پشاور: خیبرپختونخوا حکومت کے فیکٹ چیک پلیٹ فارم نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوے کو مسترد کیا ہے جس میں کہا جا رہا تھا کہ افغان فورسز نے خوست کے ضلع علی شیر کے علاقے دبگئی کے قریب مبینہ طور پر پاکستانی فوج کی ایک اہم چوکی پر قبضہ کر لیا ہے اور جھڑپ کے دوران چار پاکستانی اہلکار شہید ہوئے ہیں۔
کے پی فیکٹ چیک کے مطابق یہ دعویٰ بے بنیاد ہے اور اسے منظم پروپیگنڈا مہم کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے کسی بھی قابلِ اعتماد یا مستند ذریعے سے ایسی کوئی آپریشنل رپورٹ یا تصدیق سامنے نہیں آئی کہ افغان فورسز نے مذکورہ علاقے میں پاکستانی فوجی چوکی پر قبضہ کیا ہو۔
فیکٹ چیک پلیٹ فارم کے مطابق پاکستان کی مغربی سرحد پر قائم تمام سرحدی چوکیاں بدستور مکمل طور پر فعال ہیں اور پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے دعوے عام طور پر بغیر کسی ثبوت کے پھیلائے جاتے ہیں اور ان کی حمایت میں نہ کوئی بصری شواہد، نہ آزاد رپورٹنگ اور نہ ہی جغرافیائی تصدیق پیش کی گئی ہے۔
KP Fact Check ✅
— Fact Check – KP Govt (@factcheckkpgovt) March 6, 2026
🟠 Claim:
FAK, RAW, and Afghan propaganda accounts are claiming that Afghan forces in Khost province captured an important Pakistani military post along the so-called Durand Line near Dabgai area of Alisher district, and that four Pakistani soldiers were… pic.twitter.com/YKWQcSE2WZ
کے پی فیکٹ چیک کے مطابق یہ بیانیہ زیادہ تر ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے پھیلایا جا رہا ہے جو ماضی میں بھی سرحدی جھڑپوں سے متعلق گمراہ کن معلومات پھیلانے میں ملوث رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کی غلط معلومات کا مقصد پاکستان اور افغانستان کی سرحدی صورتحال کے بارے میں غلط تاثر پیدا کرنا ہے۔