نئی دہلی: بھارت کے شہر وارانسی میں دریائے گنگا میں کشتی پر افطار کرنے والے 14 نوجوانوں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ پولیس کے مطابق کارروائی ایک شکایت موصول ہونے کے بعد کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق نوجوان کشتی میں افطار کر رہے تھے کہ ایک بی جے پی یوتھ رہنما کی شکایت پر ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ شکایت میں الزام لگایا گیا کہ افطار کے دوران چکن بریانی کھائی گئی اور مبینہ طور پر بچا ہوا کھانا دریا میں پھینکا گیا، جس سے مذہبی جذبات مجروح ہوئے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور قانونی کارروائی قانون کے مطابق کی جا رہی ہے۔ تاحال ملزمان یا ان کے اہل خانہ کی جانب سے باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب اس واقعے پر سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے، یہ واقعہ بھارت میں مذہبی آزادی اور بڑھتی ہوئی انتہا پسندی پر ایک بار پھر بڑا سوالیہ نشان بن گیا۔
دیکھئیے:راولپنڈی میں افغان ڈرون حملے کی افواہ؛ بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹ کا جھوٹا بیانیہ بے نقاب