ایران اور بھارت کے درمیان طویل عرصے سے قائم تزویراتی اور معاشی تعلقات اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ حالیہ پیش رفتوں نے تہران اور نئی دہلی کے درمیان اعتماد کے بحران کو جنم دے دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق بھارت نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایسے فیصلے کیے ہیں جن سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ نئی دہلی نے واشنگٹن کو خوش کرنے کے لیے ایران کے ساتھ اپنے روایتی تعلقات کو پس منظر میں ڈال دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق بھارتی حکام نے ممبئی کے قریب ایران سے منسلک تین تیل بردار جہازوں کو ضبط کر لیا ہے جبکہ ایران کی اہم بندرگاہ چاہ بہار کے منصوبے کے لیے مالی معاونت بھی روک دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل، امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر بھارت کے محتاط مؤقف نے بھی تہران میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان اقدامات کے باعث نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان سفارتی فاصلہ بڑھ سکتا ہے بلکہ خلیج اور جنوبی ایشیا میں معاشی و سیاسی تعلقات بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ایرانی تیل بردار جہازوں کی ضبطی
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بھارتی حکام نے فروری 2026 میں ممبئی سے تقریباً سو بحری میل کے فاصلے پر تین تیل بردار جہازوں اسٹیلر روبی، اسفالٹ اسٹار اور ال جعفزیہ کو تحویل میں لے لیا۔ ان جہازوں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ امریکی پابندیوں کے باوجود ایران سے منسلک تیل کی منتقلی میں ملوث تھے۔
ذرائع کے مطابق ان جہازوں کے ذریعے سمندر میں ہی ایک جہاز سے دوسرے جہاز کو تیل منتقل کیا جا رہا تھا تاکہ پابندیوں سے بچا جا سکے۔ بعض جہازوں نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے خودکار نگرانی کے نظام بھی بند کر رکھے تھے۔ اس واقعے کے بعد بھارت نے اپنے سمندری اقتصادی دائرے میں نگرانی سخت کرتے ہوئے تقریباً پچپن کوسٹ گارڈ جہازوں اور فضائی نگرانی کے ذرائع کو تعینات کر دیا۔
چاہ بہار منصوبہ غیر یقینی کا شکار
بھارت اور ایران کے درمیان معاشی تعاون کی سب سے اہم علامت چاہ بہار بندرگاہ کا منصوبہ سمجھا جاتا ہے۔ 2016 میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورۂ تہران کے دوران ایران، بھارت اور افغانستان کے درمیان اس منصوبے پر معاہدہ طے پایا تھا۔ اس کا مقصد بھارت کو افغانستان اور وسطی ایشیا تک براہ راست تجارتی رسائی فراہم کرنا تھا۔
بھارتی حکومت نے اس منصوبے کو اپنے علاقائی اقتصادی وژن کا اہم ستون قرار دیا تھا اور 2024 میں بندرگاہ کے آپریشن کے لیے طویل مدتی معاہدے کی بھی توثیق کی گئی تھی۔ تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق بھارت نے اپنے 2026 کے بجٹ میں اس منصوبے کے لیے نئی مالی معاونت روک دی ہے۔
اگرچہ بھارت کو اپریل 2026 تک امریکی پابندیوں سے جزوی استثنیٰ حاصل ہے، لیکن خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ پابندیوں کے خدشات کے باعث نئی دہلی اس منصوبے میں مزید سرمایہ کاری کے معاملے میں محتاط نظر آ رہا ہے۔ اس پیش رفت نے تہران میں یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ بھارت اپنی معاشی ترجیحات کو ازسرنو ترتیب دے رہا ہے۔
اسرائیل۔ایران کشیدگی پر محتاط مؤقف
فروری 2026 کے آخر میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد بھارت نے صرف “گہری تشویش” کا اظہار کیا، تاہم ایران پر حملوں کی واضح مذمت نہیں کی۔ اس محتاط مؤقف کو بھی تہران میں تنقیدی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کا ان واقعات سے چند روز قبل اسرائیل کا دورہ ان قیاس آرائیوں کو مزید تقویت دیتا ہے کہ نئی دہلی خطے میں اپنے سفارتی توازن کو ازسرنو ترتیب دے رہا ہے۔ بھارت نے البتہ خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کی مذمت کی، جبکہ ایران کے حق میں کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔
جاسوسی کے الزامات
دوسری جانب ایرانی ذرائع ابلاغ نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ 2025 کے وسط سے اب تک ایران میں درجنوں بھارتی شہریوں کو مبینہ طور پر اسرائیلی خفیہ ادارے کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم بھارتی حکومت نے ان الزامات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ اس معاملے نے بھی دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تناؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔
بدلتی سفارتی ترجیحات
علاقائی امور کے ماہرین کے مطابق حالیہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بھارت اپنی خارجہ پالیسی میں ایک نئے توازن کی تلاش میں ہے۔ اس حکمت عملی کو اکثر ماہرین “ملٹی الائنمنٹ” قرار دیتے ہیں، جس کے تحت نئی دہلی ایک ہی وقت میں ایران، اسرائیل، امریکہ اور خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
ایک طرف بھارت کو امریکہ اور مغربی اتحادیوں کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط رکھنا ہیں، جبکہ دوسری جانب ایران کے ساتھ توانائی اور تجارت کے روابط بھی اس کے لیے اہم رہے ہیں۔ تاہم موجودہ صورتحال نے یہ سوال ضرور کھڑا کر دیا ہے کہ آیا نئی دہلی کی یہ حکمت عملی وقتی سفارتی ضرورت ہے یا واقعی ایران کے ساتھ اس کے دیرینہ تعلقات ایک نئے اور غیر یقینی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔