صورتحال پر مبنی جذباتی اپیل ایک محدود وقت تک ہی موثر ہو سکتی ہے، لیکن ایک بڑی سیاسی جماعت کو چلانے کے لیے محض خاندانی رشتہ کافی نہیں ہوتا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر علیمہ خان نے اپنے عزائم کو زبردستی مسلط کرنے کی کوشش کی تو پی ٹی آئی ایک ایسے نازک مرحلے پر داخلی انتشار کا شکار ہو سکتی ہے جہاں اسے پہلے ہی شدید بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے۔

دیکھیے: صحت کے نام پر سیاست: ماہر ڈاکٹرز کی موجودگی کے باوجود پی ٹی آئی کا احتجاج بلاجواز قرار

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *