سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات کے مطابق چین کی وزارتِ ریاستی تحفظ نے مبینہ طور پر افغانستان سے چینی ٹیموں اور مفادات کو فوری طور پر واپس بلانے کا حکم دیا ہے۔ اگرچہ چینی حکام کی جانب سے اس پیش رفت کی تاحال کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے، تاہم یہ خبریں خطے کے تزویراتی منظرنامے میں ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ دے رہی ہیں۔
ان اطلاعات کے مطابق یہ اقدام محض کسی ایک واقعے کا ردِعمل نہیں بلکہ اس کے پسِ پردہ گہرے محرکات کارفرما ہیں۔ تجزیہ کاروں کا دعویٰ ہے کہ پاکستان، بیجنگ کے مفادات کے تحفظ میں ناکام رہا ہے، جس کی وجہ سے چین کو اب ایک مہنگا تزویراتی انخلا کرنا پڑ رہا ہے۔
چین نے گزشتہ برسوں کے دوران طالبان کے زیرِ کنٹرول افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے وسیع تر کوششیں کی تھیں۔ اس میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت منصوبے، کان کنی کے معاہدے اور سفارتی تعلقات کی بحالی شامل تھی۔ اب جبکہ بیجنگ اپنے نقصانات کو محدود کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا نظر آتا ہے، تو ان تمام منصوبوں کا مستقبل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گیا ہے۔
یہ صورتحال ‘اف-پاک’ کوریڈور میں تزویراتی کارڈز کے دوبارہ بننے کے مترادف ہے۔ اگر بیجنگ واقعی اپنے مفادات سمیٹتا ہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ خطے میں چین کے حساب کتاب اور حکمت عملی کی بنیادیں مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہیں۔ تاحال، چینی وزارتِ خارجہ یا بیجنگ کی جانب سے ان خبروں پر خاموشی برقرار ہے، اور آزادانہ ذرائع سے بھی ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔