مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ فضا سے ہوتی ہوئی سمندر میں داخل ہو کر پانی اور تیل کی لائف لائن تک پہنچ گئی ہے، جو اب حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ پچھلے تین دنوں کے بیانات و پسِ پردہ چلنے والی خاموش حرکات کا بغور جائزہ لیا جائے، تو جنگ کے دو پہلو کسی حد تک واضح ہوتے جا رہے ہیں۔ ایرانی رجیم کی جانب سے یہ اعلان کہ آبنائے ہرمز سے صرف وہی آئل ٹینکر گزر سکے گا جو امریکی ڈالر کی بجائے چینی کرنسی رینمنبی یوآن میں تجارت کرے گا، جس سے یہ عقدہ کھلا کہ یہ جنگ درحقیقت دو بلاکوں کی جنگ بن چکی ہے۔ دنیا شروع دن سے جس مخمصے کا شکار تھی کہ آخر اس جنگ کا مقصد کیا ہے؟ ایرانی اعلان کے بعد صورتحال کسی حد تک واضح ہو چکی ہے، اور دنیا کے لیے اپنی خارجہ پالیسیوں کو مرتب کرنا قدرے آسان ہو گیا ہے۔
ایران کی دو ظالمانہ طاقتوں کے سامنے ڈٹ جانے کی وجہ بھی سامنے آگئی ہے کہ پسِ پردہ رہ کر دشمن کے اہداف کو چن چن کر ہٹ کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ چین کی سائبر طاقت، دولت اور عسکری مہارت کام کر رہی ہے۔ یوآن کرنسی کا پتہ پھینک کر چین نے امریکہ کو تقریباً کارنر کر دیا ہے۔ اسی طرح ایران بھی خلیجی ممالک پر حملوں اور معاشی دباؤ کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ جنگ کی اب تک کی صورتحال کے مطابق چائنا اپنے پتے بڑے احسن طریقے سے کھیل رہا ہے۔ جنگ میں کون کس کو کس حد تک استعمال کر رہا ہے؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ فی الحال تو دونوں کا مشترکہ ہدف ایک ہی ہے اور وہ ہے امریکہ۔ خلیج اب چینی اور امریکی ٹیکنالوجی، مواصلاتی نظام اور ڈیجیٹل جاسوسی کا میدانِ جنگ بن چکا ہے۔
امریکیوں و اسرائیلیوں نے جنگ کی منصوبہ بندی کرتے وقت اس پہلو پر شاید اتنا نہیں سوچا ہوگا کہ چائنا اس حد تک گہرائی میں اتر سکتا ہے۔ بہرحال امریکہ و اسرائیل کو اب نئے سرے سے اپنی عسکری منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔ یوں محسوس ہو رہا ہے کہ چین و ایران کو کارنر کرنے کے لیے جزیرہ “خارگ” کی دفاعی لائن کی تباہی، جزیرہ کرج پر قبضے سمیت آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنا امریکہ کا نصب العین بن چکا ہے۔ زمینی کاروائی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ایرانی ساحلوں پر اتارنے کے لیے ایمفیبیئس ریڈی گروپ (اے آر جی) سے منسلک 22 سب میرینز سمیت بی-52 برطانیہ سے مشرقِ وسطیٰ کی طرف روانہ ہو چکے ہیں، جو اسی سلسلے کی کڑی معلوم ہوتی ہے کہ چائنا سے براہِ راست الجھنے کی بجائے اس سے کس طرح نمٹا جائے؟
موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر امریکہ کے لیے یورپ کو اب جنگ میں شامل کرنا ناگزیر ہو چکا ہے، لیکن اس کا انحصار یورپی یونین کے متفقہ فیصلے پر ہے۔ اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ جنگ اتنی آسانی سے بند ہوتی ہوئی نظر نہیں آرہی۔ ایک احتمال یہ بھی ہے کہ چائنا کو کارنر کرنے کے لیے امریکہ تائیوان کارڈ کسی وقت بھی استعمال کر سکتا ہے۔ حالیہ چند ماہ کے دوران تائیوان کو اسلحے کی سپلائی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس سارے کھیل میں جو سب سے زیادہ فائدہ اٹھا رہا ہے وہ روس ہے۔ راقم کی رائے میں روس ڈبل گیم کر رہا ہے، لیکن یہ کھیل زیادہ دیر تک چلتا ہوا نظر نہیں آرہا۔
ایک جانب ٹرمپ کی ایونجیلیکل مسیحی حلقوں میں جنگ کے لیے دعائیہ اجتماعات میں مسلسل شرکت، تو دوسری جانب صہیونی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کا یہ کہنا کہ ان کی فوجی کارروائی دراصل “مسیحا کی واپسی” کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس سے عالمی سطح پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ اس میں کوئی اچھنبے کی بات نہیں؛ صلیبی تاریخ اٹھا کر دیکھیں کہ صلیبی جنگوں کے آغاز کی بنیاد ہی ایسے انتہا پسند مذہبی و سیاسی پیشواؤں کی تحریکوں سے ہوا، جسے ہمیشہ مذہبی ٹچ دیا گیا۔ لبنان میں 2006 کی جنگ میں لیطانی ڈیم پر ہونے والی کارروائیوں کو مذہبی عقیدے یا نظریاتی اقدام سے تعبیر کیا گیا۔
بھارت میں دہائیوں سے اور خاص کر مودی اینڈ کمپنی نے “اکھنڈ بھارت” کی مذہبی جنونیت کی آڑ میں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور خاص کر پاکستان میں کئی دہائیوں سے دہشت گردی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ اور تو اور، پڑوسی ملک بھی انقلاب کے لبادے میں یہی کھیل کھیلتا چلا آرہا ہے، جس کا خمیازہ آج تک خطے کے مسلمان ہی بھگتے چلے آرہے ہیں۔ جب کوئی بھی بیانیہ عدل و انصاف سے ہٹ کر تعصب اور ہوسِ ارض کی بنیاد پر لانچ کیا جاتا ہے، تو وہ انسانیت کی تباہی و بربادی کا باعث بنتا ہے۔
نیتن یاہو کا یہ کہنا کہ اس کی فوجی کارروائیاں “مسیح کا انتظار” ہے، تو دنیائے اسلام کو سمجھ لینا چاہیے کہ مسیح کے انتظار سے مراد دجال ہی ہے، جس کا صاف مطلب صہیونی وزیرِ اعظم کی جنگ عالمِ اسلام کے خلاف ہی ہے۔ 9/11 سے لے کر اب تک پاکستان سے لے کر مشرقِ وسطیٰ کے مسلم ممالک تک کو رگیدنا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ ثلاثہ کی موجودہ جنگ درحقیقت آپریشن طوفان الاقصیٰ کا ہی تسلسل ہے، جس کا مین مقصد ہی مسلم معاشروں میں مختلف خیالات کو تقسیم و کمزور کر کے دجال کی راہ ہموار کرنا ہے۔ دجالی ساہوکار اپنے مسیحا کے لیے باؤلے ہوتے جا رہے ہیں۔ عالمی برادری شاید آنے والی اس ہولناک سنگینی کا اندازہ نہیں لگا پا رہی۔ اس سے قبل کہ پانی سر سے گزر جائے، عالمی برادری اس جنگ کو بند کروانے کے لیے پورے وسائل استعمال کرے، ورنہ یہ تیسری عالمی جنگ کی تمہید بن سکتی ہے۔
پاکستان اس ساری پیچیدہ صورتحال کو بصیرت افروز طریقے سے ہینڈل کرتا چلا آرہا ہے، ورنہ پاکستان میں بیٹھے ہوئے بعض ناسمجھ سوشل میڈیا کے ذریعے فرقہ وارانہ شعلوں کو بھڑکانے اور حکومتِ پاکستان کو بلیک میل کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑ رہے۔ پاکستان ایک ایسے پل صراط پر کھڑا ہے جس کی ایک جانب امریکہ تو دوسری جانب چائنا ہے، ایک جانب ایران تو دوسری جانب سعودی عرب (الحرمین الشریفین) ہیں، جس کی سیکیورٹی کی ذمہ داری بھی پاکستان کے ناتواں کندھوں پر ہے۔ کسی بھی غیر متوقع صورتحال میں معاہدے کی رو سے اخلاقی، قانونی اور شرعی طور پر پاکستان سعودی عرب کا مکمل ساتھ دینے کا پابند ہے، چاہے کسی کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ گزرے۔ جنگ کا دائرہ کار اگر مزید پھیلتا ہے، تو لامحالہ یہ جنگ گوادر سے ہوتی ہوئی کشمیر تک پہنچے گی۔ بہرحال قوم کو کسی بھی ناگہانی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے ہمہ تن تیار رہنا ہوگا۔ آسان لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ جنگ مذہبی کور میں خطے میں اپنے اپنے مفاد و وسائل پر قبضے کی جنگ ہے، لیکن اس کی قیمت پاکستان سے لے کر خلیجی مسلم ممالک سے وصول کی جا رہی ہے۔