افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے پاکستان پر داعش کی سرپرستی کے الزامات کے بعد حقائق پر مبنی دستاویزات نے افغان بیانیے کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔ ماہرین اور ریاستی شواہد کے مطابق دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے افغان حکومت کو اپنے گھر کی اصلاح کرنی چاہیے۔
داعش اور بگرام جیل
حقیقت یہ ہے کہ داعش کی بنیاد افغانستان میں 2014 میں اس وقت رکھی گئی جب عراق اور شام سے وفود نے مقامی کمانڈروں سے ملاقاتیں کیں۔ 2021 میں کابل پر قبضے کے بعد طالبان نے بگرام جیل کے دروازے کھول کر سینکڑوں خطرناک داعش دہشت گردوں کو رہا کیا، جو اب خطے میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ داعش کو پاکستان سے منسلک کرنا ایک ایسا من گھڑت افسانہ ہے جسے طالبان اپنی کمزوریوں کو چھپانے کے لیے بلا کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
پاکستان سہولت کار نہیں بلکہ نشانہ
پاکستان خود افغانستان سے آپریٹ کرنے والی تنظیم داعش کا سب سے بڑا نشانہ رہا ہے۔ اسلام آباد کی امام بارگاہ میں دھماکے، کوئٹہ، کراچی اور پشاور میں ہونے والے حملوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اس تنظیم کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے بھی کابل میں امریکی فوجیوں پر حملے میں ملوث داعش دہشت گرد کی گرفتاری پر پاکستانی اداروں کے کردار کو سراہا تھا۔
افغان انٹیلی جنس اور دہشت گرد
رپورٹس کے مطابق افغانستان کے سرحدی صوبے ننگرہار، کنڑ اور نورستان آج بھی داعش کے مضبوط گڑھ ہیں۔ افغان انٹیلی جنس کے ننگرہار میں سربراہ ڈاکٹر بشیر کے داعش قیادت سے قریبی روابط اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ فتنہ الخوارج اور آئی ایس کے پی کا افغانستان کے ایک ہی اضلاع میں ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں کو افغان طالبان کی پشت پناہی حاصل ہے۔
ثبوت اور خودکش حملے
پاک فوج کے پاس ایسے ناقابلِ تردید ثبوت موجود ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان میں ہونے والے متعدد حملوں کے ماسٹر مائنڈ اور سہولت کار افغانستان میں موجود ہیں۔ خودکش حملہ آوروں کا افغان شہری ہونا اور سرحد پار سے آپریٹ کرنا ثابت کرتا ہے کہ دہشت گردی کے مراکز کہاں واقع ہیں۔ پاکستان نے بارہا ان ٹھکانوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا، مگر طالبان حکومت کی جانب سے غفلت برتی گئی۔
ریاستی موقف
پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ دہشت گرد چاہے کسی بھی لبادے میں ہوں، وہ ریاست کے دشمن ہیں۔ پاکستانی عوام اور افواج دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے متحد ہیں اور کسی بھی بیرونی سازش یا پراکسی جنگ کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ذبیح اللہ مجاہد کو دوسروں پر الزام لگانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔