پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے ازبکستان کے صوبہ تاشقند کے گورنر زوئیر مرزا ایوف نے 7 رکنی وفد کے ہمراہ ملاقات کی۔ اس تاریخی ملاقات میں پنجاب اور تاشقند کے درمیان تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔ جانبین نے باہمی اتفاقِ رائے سے پنجاب اور تاشقند کو ’برادر صوبہ‘ قرار دینے پر اتفاق کیا ہے، جس کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے تاکہ مستقبل میں تعاون کے امور کو عملی شکل دی جا سکے۔
معاشی و صنعتی شعبوں میں تعاون
دوران ملاقات سیاحت، زراعت، لائیو اسٹاک اور فروٹ سمیت دیگر صنعتی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے بتایا کہ پنجاب اپنی زرعی صلاحیتوں میں خود کفیل ہے اور ملکی زراعت کا 70 فیصد حصہ یہیں سے حاصل ہوتا ہے۔ گورنر تاشقند نے ازبکستان میں ٹیکسٹائل، بالخصوص پولیسٹر کی مانگ کے پیشِ نظر پاکستانی سرمایہ کاروں اور کمپنیوں کو اشتراک کی دعوت دی، جس کا مقصد دونوں خطوں کی تجارتی ایکسپورٹ کو فروغ دینا ہے۔
سیاحت اور ثقافتی ورثے
گورنر تاشقند نے پنجاب میں سیاحت کے فروغ اور مغل دور کی تاریخی عمارتوں کی بحالی پر وزیراعلیٰ مریم نواز کی کاوشوں کو سراہا۔ جانبین اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ لاہور میں ازبکستان کی ثقافت پیش کرنے کے لیے ’بابر پارک‘ قائم کیا جائے۔ اس موقع پر نواز شریف نے ثمرقند کو علم و ہنر کا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام ازبکستان کے علمی و ثقافتی ورثے پر فخر کرتے ہیں۔ اس موقع پر لاہور میں موجود مغل دور کے آثارِ قدیمہ اور تاریخی مقامات کے تحفظ کے لیے بھی مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر گفتگو ہوئی۔
لائیو اسٹاک اور گوشت کی فراہمی
وزیراعلیٰ پنجاب نے لائیو اسٹاک اور گوشت کی فراہمی کے شعبے میں پنجاب کی تیاریوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں عالمی معیار کے مطابق تین لاکھ مویشیوں کا گوشت تیار ہے اور ان کی معیار کو بہتر بنانے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ گورنر تاشقند نے ازبک شیف بھیجنے کی پیشکش کی تاکہ پاکستانی باورچیوں کو ازبک کھانوں کی تربیت دی جا سکے، جس سے عوامی سطح پر ثقافتی تبادلے کو مزید تقویت ملے گی۔
دورہ ازبکستان کی دعوت
اختتام پر گورنر تاشقند نے صدرِ ازبکستان کی جانب سے پاکستانی عوام، بالخصوص اہل پنجاب کے لیے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کو ازبکستان کے سرکاری دورے کی دعوت دی، جسے مریم نواز شریف نے شکریہ کے ساتھ قبول کر لیا۔ یہ دورہ دونوں خطوں کے درمیان معاشی معاہدوں کو حتمی شکل دینے اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔