قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق ایک معمول کی ٹریفک چیکنگ کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی گئی ہے، جس میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) پر پروپیگنڈا پھیلانے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق ایک گاڑی کو مشکوک نمبر پلیٹ اور کالے شیشوں کے باعث روکا گیا۔ ڈرائیور، جس نے اپنا نام حمزہ بتایا، کے پاس نہ ڈرائیونگ لائسنس موجود تھا اور نہ ہی گاڑی کے کاغذات۔ حکام کا کہنا ہے کہ جب قانونی کارروائی شروع کی گئی تو مذکورہ شخص موقع سے فرار ہو گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم کی تلاش جاری ہے اور توقع ہے کہ وہ جلد گرفتاری دے گا یا اسے حراست میں لے لیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ وہی شخص ہو سکتا ہے جسے پولیس پہلے سے تلاش کر رہی تھی۔ تاہم اس حوالے سے باضابطہ تصدیق تفتیش مکمل ہونے کے بعد کی جائے گی۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر اس واقعے کو لے کر مختلف بیانیے سامنے آئے، جن میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ کارروائی سیاسی بنیادوں پر کی گئی۔ سرکاری مؤقف کے مطابق یہ ایک معمول کی قانونی کارروائی تھی جسے غیر ضروری طور پر متنازع بنانے کی کوشش کی گئی۔
اسی تناظر میں ایک اور معاملے میں بتایا گیا ہے کہ کینیڈین نژاد پاکستانی پی ایچ ڈی اسکالر سلمان مبینہ طور پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث پائے گئے اور اس وقت قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔ متعلقہ اداروں کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کسی بھی ریاستی ادارے پر بے بنیاد الزامات عائد کرنا اور معمول کی قانونی کارروائی کو سیاسی رنگ دینا معاشرے میں بداعتمادی کو فروغ دے سکتا ہے۔ ماہرین نے زور دیا کہ ایسے معاملات میں حقائق کی تصدیق کے بعد ہی رائے قائم کی جانی چاہیے اور قانون کو اپنا راستہ اختیار کرنے دیا جائے۔