ایران نے امریکی حملوں کے ردعمل میں خلیجی ممالک پر میزائل داغ دیے اور آبنائے ہرمز کو تاحکمِ ثانی بند کر دیا۔

July 12, 2026

پاکستان میں غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کو دی گئی مہلت ختم ہونے کے بعد حکومت نے ملک گیر کریک ڈاؤن اور فوری گرفتاریوں کا حکم دے دیا۔

July 11, 2026

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ شہید رہنما اور تمام شہداء کے خون کا بدلہ لینا قوم کا مطالبہ ہے، جسے ہر صورت پورا کیا جائے گا۔

July 11, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جے ڈی وینس اور مارکو روبیو کو ایران کے ساتھ سفارتی رابطے اور مذاکرات جاری رکھنے کی باقاعدہ ہدایت کر دی۔

July 11, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کو فون کرکے خطے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور فریقین پر تحمل برقرار رکھنے پر زور دیا۔

July 11, 2026

ایران نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا، کسی بھی جنگ کا اختتام ایران کے ہتھیار ڈالنے پر نہیں ہوگا۔

July 11, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائی پر غور

جنیوا میں جاری سفارتی رابطوں کے ساتھ ساتھ امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی تعیناتی بڑھا دی ہے۔ اس تعیناتی میں دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز بھی شامل ہے جو بتدریج مشرقِ وسطیٰ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیش رفت کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیاری کو یقینی بنانا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائی پر غور

ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران ایک ممکنہ معاہدے کے مسودے پر کام کر رہا ہے جسے آئندہ دنوں میں امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے حوالے کیا جائے گا۔

February 21, 2026

امریکہ نے ایران کے قریب اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے جبکہ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق آئندہ دنوں میں ایران پر محدود نوعیت کی فوجی کارروائی کا امکان زیرِ غور ہے۔ دوسری جانب ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ مکمل فوجی تیاری کی حالت میں ہے اور کسی بھی ممکنہ اقدام کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عندیہ دیا کہ وہ ایران پر محدود فوجی حملے کے آپشن پر غور کر رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے مختصر توقف کے بعد کہا کہ وہ اس امکان پر سوچ رہے ہیں۔

امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جنرل نے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے محدود فوجی کارروائی کے امکان کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ تہران کو جوہری معاہدے سے متعلق امریکی شرائط قبول کرنے پر آمادہ کیا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق ممکنہ کارروائی میں فوجی یا سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم اخبار نے واضح کیا کہ ابھی تک کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا اور مختلف عسکری آپشنز پر غور جاری ہے۔

ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران ایک ممکنہ معاہدے کے مسودے پر کام کر رہا ہے جسے آئندہ دنوں میں امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے حوالے کیا جائے گا۔ ان کے مطابق ایران سفارتی راستہ اختیار کرنے کا خواہاں ہے، تاہم قومی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

جنیوا میں جاری سفارتی رابطوں کے ساتھ ساتھ امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی تعیناتی بڑھا دی ہے۔ اس تعیناتی میں دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز بھی شامل ہے جو بتدریج مشرقِ وسطیٰ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیش رفت کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیاری کو یقینی بنانا ہے۔

علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نہایت حساس ہے۔ ایک جانب سفارتی کوششیں جاری ہیں تو دوسری جانب فوجی تیاریوں میں اضافہ خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب واشنگٹن اور تہران کے آئندہ اقدامات پر مرکوز ہیں کہ آیا معاملہ مذاکرات کے ذریعے حل ہوگا یا کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔

دیکھیے: پاک روس سفارتی ملاقات: افغانستان اور علاقائی سلامتی پر اہم مشاورت

متعلقہ مضامین

ایران نے امریکی حملوں کے ردعمل میں خلیجی ممالک پر میزائل داغ دیے اور آبنائے ہرمز کو تاحکمِ ثانی بند کر دیا۔

July 12, 2026

پاکستان میں غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کو دی گئی مہلت ختم ہونے کے بعد حکومت نے ملک گیر کریک ڈاؤن اور فوری گرفتاریوں کا حکم دے دیا۔

July 11, 2026

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ شہید رہنما اور تمام شہداء کے خون کا بدلہ لینا قوم کا مطالبہ ہے، جسے ہر صورت پورا کیا جائے گا۔

July 11, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جے ڈی وینس اور مارکو روبیو کو ایران کے ساتھ سفارتی رابطے اور مذاکرات جاری رکھنے کی باقاعدہ ہدایت کر دی۔

July 11, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *