جمہوریت کے مسقتبل پر ایک سوال کے جواب میں معروف جرمن فلسفی ، سماجی مفکر اور استاد یورگن ہابر ماس نے کہا تھا کہ “جمہوریت کا اصل جوہر وہ بحث ہے جو ختم نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ جس دن بحث ختم ہو گئی، اس دن جبر شروع ہو جائے گا۔”
چودہ مارچ کو 96 سالہ یورگن ہابرماس اس دنیا سے چل بسے . ایک ایسے زمانے میں جب دنیا نظریاتی کشمکش، جنگوں اور طاقت کی سیاست کے بیچ جھول رہی تھی، ہابرماس نے مکالمے، دلیل اور جمہوری گفتگو کو انسانی معاشرے کی بنیاد قرار دیا۔ وہ صرف ایک فلسفی نہیں تھے بلکہ بیسویں اور اکیسویں صدی کے ان چند مفکرین میں شامل تھے جنہوں نے یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ ایک بہتر معاشرہ صرف طاقت سے نہیں بلکہ دلائل، مکالمے اور اجتماعی شعور سے بنتا ہے۔
ہابرماس 1929 میں جرمنی کے شہر ڈسلڈورف کے قریب پیدا ہوئے۔ ان کا بچپن اور جوانی اس جرمنی میں گزری جو نازی ازم کے عروج اور پھر اس کی تباہی کا گواہ تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمن معاشرے کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ وہ اپنی اجتماعی اخلاقیات اور سیاست کو کیسے دوبارہ تعمیر کرے۔ یہی وہ پس منظر تھا جس نے ہابرماس کی فکر کو گہرائی دی۔ انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ اگر معاشرے کو آمریت اور شدت پسندی سے بچانا ہے تو اس کا راستہ کیا ہے؟ ان کے نزدیک اس کا جواب تھا: آزاد مکالمہ اور دلیل پر مبنی جمہوری معاشرہ۔
ہابرماس جرمنی کے مشہور فرینکفرٹ اسکول سے وابستہ تھے، جو تنقیدی نظریات کے لیے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔ اس مکتبہ فکر نے سرمایہ داری، طاقت اور میڈیا کے کردار کو سمجھنے کی کوشش کی۔ لیکن ہابرماس نے اس روایت میں ایک نئی جہت کا اضافہ کیا۔ انہوں نے صرف تنقید پر اکتفا نہیں کیا بلکہ یہ بھی بتایا کہ بہتر معاشرہ کیسے بنایا جا سکتا ہے۔
ان کی سب سے مشہور کتاب The Structural Transformation of the Public Sphere ہے، جس میں انہوں نے بتایا کہ جدید جمہوری معاشروں میں عوامی مباحثہ کس طرح تشکیل پاتا ہے۔ ہابرماس کے مطابق ایک صحت مند جمہوریت کے لیے ضروری ہے کہ ایک ایسا پبلک اسفیئر ہو جہاں شہری آزادانہ طور پر بحث و مباحثہ کر سکیں، حکومتوں پر سوال اٹھا سکیں اور اجتماعی فیصلوں میں حصہ لے سکیں۔ ان کے نزدیک اگر مکالمے کی یہ فضا ختم ہو جائے تو جمہوریت محض ایک رسمی نظام بن کر رہ جاتی ہے۔
ہابرماس کی دوسری بڑی علمی خدمت ان کا نظریہ Communicative Action ہے۔ اس نظریے کے مطابق انسانی معاشرہ صرف معاشی مفادات یا طاقت کے کھیل سے نہیں چلتا بلکہ لوگ آپس میں بات چیت، دلیل اور سمجھ بوجھ کے ذریعے مشترکہ فیصلے کرتے ہیں۔ ہابرماس کا کہنا تھا کہ جب مکالمہ آزاد اور غیر جانبدار ہو تو لوگ کسی نہ کسی مشترکہ سچائی تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس تصور کو انہوں نے “ڈسکورس ایتھکس” یعنی مکالماتی اخلاقیات کا نام دیا۔
یہ خیالات محض فلسفیانہ بحث نہیں تھے بلکہ ان کا براہ راست تعلق سیاست اور معاشرے سے تھا۔ ہابرماس کا ماننا تھا کہ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا نظام ہے جس میں شہری مستقل مکالمے کے ذریعے ریاست کو جواب دہ بناتے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے میڈیا، یونیورسٹیوں اور دانشوروں کے کردار پر بھی زور دیا کہ وہ معاشرے میں دلیل اور تنقیدی سوچ کو زندہ رکھیں۔
ہابرماس کی فکر کا اثر صرف یورپ تک محدود نہیں رہا۔ دنیا بھر کے سیاسی نظریات، قانون، سماجیات اور میڈیا اسٹڈیز میں ان کے خیالات پڑھائے جاتے ہیں۔ خاص طور پر یہ سوال کہ جمہوریت کو طاقت کے بجائے مکالمے کے ذریعے کیسے مضبوط کیا جا سکتا ہے، آج بھی ہابرماس کی فکر کا مرکزی نکتہ ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہابرماس صرف کتابوں تک محدود فلسفی نہیں تھے۔ وہ اپنے زمانے کے سیاسی مباحث میں بھی فعال رہے۔ یورپی یونین کے مستقبل، جرمنی کی تاریخ، مذہب اور جدیدیت جیسے موضوعات پر انہوں نے کھل کر لکھا اور گفتگو کی۔ ان کا انداز ہمیشہ یہی رہا کہ اختلاف کو دشمنی نہیں بلکہ مکالمے کا آغاز سمجھا جائے۔
اگر ہابرماس کی پوری فکر کو ایک جملے میں سمیٹا جائے تو شاید یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ طاقت کی سیاست کے مقابلے میں دلیل کی سیاست کے فلسفی تھے۔ انہوں نے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ معاشرے کو بہتر بنانے کے لیے ہمیں بندوقوں یا نعروں سے زیادہ مکالمے اور شعور کی ضرورت ہے۔
آج جب دنیا ایک بار پھر انتہا پسندی، معلوماتی جنگوں اور سیاسی تقسیم کا شکار ہے، ہابرماس کی باتیں پہلے سے زیادہ اہم محسوس ہوتی ہیں۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اگر معاشرے میں بات چیت کے دروازے بند ہو جائیں تو پھر صرف شور باقی رہ جاتا ہے، اور شور کبھی بھی سچائی تک نہیں پہنچاتا۔
یورگن ہابرماس کو آنے والی نسلیں ایک ایسے مفکر کے طور پر یاد کریں گی جس نے ہمیں یہ سکھایا کہ جمہوریت صرف ایک سیاسی نظام نہیں بلکہ مکالمے کی تہذیب ہے۔ اور شاید یہی ان کی سب سے بڑی علمی میراث ہے۔یہ صرف ایک فلسفی کی موت نہیں بلکہ ایک پورے عہد کا اختتام ہے جس نے نازی جرمنی کی راکھ سے جنم لیا اور جدید دنیا کو دلیل کی طاقت کا راستہ دکھایا۔ وہ صرف ایک ماہرِ عمرانیات یا استاد نہیں تھے، وہ انسانی ضمیر کے پہرے دار تھے جنہوں نے اس وقت مکالمے کا علم بلند کیا جب دنیا ایٹمی ہتھیاروں اور نظریاتی انتہا پسندی کے ڈھیر پر بیٹھی تھی۔ ان کی زندگی کا آغاز ایک ایسے دور میں ہوا جب جرمنی ہٹلر کی فسطائیت کی لپیٹ میں تھا۔ ایک نوجوان کے طور پر انہوں نے دیکھا کہ کس طرح پروپیگنڈا اور نفرت نے ایک پڑھے لکھے معاشرے کو انسانیت سوز مظالم پر اکسایا۔ یہی وہ کرب تھا جس نے ہابرماس کو عمر بھر کے لیے یہ سوال دیا کہ: “ہم ایک ایسا معاشرہ کیسے تشکیل دے سکتے ہیں جہاں تشدد کی جگہ دلیل لے لے؟” . وہ ایک “عوامی دانشور” (Public Intellectual) تھے۔ ان کا فلسفہ صرف لائبریریوں کی زینت نہیں رہا بلکہ وہ ہر اس جگہ موجود رہے جہاں جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوا۔ چاہے وہ خلیجی جنگ ہو، یورپی یونین کا قیام ہو یا انٹرنیٹ کے ذریعے پھیلنے والی نفرت، ہابرماس نے ہر محاذ پر اپنی دانش کا لوہا منوایا۔
ہابرماس کی فکر کا محور دو بڑے ستون تھے: پبلک اسفیئر (عوامی حلقہ) اور ابلاغی عمل۔ ان کا ماننا تھا کہ ایک صحت مند اور زندہ معاشرہ وہ ہے جہاں “پبلک اسفیئر” مضبوط ہو۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں لوگ بادشاہوں یا حکومتوں کے ڈر کے بغیر، برابری کی سطح پر بیٹھ کر اپنے مسائل پر بحث کر سکیں۔ انیسویں صدی کے کافی ہاؤسز سے لے کر آج کے ڈیجیٹل فورمز تک، ہابرماس نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ جب تک عام آدمی کو اپنی بات دلیل سے پیش کرنے کا موقع نہیں ملے گا، جمہوریت ایک ڈھونگ رہے گی۔ان کا دوسرا بڑا نظریہ “ابلاغی عقلیت” تھا۔ وہ کہتے تھے کہ زبان کا اصل مقصد صرف معلومات دینا نہیں بلکہ “افہام و تفہیم” پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے فلسفے کی تاریخ کو یہ نیا رخ دیا کہ سچ وہ نہیں ہے جو کسی طاقتور نے کہہ دیا، بلکہ سچ وہ ہے جس پر تمام لوگ آزادانہ بحث کے بعد متفق ہو جائیں۔ اسے وہ “بہتر دلیل کی طاقت” کہتے تھے۔ ان کا فلسفہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اگر دو انسان خلوصِ نیت سے بات کریں، تو وہ بڑے سے بڑا مسئلہ حل کر سکتے ہیں۔
ہابرماس کو ایک ایسے “ناقابلِ تسخیر امید پرست” کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے تاریخ کے سیاہ ترین ابواب دیکھنے کے باوجود انسانیت سے بھروسہ نہیں اٹھایا۔ انہیں ایک ایسے معمار کے طور پر دیکھا جائے گا جس نے جدید یورپ کی فکری بنیادیں رکھیں اور “آئینی حب الوطنی” کا تصور دیا۔ ان کے نزدیک حب الوطنی یہ نہیں کہ آپ اپنی نسل یا مٹی کی پرستش کریں، بلکہ حب الوطنی یہ ہے کہ آپ اپنے ملک کے جمہوری اور انسانی حقوق کے حامل آئین سے وفاداری کریں۔آج جب دنیا “فیک نیوز”، سوشل میڈیا کی نفرتوں اور آمریت پسند لیڈروں کے حصار میں ہے، ہابرماس کی کمی شدت سے محسوس ہوگی۔ انہوں نے ہمیں سکھایا کہ شور مچانے اور دلیل دینے میں فرق ہوتا ہے۔ وہ ایک ایسی شمع تھے جس نے عقل و شعور کی روشنی کو کبھی مدھم نہیں ہونے دیا۔ہابرماس کی کہانی دراصل انسانی عقل کی فتح کی کہانی ہے۔ انہوں نے 96 سال کی طویل زندگی میں ثابت کیا کہ ایک مفکر کا کام صرف دنیا کی تشریح کرنا نہیں بلکہ اسے بہتر بنانے کے لیے راستہ دکھانا بھی ہے۔ ان کی تحریریں، ان کے نظریات اور ان کی شخصیت ہمیشہ ان لوگوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی جو ایک پرامن اور عقلی معاشرے کا خواب دیکھتے ہیں۔