"> چیک پوسٹس پر تعینات اہلکاروں کے لیے فرائض کی ادائیگی ایک کڑا امتحان بن گئی - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

چیک پوسٹس پر تعینات اہلکاروں کے لیے فرائض کی ادائیگی ایک کڑا امتحان بن گئی

چیک پوسٹس پر تعینات سیکیورٹی اہلکار عوامی سلامتی برقرار رکھنے کے لیے سنگین خطرات اور سماجی ملامت کے درمیان ایک نہایت نازک سرحد پر فرائض انجام دے رہے ہیں
چیک پوسٹس پر تعینات سیکیورٹی اہلکار عوامی سلامتی برقرار رکھنے کے لیے سنگین خطرات اور سماجی ملامت کے درمیان ایک نہایت نازک سرحد پر فرائض انجام دے رہے ہیں

انسدادِ دہشت گردی کی ڈیوٹی میں ایک لمحے کی نرمی بھی شہادت کا سبب بن سکتی ہے۔ بھکر کے حالیہ واقعے نے چیک پوسٹس پر سخت حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو دوبارہ اجاگر کر دیا ہے

February 26, 2026

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار چیک پوسٹس پر ڈیوٹی کے دوران عوامی سلامتی اور عوامی جذبات کے درمیان ایک نہایت نازک سرحد پر کھڑے ہیں۔ حالیہ سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں یہ امر سامنے آیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کی ڈیوٹی انجام دینے والے اہلکاروں کو ایک طرف سخت حفاظتی پروٹوکولز پر عمل درآمد کے باعث ملامت کا سامنا ہے، تو دوسری طرف معمولی سی نرمی ان کی جان کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہی ہے۔

سیکیورٹی ماہرین کے مطابق جب اہلکار سخت تلاشی، محفوظ فاصلہ برقرار رکھنے یا بیرونی لباس اتارنے جیسے اقدامات پر اصرار کرتے ہیں تو اسے اکثر معاشرے کے بعض حلقوں کی جانب سے تذلیل یا اختیارات سے تجاوز قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سوشل میڈیا بیانیے اکثر ان اہلکاروں کو کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں جو دراصل ممکنہ خونریزی روکنے کی تگ و دو میں مصروف ہوتے ہیں۔

تاہم اس تصویر کا دوسرا رخ انتہائی المناک ہے۔ حال ہی میں دجال چیک پوسٹ، بھکر میں پیش آنے والا واقعہ اس کی واضح مثال ہے، جہاں ایک خودکش حملہ آور نے سیکیورٹی میں موجود معمولی نرمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فاصلہ کم کیا اور قریب پہنچ کر دھماکا کر دیا۔ ایک خودکش بمبار کو اپنا ہدف حاصل کرنے کے لیے صرف ایک لمحے کی غفلت یا نرمی درکار ہوتی ہے، جبکہ ڈیوٹی پر موجود اہلکار کو ہر لمحہ درست اور فوری فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔

المیہ یہ ہے کہ اگر اہلکار پیشہ ورانہ سختی برتیں تو انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور اگر وہ شائستگی یا عوامی سہولت کی خاطر نرمی دکھائیں تو انہیں شہادت کا جام پینا پڑتا ہے۔ سیکیورٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ شہریوں کو چاہیے کہ وہ چیک پوسٹس پر تعینات اہلکاروں کے ساتھ تعاون کریں اور ان سخت اقدامات کو اپنی ہی حفاظت کا ضامن سمجھیں، کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قواعد و ضوابط کی سختی ہی دفاع کی پہلی اور آخری لکیر ہے۔

دیکھیے: آپریشن غضب للحق: پاکستان فضائیہ کی افغانستان میں کارروائیوں کا آغاز، ننگرہار میں اسلحہ ڈپو تباہ کر دیا

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *