"> بھارت پاکستان میں سوشل میڈیا پر دہشت گردی کی تشہیر سے متعلق منظم مہم میں ملوث - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

بھارت پاکستان میں سوشل میڈیا پر دہشت گردی کی تشہیر سے متعلق منظم مہم میں ملوث

تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران معلوماتی محاذ بھی اہمیت اختیار کر چکا ہے، جہاں بیانیے اور سوشل میڈیا مہمات کو سفارتی اور سلامتی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
بھارت پاکستان میں سوشل میڈیا پر دہشت گردی کی تشہیر سے متعلق منظم مہم میں ملوث

سائبر سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ریاستی اور غیر ریاستی عناصر معلوماتی جنگ کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔

February 21, 2026

سوشل میڈیا پر دہشت گردی کی مبینہ تشہیر سے متعلق سرگرمیوں کے تناظر میں سکیورٹی حلقوں کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نوعیت کی منظم آن لائن مہم کے پیچھے بھارت سے منسلک عناصر کارفرما ہیں۔ الزام عائد کرنے والوں کا کہنا ہے کہ مخصوص اکاؤنٹس کے ذریعے پاکستان میں شدت پسندی کو ہوا دینے اور ریاستی اداروں کے خلاف منفی بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق حالیہ ہفتوں میں ایسے متعدد اکاؤنٹس کی نشاندہی کی گئی ہے جو شدت پسند عناصر کی کارروائیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے یا ان کی تعریف و تمجید پر مبنی مواد شیئر کرتے پائے گئے۔ متعلقہ حلقوں کا مؤقف ہے کہ یہ سرگرمیاں منظم انداز میں کی جا رہی ہیں اور ان کا مقصد پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔

سائبر سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ریاستی اور غیر ریاستی عناصر معلوماتی جنگ کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے نیٹ ورکس کی نشاندہی کے لیے تکنیکی تجزیہ، ڈیجیٹل سراغ رسانی اور بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی ملک یا فریق پر باضابطہ الزام عائد کرنے کے لیے ٹھوس شواہد ضروری ہوتے ہیں۔

دوسری جانب سرکاری سطح پر اس حوالے سے تاحال کوئی تفصیلی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان سائبر اسپیس میں دہشت گردی کی تشہیر اور انتہا پسند مواد کے خلاف پالیسی کے تحت اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران معلوماتی محاذ بھی اہمیت اختیار کر چکا ہے، جہاں بیانیے اور سوشل میڈیا مہمات کو سفارتی اور سلامتی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے مواد کی تصدیق کریں اور اشتعال انگیز یا غیر مصدقہ معلومات کو آگے بڑھانے سے گریز کریں۔

دیکھیے: پاک روس سفارتی ملاقات: افغانستان اور علاقائی سلامتی پر اہم مشاورت

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *