صدر آصف علی زرداری نے ہفتہ کو کہا کہ افغان طالبان نے پاکستان میں شہری اہداف پر مبینہ طور پر ڈرون حملے کر کے “ریڈ لائن عبور کر دی ہے”۔ پاکستانی فوج کے مطابق یہ ڈرون ابتدائی نوعیت کے تھے اور جمعہ کی رات انہیں ناکام بنایا گیا، جس سے راولپنڈی میں فوجی ہیڈکوارٹر سمیت کوئی اہم ہدف نشانہ نہیں بنا۔
ماہرین کے مطابق طالبان کے پاس مکمل فعال فضائیہ موجود نہیں، مگر انہوں نے مقامی طور پر تیار شدہ ڈرونز استعمال کیے، جن کا ہدف زیادہ تر پاکستان کے سرحدی علاقے تھے۔ پاکستانی فوج کے مطابق ڈرون کے ملبے سے کوئٹہ میں دو بچے زخمی ہوئے جبکہ کوہاٹ اور راولپنڈی میں ایک ایک شہری متاثر ہوا۔ اس دوران، حفاظتی وجوہات کی بنا پر دارالحکومت کے فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دیے گئے۔
پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ “افغان طالبان نے چند ابتدائی ڈرونز پاکستان کے بہادر عوام کو ہراساں کرنے کے لیے چھوڑے، لیکن یہ اپنے ہدف تک نہیں پہنچ سکے۔” یہ واقعہ پاکستان کی جانب سے کابل اور سرحدی صوبوں میں ہونے والے آپریشنز کے جواب میں آیا، جن میں کئی شہری ہلاک ہوئے تھے۔
صدر زرداری کے دفتر نے ایک بیان میں کہا: “پاکستان شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کو برداشت نہیں کرے گا، افغان زمین کا استعمال پڑوسیوں کے خلاف دہشت گردی کے لیے نہیں ہونا چاہیے، پاکستان اپنے عوام کا دفاع کرے گا۔”