"> افغان وزارت دفاع کا راولپنڈی، کوئٹہ اور مہمند میں فضائی حملوں کا دعویٰ جھوٹا قرار؛ سکیورٹی فورسز نے پاکستان کی دفاعی تنصیبات کو محفوظ قرار دے دیا - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

افغان وزارت دفاع کا راولپنڈی، کوئٹہ اور مہمند میں فضائی حملوں کا دعویٰ جھوٹا قرار؛ سکیورٹی فورسز نے پاکستان کی دفاعی تنصیبات کو محفوظ قرار دے دیا

افغان وزارتِ دفاع نے پاکستان کے اہم عسکری مراکز پر فضائی حملوں کا دعویٰ کیا ہے، تاہم زمینی حقائق نے ان تمام دعوؤں کو سراسر جھوٹ اور پراپیگنڈا ثابت کر دیا ہے
افغان وزارتِ دفاع نے پاکستان کے اہم عسکری مراکز پر فضائی حملوں کا دعویٰ کیا ہے، تاہم زمینی حقائق نے ان تمام دعوؤں کو سراسر جھوٹ اور پراپیگنڈا ثابت کر دیا ہے

افغانستان کی جانب سے راولپنڈی، کوئٹہ اور مہمند میں فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے دعوے بے بنیاد نکلے۔ تمام حساس تنصیبات محفوظ ہیں اور معمول کی سرگرمیاں جاری ہیں

March 2, 2026

افغان وزارتِ دفاع کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغان فضائیہ کے دستوں نے پاکستان کی اہم ترین عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ اعلامیہ میں دعویٰ کیا گیا کہ راولپنڈی میں واقع نور خان ایئربیس، کوئٹہ میں 12 کور ہیڈکوارٹرز اور مہمند ایجنسی میں واقع خویزہ کیمپ پر مؤثر فضائی حملے کیے گئے ہیں۔

افغان حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ کاروائی مبینہ طور پر کابل، بگرام اور دیگر ملحقہ علاقوں میں پاکستانی فضائیہ کی جانب سے کی جانے والی خلاف ورزیوں کے جواب میں “برابری کی بنیاد پر” کی گئی ہے۔

زمینی حقائق
افغان وزارتِ دفاع کے ان دعوؤں کے برعکس پاکستان کے تمام علاقوں میں صورتحال مکمل طور پر معمول کے مطابق ہے اور کسی بھی قسم کے فضائی حملے یا دھماکے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ دفاعی ذرائع کے مطابق راولپنڈی کا نور خان ایئربیس اور کوئٹہ میں فوجی مراکز مکمل طور پر محفوظ ہیں اور وہاں معمول کی عسکری و سول سرگرمیاں جاری ہیں۔

مہمند ایجنسی کے سرحدی علاقوں سے بھی کسی فضائی کاروائی یا نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ افغان حکام کی جانب سے کیا گیا یہ دعویٰ محض ایک “پراپیگنڈا وار” کا حصہ ہے جس کا مقصد حقائق کو مسخ کرنا اور بے جا اشتعال انگیزی پھیلانا ہے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے من گھڑت بیانات داخلی دباؤ کو کم کرنے اور خطے میں کشیدگی کو ہوا دینے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان کی فضائی حدود مکمل طور پر محفوظ ہیں اور دفاعی نظام کسی بھی قسم کی جارحیت کا فوری جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم، موجودہ صورتحال میں افغان وزارتِ دفاع کا یہ بیان محض کاغذوں تک محدود نظر آتا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

دیکھیے: اسرائیلی افواج نے ایران میں جاں بحق ہونے والی ایرانی اعلیٰ قیادت کی تفصیلات جاری کر دیں

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *