افغانستان کے امیر المومنین ملا ہیبت اللہ کی اسپیشل فورسز یونٹ، جو طالبان کے گروپس میں جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ہے، کو پاکستان نے کل رات (ہفتہ، 13 مارچ) کو نشانہ بنایا۔ یہ یونٹ قندھار شہر کے مضافات سب سے اونچی جگہ پر واقع رہائشی علاقے میں واقع ہے جو ہیبت اللہ کی رہائش گاہ منڈیک علاقے سے تقریباً چھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
پاکستانی طیاروں نے رات قندھار شہر کے 13 ویں ضلع میں ملا ہیبت اللہ کے اسپیشل فورسز کے ہیڈ کوارٹر پر بمباری کی۔ علاقہ مکینوں کے مطابق دھماکے کی آواز بہت زوردار تھی اور قندھار شہر کے دور دراز علاقوں میں بھی سنی گئی۔
اسکے علاوہ پاکستانی فضائی حملے کے بعد قندھار شہر کے گیارہویں ضلع میں رہائشی علاقے عینو مینا کے آخری حصے میں طالبان کے ایک اور اڈے پر حملہ کیا گیا۔ طالبان نے ابھی تک ان حملوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے اور نقصان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔
اسپیشل یونٹ کیا ہے؟
ملا ہیبت اللہ کی اسپیشل فورسز یونٹ، جسے طالبان عمری یونٹ (یا طالبان کے سابق چیف ملا عمر) کے نام سے جانتے ہیں قائم ہے۔
یہ یونٹ جو قندھار شہر کے شمالی مضافات میں میانکو پہاڑ کے دامن میں واقع ہے، یہاں پر اس علاقے میں طالبان کے سابق رہنما ملا محمد عمر کا سابقہ گھر تھا، جسکو اب ملا صاحب کی سرائے کے نام سے جانا جاتا ہے اور اب ملا ہیبت اللہ کی اسپیشل فورسز کا گھر ہے۔ جبکہ ملا ہیبت اللہ منڈیک میں رہائش پذیر ہے۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملا ہیبت اللہ کی اسپیشل فورسز کی تعداد 7000 کے لگ بھگ ہے۔ ان میں سے 1,200 صرف ہیبت اللہ کی سیکیورٹی پر مامور ہیں۔
یونٹ کا کمانڈر ہیبت اللہ کا قریبی ساتھی ملا عبدالاحد ہے جسے “طالب مولوی” کے نام سے جانا جاتا ہے کمانڈ کرتا ہے۔
اس یونٹ کی افغانستان کے کئی صوبوں میں شاخیں ہیں جن میں کابل، ننگرہار، پکتیا، لوگر، قندوز، بدخشاں، پنجشیر اور نمروز شامل ہیں۔ اسکا کام ملا ہیبت اللہ کا حکومتی معاملات پر گرفت مضبوط کرنا، ہر صوبے کی انفارمیشن ملا صاحب کو پہنچانا، اور اسکو اپڈیٹ رکھنا بھی ہے۔ اور انکے حکم عدولی کی صورت میں ڈائریکٹ عمل کرنا ہے۔
امریکن کی افغانستان امد کے دروان اسی جگہ پر انگلینڈ، امریکن اور کینیڈین تھرڈ ڈویژن فورسز کا مسکن تھا، اسکے علاوہ امریکی انٹیلی جنس سروس کی جنوبی ایشیا شاخ بھی اسپیشل فورسز یونٹ کے ساتھ ملا صاحب کے سرائے میں رہائشی تھے۔
طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد، 3rd ڈویژن کے تمام فوجی اور مختلف آلات ملا ہیبت اللہ کے اسپیشل فورسز یونٹ کو منتقل کر دیے گئے۔ جو ابھی بھی انکے زیر استعمال ہے، اور انکی مالی فراوانی بھی تمام فورسز یونٹس سے زیادہ ہے۔
یہ یونٹ ملا ہیبت اللہ کے سب سے قریب ہے اور منٹوں میں اس تک پہنچ سکتا ہے۔ اس یونٹ کے پاس امریکی افواج سے بچا ہوا اسلحہ اور سازوسامان ہے، جو کہ شاید دوسرے فوجی دستوں میں دستیاب نہ ہوں۔ جبکہ اس یونٹ کے اختیارات بھی خصوصی ہے۔
ملا سرائے پر حملوں کے بعد مقامی سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے، کہ فورسز کو ایمرجنسی اختیارات دئے گئے ہیں اور علاقے جو ویسے بھی عمومی شہری کے لئے جائے ممنوع تھی، اب بالکل لمیٹڈ کرفیو ہے، اور معاملات اس یونٹ کے پاس چلے گئے ہیں۔