سوشل میڈیا پر دہشت گردی کی مبینہ تشہیر سے متعلق سرگرمیوں کے تناظر میں سکیورٹی حلقوں کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نوعیت کی منظم آن لائن مہم کے پیچھے بھارت سے منسلک عناصر کارفرما ہیں۔ الزام عائد کرنے والوں کا کہنا ہے کہ مخصوص اکاؤنٹس کے ذریعے پاکستان میں شدت پسندی کو ہوا دینے اور ریاستی اداروں کے خلاف منفی بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق حالیہ ہفتوں میں ایسے متعدد اکاؤنٹس کی نشاندہی کی گئی ہے جو شدت پسند عناصر کی کارروائیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے یا ان کی تعریف و تمجید پر مبنی مواد شیئر کرتے پائے گئے۔ متعلقہ حلقوں کا مؤقف ہے کہ یہ سرگرمیاں منظم انداز میں کی جا رہی ہیں اور ان کا مقصد پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔

سائبر سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ریاستی اور غیر ریاستی عناصر معلوماتی جنگ کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے نیٹ ورکس کی نشاندہی کے لیے تکنیکی تجزیہ، ڈیجیٹل سراغ رسانی اور بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی ملک یا فریق پر باضابطہ الزام عائد کرنے کے لیے ٹھوس شواہد ضروری ہوتے ہیں۔
دوسری جانب سرکاری سطح پر اس حوالے سے تاحال کوئی تفصیلی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان سائبر اسپیس میں دہشت گردی کی تشہیر اور انتہا پسند مواد کے خلاف پالیسی کے تحت اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران معلوماتی محاذ بھی اہمیت اختیار کر چکا ہے، جہاں بیانیے اور سوشل میڈیا مہمات کو سفارتی اور سلامتی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے مواد کی تصدیق کریں اور اشتعال انگیز یا غیر مصدقہ معلومات کو آگے بڑھانے سے گریز کریں۔