ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹریٹ نے ایک اہم پیش رفت میں کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ جاری بیان کے مطابق اس واقعے میں ان کے بیٹے مرتضیٰ لاریجانی، کونسل کے ڈپٹی سکیورٹی افسر علی رضا بیات اور محافظوں کا ایک گروپ بھی مارا گیا۔ ایرانی حکام نے اس واقعے کو ایک سنگین حملہ قرار دیتے ہوئے مزید تفصیلات جاری کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ علی لاریجانی کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے بیٹے کے ہمراہ تہران میں ایک خفیہ مقام پر موجود تھے۔ اس سے قبل اسرائیلی وزیر دفاع نے بھی اعلان کیا تھا کہ ایران کی اعلیٰ سکیورٹی قیادت کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس میں لاریجانی کے ساتھ بسیج ملیشیا کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی کی ہلاکت کا دعویٰ بھی شامل تھا۔ بعد ازاں ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے غلام رضا سلیمانی کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ’’بزدلانہ قتل‘‘ قرار دیا۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے تہران کے مختلف علاقوں میں دس سے زائد مقامات پر کارروائیاں کیں جن میں بسیج فورسز کو نشانہ بنایا گیا۔ بسیج ایک رضاکار ملیشیا ہے جس کے بارے میں اندازہ ہے کہ اس کے لاکھوں ارکان ہیں اور یہ داخلی سکیورٹی و نظم و نسق میں اہم کردار ادا کرتی ہے، جبکہ یہ براہِ راست پاسدارانِ انقلاب کے زیرِ کنٹرول کام کرتی ہے۔
یاد رہے کہ علی لاریجانی کو آخری بار 13 مارچ کو تہران میں یوم القدس ریلی کے دوران دیکھا گیا تھا۔ وہ انقلابِ ایران کے بعد ابھرنے والی اہم سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے تھے اور ایک بااثر مذہبی و سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ نجف میں پیدا ہونے والے لاریجانی نے پاسدارانِ انقلاب میں شمولیت کے بعد ایران کی داخلی سیاست، پارلیمنٹ اور خارجہ پالیسی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ طویل عرصے تک ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر رہے اور جوہری پروگرام کے چیف مذاکرات کار کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان تناؤ پہلے ہی عروج پر ہے۔ تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات اور آزاد ذرائع سے تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔