اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ فضائی حملوں کے دوران ایران کے چند اہم عسکری اور سیاسی شخصیات کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن میں ایران کے وزیر دفاع امیر نصیر زادہ اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور شامل ہیں، ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ حملوں میں شہید ہو گئے ہیں۔
اس کے علاوہ ایران نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے اور بہو بھی ہونے والی امریکی اور اسرائیلی حملوں میں شہید ہو گئے ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پہلے ایک انٹرویو میں واضح کیا تھا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای زندہ ہیں اور ان کے بارے میں غلط معلومات پھیلنا درست نہیں ہے۔ تاہم رائٹرز نے اسرائیلی حکام کی جانب سے اس دعوے کو رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای بھی اب اس دنیا میں نہیں رہے اور ان کی لاش بھی مل گئی ہے۔ ایرانی حکام نے اس خبر پر کہا ہے کہ وہ اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اعلیٰ قیادت کے حوالے سے کسی خبر کی تصدیق کر سکیں۔
دوسری جانب ایران نے ان حملوں کے بعد ابنائے ہرمز کو بھی بند کر دیا ہے۔
عالمی خبر رساں ذرائع کے مطابق امریکی و اسرائیلی فضائی حملے نے ایران کے مختلف شہروں اور عسکری اہداف کو نشانہ بنایا، جس کے بعد ایران نے جوابی میزائل و ڈرون حملوں کے ساتھ جوابی کارروائی کا بھی آغاز کیا ہے، جس نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
دونوں ممالک کی جانب سے جاری کشیدہ صورتحال کے باعث عالمی برادری نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی پر زور دیا ہے، جبکہ یہ تنازع بین الاقوامی قوانین، حملوں کی قانونی حیثیت، اور خطے کے مستقبل کے حوالے سے سوالات کو جنم دے رہا ہے۔