کابل: طالبان حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد پہلی مرتبہ سابق افغان اسپیشل فورسز کے اہلکاروں کو اپنی صفوں میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ انہیں پاکستانی فورسز کے خلاف لڑائی میں ان کی مہارت سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق یہ وہ اہلکار ہیں جنہیں سابق افغان جمہوریہ کے دور میں نیٹو کی تربیت حاصل تھی اور طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ان میں سے بیشتر کو ملازمتوں سے برطرف یا گرفتار کر لیا گیا تھا تاکہ وہ طالبان کے لیے ممکنہ خطرہ نہ بن سکیں۔
اطلاعات کے مطابق حالیہ سرحدی جھڑپوں میں طالبان فورسز کو بھاری نقصانات اٹھانا پڑے اور جنگی تجربہ رکھنے والی پاکستانی افواج کے سامنے طالبان جنگجوؤں کی کمزور کارکردگی سامنے آئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کئی مقامات پر طالبان اہلکار مؤثر مزاحمت نہ کر سکے اور اپنی چوکیاں چھوڑ کر پسپا ہو گئے۔
ان حالات کے پیش نظر طالبان قیادت نے سابق افغان فوج اور اسپیشل فورسز کے اہلکاروں کو دوبارہ شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ جنگی تجربہ رکھنے والے اہلکاروں کے ذریعے اپنی عسکری صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حالیہ جھڑپوں میں طالبان فورسز کو شدید چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔
دیکھئیے:افغانستان: جسمانی سزاؤں میں غیر معمولی اضافے پر اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے کا اظہارِ تشویش