پشاور کے ہزارخوانی میں سرکاری اسکول بارش کے بعد پانی میں ڈوب گیا، واقعے نے خیبر پختونخوا میں تعلیمی سہولیات اور حکومتی ترجیحات پر سوال اٹھا دیے۔

September 1, 2026

غزہ میں اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری اور فائرنگ سے 3 بچوں سمیت 4 فلسطینی شہید ہوگئے۔

September 1, 2026

افغان سفیر سردار احمد شکیب نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کر لیا، تاہم افغان سرزمین پر فوجی کارروائی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

September 1, 2026

یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔

September 1, 2026

زیارت کراس کسٹمز چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، فائرنگ کے تبادلے میں 10 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

September 1, 2026

شہباز شریف نے مودی کی موجودگی میں پانی کو سیاسی دباؤ یا بطور ہتھیار استعمال کرنے کو ناقابل قبول قرار دے دیا۔

September 1, 2026

زلمے خلیل زاد کی پاکستان پر تنقید؛ سفارتی ناکامی اور دوحہ معاہدے کے منفی اثرات سے چشم پوشی

سابق امریکی سفیر زلمے خلیل زاد کی پاکستان پر تنقید؛ ماہرین نے دوحہ معاہدے کی ناکامی اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے قیام کا ذمہ دار خلیل زاد کی پالیسیوں کو قرار دے دیا
سابق امریکی سفیر زلمے خلیل زاد کی پاکستان پر تنقید؛ ماہرین نے دوحہ معاہدے کی ناکامی اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے قیام کا ذمہ دار خلیل زاد کی پالیسیوں کو قرار دے دیا

پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کاروائیوں پر زلمے خلیل زاد کے بیان نے نئی بحث چھیڑ دی؛ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کا دورِ سفارت افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی تقویت اور سرحد پار حملوں کے آغاز کا سبب بنا

February 23, 2026

سابق امریکی خصوصی نمائندہ برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے پاکستان کی حالیہ انسدادِ دہشت گردی کاروائیوں پر تنقید کرتے ہوئے اسے “غلط فیصلے” قرار دیا ہے، تاہم دفاعی ماہرین اور علاقائی تجزیہ کاروں نے ان کے اس بیان کو اپنی ماضی کی ناکام پالیسیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

زلمے خلیل زاد نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی فضائی کاروائیوں میں شہری ہلاکتیں ہوئی ہیں اور انہوں نے پاکستانی قیادت کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کا مشورہ دیا ہے۔ تاہم ان کی یہ تنقید ان کے اپنے دورِ سفارت کے ان اقدامات کو نظرانداز کرتی ہے جن کے نتیجے میں افغانستان ایک بار پھر دہشت گردوں کا مرکز بن چکا ہے۔

دفاعی حلقوں کا کہنا ہے کہ دوحہ فریم ورک جس کی قیادت خلیل زاد نے کی تھی، دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خاتمے کو یقینی بنانے میں مکمل ناکام رہا۔ اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹ اس حقیقت کی دستاویزی گواہی دیتی ہے کہ افغانستان میں اس وقت 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں اور 13 ہزار سے زائد غیر ملکی جنگجو موجود ہیں، جو قریبی ممالک بالخصوص پاکستان کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔

ماہرین کے مطابق جس واپسی کے عمل پر خلیل زاد نے مذاکرات کیے، اس کے نتیجے میں افغان سکیورٹی اداروں کو کمزور اور زوال کا سامنا ہوا اور کالعدم ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کو سرحد پار دہشت گردی کے لیے دوبارہ منظم ہونے کا موقع ملا۔ پاکستان کی حالیہ کاروائیاں کسی “مداخلت” کا نتیجہ نہیں بلکہ ٹی ٹی پی کے ان مسلسل سرحد پار حملوں کا جواب ہیں جن کے خلاف دوحہ معاہدے میں کوئی مؤثر نفاذ کا میکانزم نہیں رکھا گیا تھا۔

تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ برسوں کی سفارتی کوششوں، انٹیلی جنس شیئرنگ اور متعدد وارننگز کے بعد کی جانے والی ان کاروائیوں کو “جذباتی” ظاہر کرنا تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ پائیدار علاقائی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو جڑ سے اکھاڑا جائے، نہ کہ سابقہ ناکام معاہدوں کے اثرات سے زبانی فاصلہ اختیار کر کے حقائق سے نظریں چرائی جائیں۔

دیکھیے: پاکستان نے افغانستان میں خوارج کے 7 ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی تصدیق کر دی

متعلقہ مضامین

پشاور کے ہزارخوانی میں سرکاری اسکول بارش کے بعد پانی میں ڈوب گیا، واقعے نے خیبر پختونخوا میں تعلیمی سہولیات اور حکومتی ترجیحات پر سوال اٹھا دیے۔

September 1, 2026

غزہ میں اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری اور فائرنگ سے 3 بچوں سمیت 4 فلسطینی شہید ہوگئے۔

September 1, 2026

افغان سفیر سردار احمد شکیب نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کر لیا، تاہم افغان سرزمین پر فوجی کارروائی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

September 1, 2026

یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔

September 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *